ماوراءالنہر اور خراسان میں قائم ہونے والی فارسی نژاد سلطنت، جسے عباسی خلافت کی طرف سے گورنری کا درجہ حاصل تھا۔ اسی دور میں فارسی زبان و ادب کا احیاء ہوا۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
عباسی خلیفہ کی طرف سے ماوراءالنہر کی گورنری ملنے کے بعد سامانی خاندان نے مقامی خودمختاری حاصل کی اور بخارا کو علم و تجارت کا اہم مرکز بنایا۔
زوال کے اسباب
اندرونی جانشینی کے تنازعات اور ترک غلام فوجی کمانڈروں کے بڑھتے اثر و رسوخ نے سلطنت کو کمزور کیا، یہاں تک کہ 999ء میں قراخانیوں اور غزنویوں نے اسے تقسیم کر لیا۔
حکمران (11)
احمد بن اسد سامانی
819ء – 864ءسامانی خودمختاری کی بنیاد رکھی۔
نصر بن احمد اول
864ء – 892ءخاندان کی حکمرانی کو ماوراءالنہر میں مستحکم کیا۔
اسماعیل سامانی
892ء – 907ءسلطنت کو مستحکم کیا اور بخارا کو دارالحکومت بنایا۔
احمد بن اسماعیل ثانی
907ء – 914ءوالد کی پالیسیوں کا تسلسل رکھا، بعد میں قتل ہوئے۔
نصر بن احمد ثانی
914ء – 943ءان کے دور میں فارسی شاعری، بالخصوص رودکی جیسے شعراء کی سرپرستی ہوئی۔
نوح بن نصر اول
943ء – 954ءاسماعیلی تحریک کے دباؤ کا مقابلہ کیا۔
عبدالملک بن نوح اول
954ء – 961ءمختصر دور، ترک غلام کمانڈروں کا اثر بڑھنے لگا۔
منصور بن نوح اول
961ء – 976ءبخارا میں علمی سرگرمیوں کی سرپرستی جاری رکھی۔
نوح بن منصور ثانی
976ء – 997ءسبکتگین کو غزنی کی گورنری دی، جس سے غزنوی سلطنت کا آغاز ہوا۔
منصور بن نوح ثانی
997ء – 999ءمختصر و کمزور دور۔
عبدالملک بن نوح ثانی
999ءآخری سامانی امیر — قراخانیوں اور غزنویوں کے ہاتھوں سلطنت تقسیم ہوئی۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔