مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · ایران و وسطی ایشیا

سلطنتِ سامانیہ

الدولة السامانية

819ء (203ھ) – 999ء (389ھ)180 برس

آغاز819ء (203ھ)
اختتام999ء (389ھ)
مدت180 برس
خطہایران و وسطی ایشیا
بانیاحمد بن اسد سامانی
دارالحکومتبخارا

ماوراءالنہر اور خراسان میں قائم ہونے والی فارسی نژاد سلطنت، جسے عباسی خلافت کی طرف سے گورنری کا درجہ حاصل تھا۔ اسی دور میں فارسی زبان و ادب کا احیاء ہوا۔

تاریخی تسلسل

  1. ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
  2. خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
  3. بنو امیہ 662ء–750ء
  4. بنو عباس 748ء–1258ء
  5. سلطنتِ سامانیہ
  6. سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء

عروج کے اسباب

عباسی خلیفہ کی طرف سے ماوراءالنہر کی گورنری ملنے کے بعد سامانی خاندان نے مقامی خودمختاری حاصل کی اور بخارا کو علم و تجارت کا اہم مرکز بنایا۔

زوال کے اسباب

اندرونی جانشینی کے تنازعات اور ترک غلام فوجی کمانڈروں کے بڑھتے اثر و رسوخ نے سلطنت کو کمزور کیا، یہاں تک کہ 999ء میں قراخانیوں اور غزنویوں نے اسے تقسیم کر لیا۔

حکمران (11)

  1. احمد بن اسد سامانی

    819ء – 864ء

    سامانی خودمختاری کی بنیاد رکھی۔

  2. نصر بن احمد اول

    864ء – 892ء

    خاندان کی حکمرانی کو ماوراءالنہر میں مستحکم کیا۔

  3. سلطنت کو مستحکم کیا اور بخارا کو دارالحکومت بنایا۔

  4. احمد بن اسماعیل ثانی

    907ء – 914ء

    والد کی پالیسیوں کا تسلسل رکھا، بعد میں قتل ہوئے۔

  5. ان کے دور میں فارسی شاعری، بالخصوص رودکی جیسے شعراء کی سرپرستی ہوئی۔

  6. نوح بن نصر اول

    943ء – 954ء

    اسماعیلی تحریک کے دباؤ کا مقابلہ کیا۔

  7. عبدالملک بن نوح اول

    954ء – 961ء

    مختصر دور، ترک غلام کمانڈروں کا اثر بڑھنے لگا۔

  8. منصور بن نوح اول

    961ء – 976ء

    بخارا میں علمی سرگرمیوں کی سرپرستی جاری رکھی۔

  9. نوح بن منصور ثانی

    976ء – 997ء

    سبکتگین کو غزنی کی گورنری دی، جس سے غزنوی سلطنت کا آغاز ہوا۔

  10. منصور بن نوح ثانی

    997ء – 999ء

    مختصر و کمزور دور۔

  11. عبدالملک بن نوح ثانی

    999ء

    آخری سامانی امیر — قراخانیوں اور غزنویوں کے ہاتھوں سلطنت تقسیم ہوئی۔