دہلی کے قلعے میں آخری مغل بادشاہ پر بغاوت کا مقدمہ چلا؛ انہیں مجرم قرار دے کر رنگون جلاوطن کیا گیا جہاں 1862ء میں ان کا انتقال ہوا اور تین سو سالہ مغل سلطنت کا عملاً خاتمہ ہو گیا۔
1857ء کی بغاوت کے دوران بہادر شاہ ظفر کو بغاوت کا علامتی رہنما تسلیم کیا گیا تھا۔ ستمبر 1857ء میں دہلی کے سقوط کے بعد وہ ہمایوں کے مقبرے میں پناہ گزین ہوئے، اور کیپٹن ہڈسن نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیا گیا اور ان کے سر بادشاہ کو پیش کیے گئے۔
جنوری سے مارچ 1858ء تک دہلی کے لال قلعے کے دیوانِ خاص میں ان پر بغاوت اور قتل کی سازش کا مقدمہ چلا، جس میں ان کی عمر (تقریباً 82 برس) اور کمزوری کے باوجود سزا سنائی گئی۔ عدالت نے انہیں مجرم قرار دے کر جلاوطنی کی سزا دی۔ اکتوبر–دسمبر 1858ء میں انہیں رنگون (برما) بھیج دیا گیا۔
انہیں ایک معمولی مکان میں نظر بند رکھا گیا جہاں 7 نومبر 1862ء کو ان کا انتقال ہوا۔ ان کا ایک مشہور شعر ہے کہ کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے، دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں۔ ان کے ساتھ ہی تین صدیوں پر محیط مغل خاندان کی حکمرانی کا رسمی خاتمہ ہو گیا۔