ڈاکٹر انصاریؒ کی قیادت میں جنوری 1920ء میں وائسرائے سے ملاقات ہوئی، اور مولانا محمد علی جوہر کی سربراہی میں ایک وفد لندن گیا تاکہ ترکی کے مؤقف کو پیش کیا جائے؛ دونوں مشن بے نتیجہ رہے۔
تحریکِ خلافت کی قیادت نے ابتدا میں آئینی اور پرامن ذرائع اختیار کیے۔ جنوری 1920ء میں ڈاکٹر مختار احمد انصاری کی قیادت میں ایک وفد نے وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ سے ملاقات کر کے ترکی کے ساتھ منصفانہ سلوک اور خلافت کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ وائسرائے نے ہمدردی کا اظہار کیا مگر عملی وعدے نہ کیے۔
مارچ 1920ء میں مولانا محمد علی جوہر کی سربراہی میں ایک وفد لندن گیا جس نے وزیرِ اعظم لائیڈ جارج سے ملاقات کی اور یورپی پریس اور سیاست دانوں کو ترکی کے حق میں دلائل دیے۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے جواب میں کہا کہ ترکی نے اتحادیوں کے خلاف جنگ کی اس لیے وہ رعایت کا حق دار نہیں۔
ان وفود کی ناکامی نے تحریک کو زیادہ سخت اقدامات کی طرف مائل کر دیا۔ 10 اگست 1920ء کو معاہدۂ سیورے کی شرائط سامنے آئیں تو مسلمانوں نے ترکِ موالات اور ہجرت جیسے اقدامات کا راستہ اختیار کیا۔