مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام (ڈھاکہ)

30 دسمبر 1906ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ30 دسمبر 1906ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

ڈھاکہ میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے موقع پر نواب سلیم اللہ کی تجویز پر آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی، جس کا مقصد مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ تھا۔

شملہ وفد کے بعد مسلمانوں کی ایک ملک گیر سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کی گئی۔ 27 تا 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں 'آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس' کا اجلاس ہوا، جس میں نواب وقار الملک کی صدارت میں نواب سلیم اللہ خان نے نئی جماعت کے قیام کی تجویز پیش کی۔ اجلاس نے 'آل انڈیا مسلم لیگ' کے نام سے تنظیم بنانے کی قرارداد منظور کی۔

سر آغا خان کو جماعت کا پہلا اعزازی صدر مقرر کیا گیا اور مرکز علی گڑھ اور بعد میں لکھنؤ میں قائم ہوا۔ اس کے اہم مقاصد میں مسلمانوں میں حکومتِ برطانیہ کی وفاداری کا جذبہ، مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت اور دیگر برادریوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی کوشش شامل تھے۔

ابتدا میں لیگ ایک اشرافی جماعت تھی، مگر جناح کی شمولیت (1913ء) اور لکھنؤ میثاق (1916ء) کے بعد اس نے ایک زیادہ متحرک سیاسی طاقت کی صورت اختیار کی، اور 1940ء کی قراردادِ لاہور کے بعد وہ برصغیر کے مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت بن گئی جس کی قیادت میں پاکستان قائم ہوا۔

تاریخِ پاکستان

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں