صوبوں کو خود مختاری ملی، سندھ کو بمبئی سے الگ صوبہ بنانے کی راہ ہموار ہوئی اور وفاقی نظام کی بنیاد رکھی گئی؛ 1937ء کے انتخابات اسی قانون کے تحت ہوئے۔
گول میز کانفرنسوں کی بنیاد پر برطانوی پارلیمنٹ نے اگست 1935ء میں قانونِ حکومتِ ہند منظور کیا، جو برطانوی ہند کا سب سے طویل قانون تھا۔ اس میں ایک 'آل انڈیا فیڈریشن' کا تصور پیش کیا گیا جس میں برطانوی ہند کے صوبے اور دیسی ریاستیں شامل ہوتیں، مگر ریاستوں کے حکمرانوں کی رضامندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ حصہ کبھی نافذ نہ ہو سکا۔
صوبائی سطح پر دو عملی نظام (ڈائی آرکی) ختم کر دیا گیا اور صوبوں کو خود مختاری دی گئی، جس میں منتخب وزارتیں بنیادی محکمے چلاتی تھیں، مگر گورنر کو خصوصی اختیارات حاصل رہے۔ ووٹروں کی تعداد بڑھا کر تقریباً دس گنا (آبادی کا تقریباً 14 فیصد) کر دی گئی۔ سندھ کو 1936ء میں بمبئی سے علیحدہ صوبہ بنا دیا گیا اور اڑیسہ کو بھی الگ کیا گیا؛ برما کو ہندوستان سے جدا کر دیا گیا۔
جداگانہ انتخاب برقرار رکھا گیا اور اقلیتوں کو تحفظات دیے گئے۔ 1937ء کے انتخابات اسی قانون کے تحت ہوئے، اور آزادی کے بعد بھارت اور پاکستان دونوں نے عبوری طور پر اسی قانون کو ترمیم کے ساتھ اپنے آئین کے طور پر اپنایا۔