انتخابات میں کانگریس نے گیارہ میں سے سات صوبوں میں حکومتیں بنائیں جبکہ مسلم لیگ مسلم نشستوں کے بڑے حصے میں کامیاب نہ ہو سکی؛ اس شکست نے لیگ کی تنظیمِ نو کا عمل تیز کر دیا۔
1935ء کے قانون کے تحت پہلے صوبائی انتخابات فروری 1937ء میں ہوئے۔ کانگریس نے ملک گیر سطح پر مضبوط تنظیم کے ساتھ حصہ لیا اور گیارہ میں سے پانچ صوبوں میں واضح اکثریت حاصل کی؛ بعد میں مزید صوبوں میں اتحادی حکومتیں بنا کر سات صوبوں میں وزارتیں سنبھالیں۔ مسلم لیگ نے مسلم نشستوں میں سے، جو کل تقریباً 482 تھیں، تقریباً 106 پر کامیابی حاصل کی اور بہت سے مسلم اکثریتی صوبوں (پنجاب اور بنگال) میں اسے کامیابی نہ مل سکی۔
یو پی میں لیگ نے کانگریس کے ساتھ مخلوط حکومت کی بات چیت کی، مگر کانگریس نے شرط رکھی کہ لیگ کو اپنی علیحدہ سیاسی حیثیت ختم کر کے کانگریس میں ضم ہونا ہو گا، جس سے مذاکرات ناکام ہوئے۔ اس سے لیگ کے رہنماؤں میں یہ احساس بڑھا کہ کانگریس مسلمانوں کو الگ سیاسی طاقت ماننے پر تیار نہیں۔
الیکشن کی شکست نے مسلم لیگ کو اپنی تنظیم عوامی سطح پر پھیلانے پر مجبور کیا۔ جناح نے پنجاب اور بنگال کی صوبائی جماعتوں سے معاہدے کیے، اور آنے والے برسوں میں لیگ کی رکنیت اور عوامی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔