مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

تحریکِ ترکِ موالات (عدم تعاون) کا آغاز

اگست 1920ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخاگست 1920ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

خلافت کمیٹی اور بعد ازاں کانگریس نے سرکاری خطابات، اسکولوں، عدالتوں اور کونسلوں کے بائیکاٹ پر مبنی عدمِ تعاون کی تحریک کا آغاز کیا۔

معاہدۂ سیورے کے بعد خلافت کمیٹی نے 1920ء میں عدم تعاون اور ترکِ موالات کی تحریک کا اعلان کیا۔ اس کے چار نکات تھے: سرکاری خطابات اور اعزازات کی واپسی، سرکاری ملازمتوں اور فوج کی ملازمت سے استعفیٰ، سرکاری اسکولوں اور عدالتوں کا بائیکاٹ اور کونسلوں کے انتخابات میں عدم شرکت۔ ساتھ ہی سودیشی مصنوعات کے فروغ اور غیر ملکی کپڑے کے بائیکاٹ پر زور دیا گیا۔

یکم اگست 1920ء کو گاندھی نے اپنا قیصرِ ہند کا تمغہ واپس کر دیا اور ستمبر میں کلکتہ کے خصوصی اجلاس اور دسمبر میں ناگپور کے اجلاس میں کانگریس نے بھی عدم تعاون کی تحریک کو اپنا لیا۔ علما نے اس کے حق میں فتاویٰ دیے اور جمعیۃ علمائے ہند نے اس کی بھرپور حمایت کی۔

تحریک نے ہندو مسلم مشترکہ جدوجہد کی ایک بے مثال مثال قائم کی۔ لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا، ہزاروں گرفتار ہوئے، اور کئی قومی تعلیمی ادارے (جیسے جامعہ ملیہ اسلامیہ) قائم ہوئے، مگر پرتشدد واقعات کے بعد گاندھی نے اسے 1922ء میں معطل کر دیا۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں