خلافتِ راشدہ کے بعد قائم ہونے والا پہلا موروثی دورِ حکومت، جس نے اسلامی سلطنت کو اسپین سے وسطی ایشیا تک پھیلایا۔
تاریخی تسلسل
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
امیر معاویہؓ نے فوجی و انتظامی تنظیم اور مستحکم مرکزی حکومت کے ذریعے سلطنت کو استحکام دیا اور دمشق کو دارالحکومت بنایا۔
زوال کے اسباب
عربوں اور نو مسلم مقامی باشندوں کے مابین امتیازی سلوک، ٹیکس کے نظام پر عدم اطمینان اور بنو عباس کی منظم تحریک نے 750ء میں تختہ الٹنے میں مدد دی۔
حکمران (14)
امیر معاویہ بن ابی سفیانؓ
661ء – 680ءخلافت کو مستحکم کیا اور موروثی جانشینی کا آغاز کیا۔
یزید بن معاویہ
680ء – 683ءجانشین کے طور پر تخت نشین ہوئے؛ ان کے دور میں واقعۂ کربلا پیش آیا۔
معاویہ بن یزید (ثانی)
683ء – 684ءچند ماہ کی مختصر خلافت کے بعد خود اقتدار سے کنارہ کش ہو گئے۔
مروان بن الحکم (اول)
684ء – 685ءخانہ جنگی کے دور میں خلافت سنبھالی اور مرج راہط کی جنگ میں اپنے اقتدار کو مستحکم کیا۔
عبدالملک بن مروان
685ء – 705ءعربی کو دفتری زبان بنایا اور قبۃ الصخرہ تعمیر کروائی۔
ولید بن عبدالملک
705ء – 715ءان کے دور میں سلطنت اسپین سے وسطی ایشیا تک پھیلی۔
سلیمان بن عبدالملک
715ء – 717ءقسطنطنیہ کے محاصرے کی تیاری کی، مگر مختصر دور کے دوران وفات پا گئے۔
عمر بن عبدالعزیزؒ
717ء – 720ءعدل و تقویٰ کی بنا پر 'خامس خلفائے راشدین' (پانچویں خلیفہ راشد) کہلائے؛ مالی اصلاحات کیں، مظالم کا ازالہ کیا اور غیر مسلم رعایا کے ساتھ منصفانہ سلوک کو یقینی بنایا۔
یزید بن عبدالملک (ثانی)
720ء – 724ءاندرونی بغاوتوں (جیسے یزید بن مہلب کی) کو کچلا۔
ہشام بن عبدالملک
724ء – 743ءطویل اور مستحکم دورِ حکومت، مگر ان کے دور میں فوجی مہمات (جیسے فرانس میں) کو ناکامیوں کا سامنا رہا۔
ولید بن یزید (ثانی)
743ء – 744ءان کا مختصر اور متنازع دور خانہ جنگی کا پیش خیمہ بنا۔
یزید بن ولید (ثالث)
744ءبغاوت کے ذریعے اقتدار حاصل کیا، مگر چند ماہ بعد ہی وفات پا گئے۔
ابراہیم بن ولید
744ءمختصر اور متنازع خلافت، مروان ثانی کے ہاتھوں معزول ہوئے۔
مروان بن محمد (ثانی)
744ء – 750ءبنو امیہ کے آخری خلیفہ، جنگِ زاب میں بنو عباس کے ہاتھوں شکست کھا کر مصر میں قتل ہوئے۔
متعلقہ واقعات
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔