برصغیر کی سب سے شاندار مسلم سلطنتوں میں سے ایک، جس نے تعمیرات (تاج محل)، فنِ مصوری اور انتظامی نظام میں گراں قدر ورثہ چھوڑا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے آخری مغل بادشاہ کو معزول کر دیا۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ غوریہ 880ء–1215ء
- سلطنتِ غلاماں 1207ء–1290ء
- خاندانِ خلجی 1291ء–1320ء
- خاندانِ تغلق 1321ء–1414ء
- خاندانِ سادات 1415ء–1451ء
- خاندانِ لودھی 1452ء–1526ء
- مغلیہ سلطنت
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
تیموری نسل کے شہزادے ظہیر الدین بابر نے وسطی ایشیا میں اپنی سلطنت کھونے کے بعد 1526ء میں پانی پت کی پہلی جنگ میں لودھی سلطنت کو شکست دے کر ہندوستان میں نئی سلطنت کی بنیاد رکھی۔
زوال کے اسباب
اورنگزیب عالمگیر کی طویل جنگوں کے بعد کمزور جانشینوں، مراٹھا و سکھ طاقتوں کے عروج اور یورپی تجارتی کمپنیوں کی مداخلت نے سلطنت کو کمزور کیا، یہاں تک کہ 1857ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے آخری مغل بادشاہ کو معزول کر دیا۔
حکمران (19)
ظہیر الدین بابر
1526ء – 1530ءمغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔
نصیر الدین ہمایوں (پہلا دور)
1530ء – 1540ءبھائیوں کی رقابت اور شیر شاہ سوری کے ہاتھوں شکست کے بعد ایران فرار ہوئے۔
نصیر الدین ہمایوں (دوسرا دور)
1555ء – 1556ءصفوی مدد سے 1555ء میں سوری خاندان کو شکست دے کر دوبارہ تخت سنبھالا۔
جلال الدین اکبر
1556ء – 1605ءرواداری کی پالیسیوں اور مضبوط انتظامی نظام کے ذریعے سلطنت کو مستحکم و وسیع کیا۔
نور الدین جہانگیر
1605ء – 1627ءفنِ مصوری اور باغات کی سرپرستی کی، انتظامی نظام کو مزید مستحکم کیا۔
شاہ جہاں
1628ء – 1658ءتاج محل جیسی شاہکار عمارات تعمیر کروائیں۔
اورنگزیب عالمگیر
1658ء – 1707ءسلطنت کو جغرافیائی طور پر سب سے وسیع کیا، مگر طویل جنگوں نے خزانے پر بوجھ ڈالا۔
بہادر شاہ اول
1707ء – 1712ءاورنگزیب کی وفات کے بعد جانشینی کی جنگ جیت کر تخت نشین ہوئے۔
جہاندار شاہ
1712ء – 1713ءامیر وزیر ذوالفقار خان کے زیرِ اثر مختصر دور۔
فرخ سیر
1713ء – 1719ءسید برادران (وزیر) کے زیرِ اثر تخت نشین ہوئے، بعد میں انہی کے ہاتھوں معزول و قتل ہوئے۔
رفیع الدرجات
1719ءسید برادران کے زیرِ اثر نہایت مختصر دور۔
رفیع الدولہ (شاہ جہاں دوم)
1719ءنہایت مختصر دور۔
محمد شاہ
1719ء – 1748ءطویل دور، مگر 1739ء میں نادر شاہ کے حملے اور دہلی کی لوٹ مار نے سلطنت کو شدید کمزور کیا۔
احمد شاہ بہادر
1748ء – 1754ءمرہٹوں اور وزیرِ اعظم کی رسّہ کشی کے دوران کمزور حکمرانی کی۔
عالمگیر دوم
1754ء – 1759ءوزیرِ اعظم عماد الملک کے زیرِ اثر برائے نام حکمران رہے۔
شاہ جہاں سوم
1759ء – 1760ءنہایت مختصر اور برائے نام دور۔
شاہ عالم دوم
1760ء – 1806ء1764ء کی جنگِ بکسر میں شکست کے بعد عملاً برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیرِ اثر آ گئے۔
اکبر شاہ دوم
1806ء – 1837ءبرائے نام شہنشاہ، حقیقی اقتدار برطانوی کمپنی کے ہاتھ میں تھا۔
بہادر شاہ ظفر
1837ء – 1857ءآخری مغل شہنشاہ — 1857ء کی جنگِ آزادی میں علامتی قیادت کی، ناکامی پر انگریزوں نے معزول کر کے رنگون جلاوطن کیا۔
متعلقہ واقعات
- پانی پت کی دوسری جنگ
- کپتان ہاکنز کی سورت آمد
- سر تھامس رو کا دربارِ جہانگیری میں مشن
- فتاویٰ عالمگیری
- فرخ سیر کا فرمان — بنگال میں کمپنی کو محصول سے استثنا
- مدرسہ رحیمیہ، دہلی — شاہ ولی اللہ کی مسندِ تدریس
- شاہ ولی اللہ کی حجاز سے واپسی — برصغیر میں درسِ حدیث
- نادر شاہ کا حملہ اور دہلی کی لوٹ
- پانی پت کی تیسری جنگ
- جنگِ بکسر
- معاہدۂ الہ آباد — دیوانیِ بنگال کمپنی کے حوالے
- شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کا فتویٰ — ہندوستان دارالحرب
- دہلی پر انگریزوں کا قبضہ
- دہلی میں شاہ عبدالعزیزؒ سے استفادہ
- امیر خان کی فوج میں عسکری تربیت
- اصلاحی تحریک کا آغاز
- جنگِ آزادی 1857ء
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔