برصغیر کے مسلمانوں کی طویل جدوجہدِ آزادی کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو معرضِ وجود میں آنے والی جدید مسلم اکثریتی ریاست — نظریہ پاکستان کی بنیاد پر قائم ہونے والی دنیا کی پہلی اسلامی جمہوریہ۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ غوریہ 880ء–1215ء
- سلطنتِ غلاماں 1207ء–1290ء
- خاندانِ خلجی 1291ء–1320ء
- خاندانِ تغلق 1321ء–1414ء
- خاندانِ سادات 1415ء–1451ء
- خاندانِ لودھی 1452ء–1526ء
- مغلیہ سلطنت 1527ء–1857ء
- برطانوی راج (ہندوستان) 1858ء–1947ء
- اسلامی جمہوریہ پاکستان
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
اس سے الگ ہونے والی ریاستیں:
عروج کے اسباب
برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ سیاسی و ثقافتی تشخص کے مطالبے پر مبنی تحریکِ پاکستان کی کامیابی کے نتیجے میں 1947ء میں تقسیمِ ہند کے ذریعے پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
حکمران (50)
تحریکِ پاکستان کی قیادت کی اور پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔
پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم؛ قراردادِ مقاصد منظور کروائی، 1951ء میں راولپنڈی میں شہید ہوئے۔
خواجہ ناظم الدین (گورنر جنرل)
1948ء – 1951ءسربراہِ مملکتجناح کی وفات کے بعد دوسرے گورنر جنرل بنے، بعد میں وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالا۔
ملک غلام محمد (گورنر جنرل)
1951ء – 1955ءسربراہِ مملکتان کے دور میں 1954ء میں دستور ساز اسمبلی تحلیل کی گئی۔
خواجہ ناظم الدین (وزیرِ اعظم)
1951ء – 1953ءوزیرِ اعظملیاقت علی خان کے بعد وزیرِ اعظم بنے؛ 1953ء میں گورنر جنرل کے ہاتھوں برطرف ہوئے۔
محمد علی بوگرا (وزیرِ اعظم)
1953ء – 1955ءوزیرِ اعظمآئینی مسودے (بوگرا فارمولا) کی کوشش کی؛ دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے دور کے وزیرِ اعظم۔
اسکندر مرزا (گورنر جنرل و پہلے صدر)
1955ء – 1958ءسربراہِ مملکت1956ء کے آئین کے تحت پاکستان کے پہلے صدر بنے؛ 1958ء میں مارشل لاء نافذ کیا اور خود جنرل ایوب خان کے ہاتھوں معزول ہوئے۔
چوہدری محمد علی (وزیرِ اعظم)
1955ء – 1956ءوزیرِ اعظم1956ء کے پہلے آئین کی منظوری کے وزیرِ اعظم۔
حسین شہید سہروردی (وزیرِ اعظم)
1956ء – 1957ءوزیرِ اعظمبنگال کے رہنما، 1956ء–1957ء میں وزیرِ اعظم رہے۔
آئی آئی چندریگر (وزیرِ اعظم)
1957ءوزیرِ اعظمدو ماہ سے کم مدت کے وزیرِ اعظم (اکتوبر–دسمبر 1957ء)۔
فیروز خان نون (وزیرِ اعظم)
1957ء – 1958ءوزیرِ اعظم1958ء کے مارشل لاء سے قبل کے آخری وزیرِ اعظم؛ گوادر کی خریداری کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔
طویل ترین فوجی دورِ حکومت، صنعتی ترقی اور 1962ء کے آئین کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔
1971ء کی جنگ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی (بنگلہ دیش کے قیام) کے دور کے صدر۔
1973ء کا آئین نافذ ہونے تک صدر رہے، بعد میں وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالا۔
نور الامین (وزیرِ اعظم)
1971ءوزیرِ اعظمدسمبر 1971ء میں چند دن کے وزیرِ اعظم (نائب صدر بھی رہے)۔
فضل الٰہی چودھری (صدر)
1973ء – 1978ءسربراہِ مملکت1973ء کے آئین کے تحت زیادہ تر علامتی صدارتی دور۔
1973ء کا متفقہ آئین منظور کروایا؛ 1977ء کے مارشل لاء میں برطرف ہوئے اور 1979ء میں پھانسی پائی۔
1977ء میں مارشل لاء نافذ کیا؛ ان کے دور میں اسلامائزیشن کی پالیسیوں کا آغاز ہوا۔
محمد خان جونیجو (وزیرِ اعظم)
1985ء – 1988ءوزیرِ اعظم1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد وزیرِ اعظم؛ 1988ء میں صدر ضیاءالحق نے برطرف کیا۔
غلام اسحاق خان (صدر)
1988ء – 1993ءسربراہِ مملکتجمہوری حکومتوں کی بحالی کے ابتدائی دور کے صدر۔
کسی مسلم اکثریتی ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم؛ 1990ء میں برطرف ہوئیں۔
اقتصادی نجکاری اور موٹروے منصوبوں کا آغاز کیا؛ 1993ء میں صدر نے برطرف کیا۔
غلام مصطفیٰ جتوئی (نگران وزیرِ اعظم)
1990ءوزیرِ اعظمبے نظیر بھٹو کی برطرفی کے بعد 1990ء کے انتخابات تک نگران وزیرِ اعظم۔
فاروق لغاری (صدر)
1993ء – 1997ءسربراہِ مملکتاٹھارویں ترمیم سے قبل کے صدارتی اختیارات کے دور میں حکومت کی۔
دوبارہ وزیرِ اعظم بنیں؛ 1996ء میں صدر لغاری نے برطرف کیا۔
میر بلخ شیر مزاری (نگران وزیرِ اعظم)
1993ءوزیرِ اعظماپریل 1993ء میں نواز شریف حکومت کی برطرفی کے بعد نگران وزیرِ اعظم، جب تک سپریم کورٹ نے حکومت بحال نہ کی۔
معین قریشی (نگران وزیرِ اعظم)
1993ءوزیرِ اعظمعالمی بینک کے سابق عہدیدار؛ جولائی–اکتوبر 1993ء کے نگران وزیرِ اعظم۔
ملک معراج خالد (نگران وزیرِ اعظم)
1996ء – 1997ءوزیرِ اعظمبے نظیر بھٹو کی برطرفی کے بعد 1997ء کے انتخابات تک نگران وزیرِ اعظم۔
1998ء کے ایٹمی تجربات (یومِ تکبیر) کے وقت وزیرِ اعظم؛ 1999ء کی فوجی کارروائی میں برطرف ہوئے۔
محمد رفیق تارڑ (صدر)
1998ء – 2001ءسربراہِ مملکت1999ء کے فوجی اقتدار کے دوران بھی برائے نام صدر رہے۔
جنرل پرویز مشرف (صدر)
2001ء – 2008ءسربراہِ مملکت1999ء میں اقتدار سنبھالا اور 2001ء سے 2008ء تک صدر رہے۔
ظفر اللہ خان جمالی (وزیرِ اعظم)
2002ء – 2004ءوزیرِ اعظم2002ء کے انتخابات کے بعد وزیرِ اعظم۔
چوہدری شجاعت حسین (وزیرِ اعظم)
2004ءوزیرِ اعظممختصر مدت (جون–اگست 2004ء) کے وزیرِ اعظم۔
شوکت عزیز (وزیرِ اعظم)
2004ء – 2007ءوزیرِ اعظمماہرِ مالیات؛ 2004ء–2007ء میں وزیرِ اعظم۔
محمد میاں سومرو (نگران وزیرِ اعظم)
2007ء – 2008ءوزیرِ اعظم2008ء کے انتخابات تک نگران وزیرِ اعظم۔
آصف علی زرداری (صدر، پہلی مرت)
2008ء – 2013ءسربراہِ مملکتاٹھارویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات پارلیمانی نظام میں منتقل کیے۔
یوسف رضا گیلانی (وزیرِ اعظم)
2008ء – 2012ءوزیرِ اعظماٹھارویں ترمیم کے دور کے وزیرِ اعظم؛ 2012ء میں عدالت کے حکم پر نااہل ہوئے۔
راجہ پرویز اشرف (وزیرِ اعظم)
2012ء – 2013ءوزیرِ اعظماسمبلی کی مدت مکمل ہونے تک وزیرِ اعظم رہے۔
ممنون حسین (صدر)
2013ء – 2018ءسربراہِ مملکتبنیادی طور پر علامتی صدارتی دور۔
سی پیک منصوبے کا آغاز؛ 2017ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نااہل ہوئے۔
میر ہزار خان کھوسو (نگران وزیرِ اعظم)
2013ءوزیرِ اعظم2013ء کے عام انتخابات کے لیے نگران وزیرِ اعظم۔
شاہد خاقان عباسی (وزیرِ اعظم)
2017ء – 2018ءوزیرِ اعظماسمبلی کی مدت مکمل ہونے تک وزیرِ اعظم۔
عارف علوی (صدر)
2018ء – 2024ءسربراہِ مملکتعلامتی صدارتی دور۔
1992ء کے ورلڈ کپ کے کپتان؛ 2018ء میں وزیرِ اعظم بنے اور 2022ء میں تحریکِ عدمِ اعتماد کے ذریعے ہٹائے گئے۔
ناصر الملک (نگران وزیرِ اعظم)
2018ءوزیرِ اعظمسابق چیف جسٹس؛ 2018ء کے انتخابات کے لیے نگران وزیرِ اعظم۔
شہباز شریف (وزیرِ اعظم، پہلا دور)
2022ء – 2023ءوزیرِ اعظم2022ء میں تحریکِ عدمِ اعتماد کے بعد وزیرِ اعظم بنے؛ اگست 2023ء میں اسمبلی کی مدت مکمل ہوئی۔
انوار الحق کاکڑ (نگران وزیرِ اعظم)
2023ء – 2024ءوزیرِ اعظماگست 2023ء سے مارچ 2024ء تک نگران وزیرِ اعظم، فروری 2024ء کے انتخابات کرائے۔
آصف علی زرداری (صدر، دوسری مرت)
2024ء – 2029ءسربراہِ مملکت2024ء میں دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔
شہباز شریف (وزیرِ اعظم، دوسرا دور)
2024ء – 2026ءوزیرِ اعظمفروری 2024ء کے انتخابات کے بعد دوبارہ وزیرِ اعظم منتخب ہوئے (موجودہ)۔
علامہ محمد اقبال
سربراہِ مملکتنظریہ پاکستان کے فکری بانیوں میں شمار ہوتے ہیں (وفات 1938ء، قیامِ پاکستان سے پہلے)۔
متعلقہ واقعات
- قیامِ پاکستان
- تین جون کا منصوبہ
- قانونِ آزادیِ ہند
- قائدِ اعظم کا دستور ساز اسمبلی سے خطاب
- ریڈکلف ایوارڈ
- تقسیم کی ہجرت اور فسادات
- مسئلۂ کشمیر اور پہلی پاک بھارت جنگ
- نکبہ — فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیل کا قیام
- قائدِ اعظم کی وفات
- قراردادِ مقاصد
- لیاقت علی خان کی شہادت
- پاکستان کا پہلا آئین
- 1958ء کا مارشل لاء
- سپارکو کا قیام
- رہبر اول — پاکستان کا پہلا راکٹ
- اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام
- پاک بھارت جنگ 1965ء
- جنگِ 1971ء اور سقوطِ ڈھاکہ
- معارف القرآن کی تکمیل
- آئینِ پاکستان 1973ء کی منظوری
- ڈاکٹر عبدالسلام کو طبیعیات کا نوبل انعام
- تدبرِ قرآن
- وفاقی شرعی عدالت کا قیام
- ریاستِ فلسطین کا اعلان
- بدر اول — پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ
- پاکستان کے ایٹمی تجربات — یومِ تکبیر
- آزمائشی عنوان
ماخذ و وضاحت
یہ فہرست پاکستان کے سربراہانِ مملکت (گورنر جنرل و صدر) اور سربراہانِ حکومت (وزرائے اعظم) دونوں پر مشتمل ہے، جو ایک ہی وقت میں متوازی طور پر (الگ الگ قطاروں میں) دکھائے جاتے ہیں۔ نگران وزرائے اعظم بھی شامل ہیں؛ 1958ء–1973ء اور 1977ء–1985ء کے وہ ادوار جن میں وزیرِ اعظم کا عہدہ موجود نہیں تھا یا خالی رہا، شامل نہیں۔ ایک ہی سال کے اندر ختم ہو جانے والے مختصر ادوار ایک سال کی چوڑائی سے دکھائے جاتے ہیں۔ موجودہ ادوار کے لیے 2026ء علامتی اختتامی سال ہے۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔ مدت 2026ء تک شمار کی گئی ہے۔