مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

انبالہ سازش مقدمہ

1864ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1864ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

مجاہدین کی مالی و افرادی مدد کرنے والے صادق پور (پٹنہ) کے علما، بشمول مولانا یحییٰ علی، کو 'وہابی بغاوت' کے مقدمات میں سزائے کالا پانی دی گئی؛ اس سلسلے کے مقدمات 1870ء تک چلتے رہے۔

عنبیلہ کی مہم کے بعد حکومت نے یہ سراغ لگانے کی کوشش کی کہ سرحد کے مجاہدین کو مالی مدد اور افراد کہاں سے مل رہے ہیں۔ تفتیش کا رخ صادق پور (پٹنہ) کے علما اور ان کے حلقے کی طرف گیا، جو ہندوستان کے مختلف حصوں سے چندہ اور رضاکار جمع کر کے سِتھانہ بھیجتے تھے۔

1864ء میں انبالہ میں سیشن جج کے سامنے مولانا یحییٰ علی، مولانا احمد اللہ اور دیگر پر 'حکومت کے خلاف بغاوت' کی سازش کا مقدمہ چلا۔ عدالت نے بعض کو سزائے موت سنائی، جو بعد میں عمر قید (کالا پانی، جزائرِ انڈمان) میں بدل دی گئی، اور ان کی جائیدادیں ضبط کی گئیں۔ اسی سلسلے میں 1865ء میں پٹنہ اور 1870ء میں مالدہ میں بھی مقدمات چلائے گئے۔

ان مقدمات کو 'وہابی مقدمات' کہا جاتا ہے۔ یہ تحریک کے لیے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوئے، مگر ان کی قربانیاں بعد میں آنے والی آزادی کی تحریکوں کے لیے ایک اخلاقی روایت بنیں، اور مقدمے کے قیدیوں میں سے بعض کا کالا پانی میں انتقال ہوا۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں