بنارس میں ہندو رہنماؤں نے عدالتی زبان سے فارسی رسم الخط (اردو) ہٹا کر دیوناگری رسم الخط رائج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس تنازع نے دونوں برادریوں کی الگ شناخت کے احساس کو گہرا کیا اور سر سید احمد خان کو متاثر کیا۔
اردو زبان مغل دور میں فارسی اور ہندوی کے میل سے پروان چڑھی اور شمالی ہند کے مسلمانوں اور بہت سے ہندوؤں کی مشترک ادبی زبان تھی۔ 1837ء میں فارسی کی جگہ دفتری زبان کے طور پر اردو (فارسی رسم الخط میں) بھی رائج ہوئی تھی۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں ہندو رہنماؤں کی ایک تحریک ابھری کہ عدالتوں اور دفاتر میں دیوناگری رسم الخط (ہندی) کو بھی رواج ملنا چاہیے۔
1867ء میں بنارس کے بابو شیو پرساد اور دیگر رہنماؤں نے اردو کے فارسی رسم الخط کے خلاف تحریک چلائی، اور اس سے دونوں برادریوں کے درمیان زبان کے نام پر اختلافات شروع ہوئے۔ اسی زمانے میں سر سید احمد خان نے، جو اب تک ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے، بنارس کے ایک کمشنر سے یہ بات کہی کہ اب یہ دونوں قومیں شاید کبھی ایک ساتھ مل کر کام نہ کر سکیں۔ اس قول کی صحت اور اس کے پس منظر پر مؤرخین میں بحث ہے۔
اس تنازع نے مسلمانوں میں اردو کے تحفظ کو تہذیبی شناخت کا مسئلہ بنا دیا اور آگے چل کر 1900ء میں یو پی کے گورنر کے دیوناگری کو مساوی حیثیت دینے کے فیصلے پر شدید مسلم ردعمل سامنے آیا۔ یہ زبان کی سیاست علیحدہ مسلم شناخت کی تشکیل کا ایک اہم عنصر بنی۔