مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

منٹو مارلے اصلاحات — جداگانہ انتخاب

1909ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1909ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

قانونِ کونسلاتِ ہند 1909ء نے پہلی بار مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابی حلقے تسلیم کیے، جو مسلم لیگ کی پہلی بڑی سیاسی کامیابی تھی۔

1909ء میں برطانوی سیکرٹری آف اسٹیٹ لارڈ مارلے اور وائسرائے لارڈ منٹو کے نام سے منسوب اصلاحات، جو 'انڈین کونسلز ایکٹ 1909ء' کے ذریعے نافذ ہوئیں، نے مرکزی اور صوبائی قانون ساز کونسلوں کا حجم بڑھایا اور ان میں منتخب ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا۔

سب سے اہم بات یہ تھی کہ مسلمانوں کو جداگانہ انتخابی حلقوں کا حق دیا گیا، یعنی مسلم نشستوں پر صرف مسلم ووٹر اپنے نمائندے چنیں گے۔ یہ 1906ء کے شملہ وفد کے مطالبے کی منظوری تھی۔ مسلمانوں کو اپنی آبادی کے تناسب سے زیادہ نمائندگی (weightage) بھی ملی۔

مسلم لیگ نے اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا، جبکہ کانگریس اور ہندو رہنماؤں نے اسے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کہا۔ جداگانہ انتخاب بعد میں مسلم سیاست میں تحفظات کے بنیادی مطالبے کے طور پر برقرار رہا، یہاں تک کہ 1947ء میں پاکستان کا مطالبہ سامنے آیا۔

تاریخِ پاکستان

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں