مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

شملہ وفد

یکم اکتوبر 1906ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخیکم اکتوبر 1906ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

سر آغا خان کی قیادت میں 35 مسلم رہنماؤں کے وفد نے وائسرائے لارڈ منٹو سے ملاقات کر کے آئینی اصلاحات میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ نمائندگی کا مطالبہ کیا۔

1905ء–1906ء میں برطانیہ میں لبرل پارٹی کی حکومت بننے کے بعد ہندوستان میں آئینی اصلاحات کا امکان تھا۔ مسلم رہنماؤں کو خدشہ تھا کہ اگر انتخابات کا نظام اکثریت کے اصول پر بنایا گیا تو ہندو اکثریت کے مقابلے میں مسلمان ہمیشہ اقلیت ہی رہیں گے اور ان کی نمائندگی برائے نام ہو گی۔

اکتوبر 1906ء میں سر آغا خان کی قیادت میں 35 مسلم رہنماؤں کے وفد نے شملہ میں وائسرائے لارڈ منٹو سے ملاقات کی اور عرضداشت پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو ان کی تعداد ہی نہیں بلکہ ان کی سیاسی اہمیت اور برطانوی سلطنت کی خدمات کے لحاظ سے نمائندگی دی جائے، اور انہیں جداگانہ انتخابی حلقے ملیں۔ وائسرائے نے ہمدردی کا اظہار کیا۔

اس وفد کو مسلم سیاست میں ایک نئی سمت کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مطالبات کی بنیاد پر 1909ء کے قانون میں جداگانہ انتخاب تسلیم کیا گیا، اور اسی سال کے آخر میں ڈھاکہ میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔

تاریخِ پاکستان

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں