نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد قائم ہونے والی پہلی خلافت، جس میں چار خلفائے راشدینؓ نے یکے بعد دیگرے حکومت کی اور اسلامی ریاست کو جزیرہ نما عرب سے باہر پھیلایا۔
تاریخی تسلسل
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں نے متفقہ رہنمائی کے لیے خلیفہ کا انتخاب کیا، اور ابتدائی فتوحات نے کمزور پڑنے والی فارس اور روم کی سلطنتوں کے خلا کو تیزی سے پُر کیا۔
زوال کے اسباب
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اختلافات اور خانہ جنگی (فتنہ) نے خلافت کے اتحاد کو کمزور کیا، اور بالآخر امیر معاویہؓ کے تحت موروثی حکمرانی کا آغاز ہوا۔
حکمران (4)
ابوبکر صدیقؓ
632ء – 634ءجنگِ ردت میں قبائل کی بغاوتیں کچل کر نوزائیدہ ریاست کو بکھرنے سے بچایا؛ حضرت عمرؓ کے مشورے پر پہلی بار پورے قرآنِ مجید کو ایک تحریری مصحف کی صورت میں یکجا کروایا۔
عمر فاروقؓ
634ء – 644ءفارس اور شام کی فتوحات کیں اور بیت المال، عدالتی نظام جیسے انتظامی ادارے قائم کیے۔
عثمانِ غنیؓ
644ء – 656ءحضرت ابوبکرؓ کے دور کے مرتب کردہ مصحف کی بنیاد پر قرآنِ مجید کا ایک معیاری نسخہ تیار کروا کر مختلف علاقوں میں اس کی نقول بھجوائیں، تاکہ قراءتوں کے اختلافات ختم ہو سکیں۔
علی المرتضیٰؓ
656ء – 661ءعدل و انصاف اور علم و فصاحت میں ممتاز، خلافتِ راشدہ کے چوتھے اور آخری خلیفہ — ان کے دور میں داخلی خلفشار (فتنہ) پیدا ہوا جو خلافتِ راشدہ کے اختتام پر منتج ہوا۔
متعلقہ واقعات
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔