مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · عرب و مرکزی خلافت

خلافتِ راشدہ

الخلافة الراشدة

632ء (10ھ) – 661ء (40ھ)29 برس

آغاز632ء (10ھ)
اختتام661ء (40ھ)
مدت29 برس
خطہعرب و مرکزی خلافت
بانیحضرت ابوبکر صدیقؓ
دارالحکومتمدینہ منورہ

نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد قائم ہونے والی پہلی خلافت، جس میں چار خلفائے راشدینؓ نے یکے بعد دیگرے حکومت کی اور اسلامی ریاست کو جزیرہ نما عرب سے باہر پھیلایا۔

تاریخی تسلسل

  1. ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
  2. خلافتِ راشدہ
  3. بنو امیہ 662ء–750ء

عروج کے اسباب

نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں نے متفقہ رہنمائی کے لیے خلیفہ کا انتخاب کیا، اور ابتدائی فتوحات نے کمزور پڑنے والی فارس اور روم کی سلطنتوں کے خلا کو تیزی سے پُر کیا۔

زوال کے اسباب

حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اختلافات اور خانہ جنگی (فتنہ) نے خلافت کے اتحاد کو کمزور کیا، اور بالآخر امیر معاویہؓ کے تحت موروثی حکمرانی کا آغاز ہوا۔

حکمران (4)

  1. جنگِ ردت میں قبائل کی بغاوتیں کچل کر نوزائیدہ ریاست کو بکھرنے سے بچایا؛ حضرت عمرؓ کے مشورے پر پہلی بار پورے قرآنِ مجید کو ایک تحریری مصحف کی صورت میں یکجا کروایا۔

  2. عمر فاروقؓ

    634ء – 644ء

    فارس اور شام کی فتوحات کیں اور بیت المال، عدالتی نظام جیسے انتظامی ادارے قائم کیے۔

  3. عثمانِ غنیؓ

    644ء – 656ء

    حضرت ابوبکرؓ کے دور کے مرتب کردہ مصحف کی بنیاد پر قرآنِ مجید کا ایک معیاری نسخہ تیار کروا کر مختلف علاقوں میں اس کی نقول بھجوائیں، تاکہ قراءتوں کے اختلافات ختم ہو سکیں۔

  4. عدل و انصاف اور علم و فصاحت میں ممتاز، خلافتِ راشدہ کے چوتھے اور آخری خلیفہ — ان کے دور میں داخلی خلفشار (فتنہ) پیدا ہوا جو خلافتِ راشدہ کے اختتام پر منتج ہوا۔

متعلقہ واقعات