مسلم لیگ کے الہ آباد اجلاس میں علامہ اقبالؒ نے شمال مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا، جسے تصورِ پاکستان کا فکری آغاز سمجھا جاتا ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ 1930ء میں مسلم لیگ کے الہ آباد اجلاس کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ اس وقت تک ایک عظیم شاعر اور فلسفی کے طور پر مشہور تھے اور ان کی کتاب 'تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ' (Reconstruction of Religious Thought in Islam) کے خطبات شائع ہو رہے تھے۔ 29 دسمبر 1930ء کے خطبے میں انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام محض عقیدہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی نظامِ حیات ہے، جس کے لیے مسلمانوں کو ایک ایسا سیاسی ماحول درکار ہے جہاں وہ اپنی ثقافتی و قانونی روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ ان کے الفاظ میں 'میں چاہتا ہوں کہ پنجاب، شمالی مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کو ایک ہی ریاست میں ملا دیا جائے'، اور یہ ریاست ہندوستانی وفاق کے اندر ایک خود مختار حیثیت کی حامل ہو گی؛ ان کے نزدیک شمال مغرب میں ایک مسلم ہندوستان کی تشکیل مسلمانوں کے مقدر کا فیصلہ ہے۔
اس خطبے میں 'آزاد ریاست' کے بجائے ایک وفاق کے اندر مسلم اکثریتی صوبوں کے یکجا ہونے کا تصور ملتا ہے؛ تاریخ دان اس کی تعبیر پر بحث کرتے ہیں۔ بہرحال اسے مفکرِ پاکستان کا تصور اور مسلم علیحدگی کے مطالبے کی فکری بنیاد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، اور جناح نے بعد میں اقبال کے خطوط کے حوالے سے اس کی اہمیت تسلیم کی۔