مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

دارالعلوم دیوبند کا قیام

30 مئی 1866ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ30 مئی 1866ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

1857ء کے بعد مسلمانوں کے دینی علوم اور تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے مولانا قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے دیوبند میں دارالعلوم قائم کیا، جو برصغیر کا اہم ترین دینی تعلیمی مرکز بنا۔

1857ء کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کو اپنی دینی اور تہذیبی بقا کا سنگین سوال درپیش تھا۔ دہلی کے سرکاری مدارس بند ہو چکے تھے اور انگریزی حکومت تعلیم کو اپنے مقاصد کے مطابق تشکیل دے رہی تھی۔ ایسے حالات میں شاہ ولی اللہؒ کی روایت کے وارث علما، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حاجی محمد عابد اور دیگر، نے دیوبند میں ایک مدرسہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

30 مئی 1866ء کو ایک انار کے درخت کے نیچے (جو اب 'انار کا درخت' کے نام سے مشہور ہے) پہلا سبق شروع ہوا، جس میں استاد محمود اور شاگرد محمود حسن (جو بعد میں شیخ الہند ہوئے) تھے۔ مدرسہ عوامی چندے سے چلایا گیا، سرکاری امداد قبول نہ کی گئی، اور اس نے درسِ نظامی کو حدیث اور فقہ کی مضبوط بنیادوں پر منظم کیا۔

دارالعلوم دیوبند نے برصغیر میں دینی تعلیم کا ایسا نمونہ فراہم کیا جس کی سیکڑوں شاخیں پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور دنیا بھر میں قائم ہوئیں۔ اس کے فضلا نے علمی، دینی اور سیاسی میدان میں، جن میں تحریکِ آزادی بھی شامل ہے، نمایاں کردار ادا کیا۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیعلمی ارتقاء

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں