مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، علی گڑھ کا قیام

24 مئی 1875ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ24 مئی 1875ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لیے علی گڑھ میں کالج قائم کیا، جو بعد میں مسلم یونیورسٹی بنا اور مسلم سیاسی قیادت کی نرسری ثابت ہوا۔

1857ء کے بعد سر سید احمد خان نے دیکھا کہ مسلمان انگریزی حکومت اور جدید تعلیم دونوں سے دور ہو گئے ہیں، اور حکومت انہیں بغاوت کا ذمہ دار سمجھ رہی ہے۔ انہوں نے 'اسبابِ بغاوتِ ہند' جیسی کتابوں کے ذریعے حکومت کو غلط فہمیوں سے آگاہ کیا اور مسلمانوں سے کہا کہ وہ جدید علوم سیکھیں۔ 1864ء میں غازی پور میں 'سائنٹفک سوسائٹی' قائم کی گئی جس نے مغربی علمی کتب کے اردو تراجم شائع کیے۔

1869ء–1870ء میں انگلستان کے سفر سے واپسی پر سر سید نے آکسفورڈ اور کیمبرج کی طرز پر ایک ادارہ بنانے کا عزم کیا۔ 24 مئی 1875ء کو علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل اسکول (بعد میں کالج) قائم کیا گیا، جہاں دینی تعلیم کے ساتھ جدید سائنس اور انگریزی پڑھائی جاتی تھی۔ 1877ء میں اس کا باقاعدہ سنگِ بنیاد رکھا گیا۔

یہ ادارہ 1920ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔ اس کے فضلا (جیسے مولانا محمد علی جوہر اور لیاقت علی خان) نے آگے چل کر مسلم سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا، اور اسی وجہ سے اسے تحریکِ پاکستان کی 'نرسری' بھی کہا جاتا ہے۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیعلمی ارتقاء

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں