شیخ الہندؒ نے علی گڑھ میں قومی تعلیمی ادارے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سنگِ بنیاد رکھا، جس کے قیام میں مولانا محمد علی جوہر اور حکیم اجمل خان نمایاں تھے۔
عدم تعاون کی تحریک کے دوران سرکاری تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کیا گیا تو مسلم رہنماؤں نے ایسے قومی ادارے بنانے کا منصوبہ بنایا جو حکومت کی سرپرستی سے آزاد ہوں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جو اس وقت سرکاری امداد پر منحصر تھی، کے بعض طلبہ اور اساتذہ نے بھی بائیکاٹ کیا۔ 29 اکتوبر 1920ء کو علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی۔
شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے، جنہیں چند ماہ قبل ہی مالٹا سے رہائی ملی تھی، بیماری کے باوجود افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور اپنا خطبہ پڑھوایا۔ مولانا محمد علی جوہر شیخ الجامعہ (سربراہ) اور حکیم اجمل خان چانسلر کی حیثیت سے نمایاں رہے، جبکہ ڈاکٹر ذاکر حسین اس کی ترقی میں نمایاں رہے۔
1925ء میں جامعہ دہلی منتقل ہو گئی اور آج وہاں ایک بڑی مرکزی یونیورسٹی کی صورت میں موجود ہے۔ یہ ادارہ قومی تعلیم، ہندو مسلم مشترکہ جدوجہد اور جدید و دینی علوم کے امتزاج کی ایک نمایاں مثال ہے۔