قانونِ حکومتِ ہند 1858ء کے تحت ہندوستان کا نظم کمپنی سے لے کر برطانوی ملکہ کے سپرد کیا گیا؛ یکم نومبر کے شاہی اعلان میں مذہبی رواداری کا وعدہ کیا گیا۔ کمپنی کو رسمی طور پر 1874ء میں تحلیل کیا گیا۔
1857ء کی بغاوت کے بعد برطانوی پارلیمنٹ اور حکومت اس نتیجے پر پہنچی کہ ایک تجارتی کمپنی کے ذریعے ہندوستان کا انتظام چلانا مناسب نہیں۔ اگست 1858ء میں 'قانونِ حکومتِ ہند' منظور ہوا، جس کے تحت کمپنی کے تمام اختیارات، فوج اور املاک تاجِ برطانیہ کو منتقل کر دیے گئے اور لندن میں 'سیکرٹری آف اسٹیٹ فار انڈیا' کا عہدہ قائم ہوا۔
یکم نومبر 1858ء کو الہ آباد میں ملکہ وکٹوریہ کا اعلان پڑھ کر سنایا گیا، جس میں وعدہ کیا گیا کہ ہندوستانیوں کے مذہبی عقائد میں مداخلت نہ ہو گی اور انہیں قانون کی نظر میں برابر مانا جائے گا؛ ریاستوں کے الحاق کی پالیسی (ڈوکٹرین آف لیپس) بھی ختم کی گئی۔ 1877ء میں ملکہ کو 'قیصرِ ہند' قرار دیا گیا۔
کمپنی کو رسمی طور پر 1874ء میں تحلیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد 1947ء تک برطانوی ہند کا نظم براہِ راست تاجِ برطانیہ کے تحت رہا، اور 1857ء کے تجربے کی وجہ سے حکومت نے مسلمانوں پر خاص شک اور دباؤ کی پالیسی اختیار کی جو کئی برس جاری رہی۔