مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

جمعیۃ الانصار کا قیام (دیوبند)

1909ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1909ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی سرپرستی میں دیوبند کے فضلا کی تنظیم بنی، جس میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ نمایاں تھے؛ اسے ریشمی رومال تحریک کی تنظیمی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

1909ء میں دارالعلوم دیوبند کے فضلا کی تنظیم 'جمعیۃ الانصار' کا قیام مراد آباد میں ہونے والے اجلاس میں عمل میں آیا جس کی ایک وجہ فارغ التحصیل طلبہ کو منظم اور فعال رکھنا تھا۔ اس کے سرپرست شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ تھے، جبکہ مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے اس کے انتظامی امور سنبھالے۔

بظاہر یہ تنظیم فضلا کے اجتماعات، تعلیمی و اصلاحی کاموں اور ملی مسائل کے لیے قائم ہوئی تھی۔ مگر اندرونِ خانہ شیخ الہندؒ اس کے ذریعے ایسے تربیت یافتہ اور مخلص نوجوانوں کا حلقہ تیار کر رہے تھے جو انگریزی اقتدار کے خلاف عملی جدوجہد کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں۔

جمعیۃ الانصار کے اجتماعات میں سیاسی بیداری اور ملت کے اتحاد کی باتیں ہوتی تھیں۔ حکومت کو اس تنظیم پر شبہ ہوا اور بعد ازاں یہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران شیخ الہندؒ کی خفیہ تحریک، یعنی ریشمی رومال تحریک، کے لیے ایک ابتدائی منظم بنیاد ثابت ہوئی۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں