کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان معاہدہ ہوا جس میں کانگریس نے مسلمانوں کے جداگانہ انتخاب اور صوبائی نمائندگی کا تناسب تسلیم کیا؛ جناح اس کے معمار سمجھے جاتے ہیں۔
1916ء میں پہلی جنگِ عظیم جاری تھی اور ہندوستان میں آئینی اصلاحات کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا۔ اس ماحول میں کانگریس اور مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس ایک ہی وقت (دسمبر 1916ء) لکھنؤ میں منعقد ہوئے، جو دونوں جماعتوں میں مفاہمت کی طرف ایک قدم تھا۔ دونوں جماعتوں کی مشترکہ کمیٹی نے، جس کی تیاری میں جناح نے بنیادی کردار ادا کیا، ایک مشترکہ اصلاحی خاکہ منظور کیا۔
اس معاہدے میں کانگریس نے مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا اصول تسلیم کر لیا اور صوبائی کونسلوں میں مسلمانوں کی نشستوں کا تناسب طے کر دیا گیا، مثلاً پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کو ان کی آبادی سے کم نشستیں ملیں مگر جن صوبوں میں وہ اقلیت میں تھے وہاں انہیں آبادی سے زیادہ نمائندگی دی گئی۔ ساتھ ہی یہ اصول بھی طے ہوا کہ کسی ایسی قرارداد کو، جسے کسی برادری کے تین چوتھائی نمائندے مسترد کر دیں، منظور نہ کیا جائے گا۔
جناح کو اس معاہدے پر 'ہندو مسلم اتحاد کا سفیر' کہا گیا۔ تاہم یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا، اور 1920ء کی دہائی میں جداگانہ انتخاب اور فرقہ وارانہ فسادات نے دونوں جماعتوں کو الگ کر دیا۔