مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

کیبنٹ مشن پلان

1946ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1946ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

برطانوی وزارتی مشن نے تین درجوں پر مشتمل وفاقی منصوبہ پیش کیا جس میں مسلم اکثریتی صوبے ایک گروپ میں تھے؛ مسلم لیگ نے اسے قبول کیا، مگر بعد میں گروپنگ کی تشریح پر کانگریس سے اختلاف کے باعث منصوبہ ناکام رہا۔

1946ء میں برطانوی حکومت نے وزیرِ ہند لارڈ پیتھک لارنس، سر اسٹیفورڈ کرپس اور اے وی الیگزینڈر پر مشتمل کیبنٹ مشن ہندوستان بھیجا، جس کا مقصد اقتدار کی منتقلی کا آئینی حل نکالنا تھا۔ ابتدائی مذاکرات میں شملہ کانفرنس کی طرح اختلافات رہے۔ مسلم لیگ پاکستان کا مطالبہ کر رہی تھی جبکہ کانگریس متحدہ ہندوستان چاہتی تھی۔

16 مئی 1946ء کو مشن نے تجویز پیش کی جس میں پاکستان کی علیحدہ ریاست تو مسترد کر دی گئی مگر ایک کمزور مرکز (صرف خارجہ امور، دفاع اور مواصلات) کے ساتھ صوبوں کو تین گروپوں (گروپ الف: ہندو اکثریتی صوبے، گروپ ب: شمال مغربی مسلم اکثریتی صوبے، گروپ ج: بنگال اور آسام) میں تقسیم کیا گیا جو آئین کا بڑا حصہ خود بنائیں گے۔ مسلم لیگ نے اسے 6 جون کو قبول کر لیا، اس امید کے ساتھ کہ گروپنگ کی شکل میں پاکستان کا ایک روپ ملتا ہے۔ کانگریس نے مشروط قبول کیا مگر جولائی میں نہرو کے بیان میں گروپنگ کی لازمی حیثیت پر شبہ ظاہر کیا۔

اس پر لیگ نے 29 جولائی کو قبولیت واپس لے لی اور 'راست اقدام' کا اعلان کیا۔ یہ منصوبہ ناکام ہوا اور تقسیمِ ہند ناگزیر ہو گئی؛ مؤرخین میں اس بات پر اختلاف ہے کہ اس ناکامی کا زیادہ ذمہ دار کون تھا۔

تاریخِ پاکستان

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں