بمبئی میں جناح اور گاندھی کی بات چیت مسلمانوں کے حقِ خود ارادیت پر اتفاق نہ ہونے کے باعث ناکام ہوئی۔
1944ء میں کانگریس کے کئی رہنماؤں کی جیل سے رہائی کے بعد کانگریس کے سینئر رہنما چکرورتی راج گوپالاچاری نے ایک فارمولا تیار کیا، جس میں جنگ کے بعد شمال مغربی اور شمال مشرقی مسلم اکثریتی علاقوں میں استصوابِ رائے کے ذریعے علیحدگی کی گنجائش رکھی گئی تھی، مگر شرائط بہت مشروط تھیں۔ گاندھی اس بنیاد پر ستمبر 1944ء میں بمبئی میں جناح کے گھر کئی ہفتے تک ملاقاتیں کرتے رہے۔
جناح کا مؤقف تھا کہ پہلے مسلمانوں کا حقِ خود ارادیت اصولاً تسلیم کیا جائے اور علاقے کی حد بندی کا فیصلہ صرف مسلمان رائے دہندگان کریں، جبکہ گاندھی چاہتے تھے کہ علیحدگی کا فیصلہ متحدہ ہندوستان کی مجموعی رائے کے دائرے میں ہو اور سرحدی معاملات و مشترکہ دفاع کا فیصلہ ساتھ ہو۔ دونوں کے درمیان بنیادی اختلاف دور نہ ہو سکا۔
اٹھارہ دن کی بات چیت 27 ستمبر کو بے نتیجہ ختم ہو گئی۔ اس ناکامی کے بعد واضح ہو گیا کہ کانگریس اور لیگ کے درمیان اتحادِ ہند کے ڈھانچے پر سمجھوتہ آسان نہیں ہے، اور تقسیم کی طرف حالات بڑھتے گئے۔