افغانستان کے پہاڑی علاقے غور سے اٹھنے والی سلطنت، جس نے بارہویں صدی کے آخر میں شمالی ہندوستان تک اپنی حکومت پھیلائی اور برصغیر میں مسلم حکمرانی کی بنیاد رکھی۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ غوریہ
- سلطنتِ غلاماں 1207ء–1290ء
- خاندانِ خلجی 1291ء–1320ء
- خاندانِ تغلق 1321ء–1414ء
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
غزنوی سلطنت کے کمزور پڑنے پر غور کے مقامی حکمرانوں نے خودمختاری حاصل کی، اور سلطان معزالدین محمد غوری کی قیادت میں شمالی ہندوستان کی فتوحات نے سلطنت کو وسعت دی۔
زوال کے اسباب
معزالدین محمد غوری کے بے اولاد انتقال (1206ء) کے بعد سلطنت اپنے ترک غلام گورنروں (جیسے قطب الدین ایبک) میں تقسیم ہو گئی، جنہوں نے آزاد سلطنتیں قائم کر لیں۔
حکمران (9)
عزالدین حسین
1141ء – 1146ءغور کے علاقے میں خاندان کی اولین نمایاں حیثیت قائم کی۔
علاء الدین حسین
1149ء – 1161ءفیروزکوہ کو دارالحکومت بنایا۔
سیف الدین محمد
1161ء – 1163ءمختصر دور، غزنویوں کے ساتھ کشیدگی جاری رہی۔
غیاث الدین محمد غوری
1163ء – 1203ءسلطنت کو مستحکم کیا۔
معزالدین محمد غوری
1173ء – 1206ءبرصغیر میں کئی مہمات کے بعد دہلی تک اقتدار قائم کیا، جس سے دہلی سلطنت کی بنیاد پڑی۔
غیاث الدین محمود
1206ء – 1212ءفیروزکوہ کے مرکزی علاقے پر حکومت کی، مگر بیرونی علاقے آزاد ہو گئے۔
بہاء الدین سام سوم
1212ء – 1213ءمختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
علاء الدین اتسز
1213ء – 1214ءخوارزم شاہی دباؤ میں کمزور پڑنے والی سلطنت کے حکمران۔
علاء الدین محمد
1214ء – 1215ءآخری غوری حکمران — خوارزم شاہیوں کے ہاتھوں شکست پر سلطنت کا خاتمہ ہوا۔
متعلقہ واقعات
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔