مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · ایران و وسطی ایشیا

سلطنتِ غوریہ

تقریباً 880ء (266ھ) – 1215ء (612ھ)335 برس

آغازتقریباً 880ء (266ھ)
اختتام1215ء (612ھ)
مدت335 برس
خطہایران و وسطی ایشیا
بانیخاندانِ غور (شنسبانی)
دارالحکومتفیروزکوہ / غزنی

افغانستان کے پہاڑی علاقے غور سے اٹھنے والی سلطنت، جس نے بارہویں صدی کے آخر میں شمالی ہندوستان تک اپنی حکومت پھیلائی اور برصغیر میں مسلم حکمرانی کی بنیاد رکھی۔

تاریخی تسلسل

  1. ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
  2. خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
  3. بنو امیہ 662ء–750ء
  4. بنو عباس 748ء–1258ء
  5. سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
  6. سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
  7. سلطنتِ غوریہ
  8. سلطنتِ غلاماں 1207ء–1290ء
  9. خاندانِ خلجی 1291ء–1320ء
  10. خاندانِ تغلق 1321ء–1414ء

عروج کے اسباب

غزنوی سلطنت کے کمزور پڑنے پر غور کے مقامی حکمرانوں نے خودمختاری حاصل کی، اور سلطان معزالدین محمد غوری کی قیادت میں شمالی ہندوستان کی فتوحات نے سلطنت کو وسعت دی۔

زوال کے اسباب

معزالدین محمد غوری کے بے اولاد انتقال (1206ء) کے بعد سلطنت اپنے ترک غلام گورنروں (جیسے قطب الدین ایبک) میں تقسیم ہو گئی، جنہوں نے آزاد سلطنتیں قائم کر لیں۔

حکمران (9)

  1. عزالدین حسین

    1141ء – 1146ء

    غور کے علاقے میں خاندان کی اولین نمایاں حیثیت قائم کی۔

  2. علاء الدین حسین

    1149ء – 1161ء

    فیروزکوہ کو دارالحکومت بنایا۔

  3. سیف الدین محمد

    1161ء – 1163ء

    مختصر دور، غزنویوں کے ساتھ کشیدگی جاری رہی۔

  4. سلطنت کو مستحکم کیا۔

  5. برصغیر میں کئی مہمات کے بعد دہلی تک اقتدار قائم کیا، جس سے دہلی سلطنت کی بنیاد پڑی۔

  6. غیاث الدین محمود

    1206ء – 1212ء

    فیروزکوہ کے مرکزی علاقے پر حکومت کی، مگر بیرونی علاقے آزاد ہو گئے۔

  7. بہاء الدین سام سوم

    1212ء – 1213ء

    مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  8. علاء الدین اتسز

    1213ء – 1214ء

    خوارزم شاہی دباؤ میں کمزور پڑنے والی سلطنت کے حکمران۔

  9. علاء الدین محمد

    1214ء – 1215ء

    آخری غوری حکمران — خوارزم شاہیوں کے ہاتھوں شکست پر سلطنت کا خاتمہ ہوا۔

متعلقہ واقعات