جناح اور مسلم رہنماؤں نے جداگانہ انتخاب چھوڑنے کے بدلے سندھ کی بمبئی سے علیحدگی، سرحد و بلوچستان میں اصلاحات اور پنجاب و بنگال میں مسلم اکثریت کے تحفظ کی تجاویز پیش کیں۔
1920ء کی دہائی میں ہندو مسلم فسادات اور تحریکِ خلافت کی ناکامی کے بعد مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا۔ سائمن کمیشن (1927ء) کے اعلان کے بعد ضروری تھا کہ مسلمان اپنے آئینی مطالبات کو واضح کریں۔ مارچ 1927ء میں دہلی میں جناح کی قیادت میں مسلم رہنماؤں کا اجلاس ہوا، جس میں چار بنیادی تجاویز مرتب کی گئیں۔
ان تجاویز میں پیشکش کی گئی کہ مسلمان جداگانہ انتخاب کے مطالبے سے دستبردار ہو کر مخلوط انتخاب قبول کر لیں گے، بشرطیکہ سندھ کو بمبئی سے الگ کر کے علیحدہ صوبہ بنایا جائے، سرحد (NWFP) اور بلوچستان میں دیگر صوبوں کی طرح اصلاحات نافذ ہوں، پنجاب اور بنگال میں مسلم اکثریت کے مطابق نمائندگی کی حفاظت ہو، اور مرکزی مقننہ میں مسلمانوں کو ایک تہائی نشستیں ملیں۔
یہ تجاویز مسلمانوں کے اس عملی مؤقف کی ترجمان تھیں کہ وہ مشترکہ وطن میں رہ کر اپنے حقوق کی ضمانت چاہتے ہیں۔ ہندو مہاسبھا اور کانگریس کے ایک بڑے حصے نے انہیں قبول نہ کیا، جس کا اثر 1928ء کی نہرو رپورٹ پر پڑا۔ سندھ کی علیحدگی کا مطالبہ 1936ء میں تسلیم کر لیا گیا۔