لاہور کے منٹو پارک میں مسلم لیگ کے اجلاس میں مولوی اے کے فضل الحقؒ نے قرارداد پیش کی کہ شمال مغربی اور مشرقی مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل 'آزاد ریاستیں' قائم کی جائیں۔ یہ قرارداد مطالبۂ پاکستان کی بنیاد بنی۔
22 تا 24 مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں مسلم لیگ کا تین روزہ اجلاس ہوا۔ 22 مارچ کو جناح نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ ہندو اور مسلمان محض دو مذہب نہیں بلکہ دو الگ تہذیبیں، دو الگ قومیں ہیں، جن کے تصورات، رسوم اور تاریخی ماخذ مختلف ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی سیاسی نظام میں زبردستی جوڑنا مسلم اقلیت کے لیے ناانصافی ہو گی۔
23 مارچ کو بنگال کے وزیرِ اعظم مولوی اے کے فضل الحقؒ نے قرارداد پیش کی، جس کی تائید چوہدری خلیق الزماں (یو پی)، سردار اورنگ زیب خان (سرحد)، عبداللہ ہارون (سندھ) اور دیگر نے کی۔ اس کے مطابق کوئی آئینی منصوبہ مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہ ہو گا جب تک اس میں جغرافیائی اعتبار سے متصل اکائیوں کی ایسی حد بندی نہ ہو کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں، جیسے ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقے، انہیں یکجا کر کے ایسی 'آزاد ریاستیں' بنایا جائے جن کی اکائیاں خود مختار اور اقتدارِ اعلیٰ کی حامل ہوں۔ مولانا ظفر علی خان نے قرارداد کا اردو ترجمہ پیش کیا۔
قرارداد کو مؤرخین 'قراردادِ پاکستان' کہتے ہیں، حالانکہ اس میں پاکستان کا لفظ نہیں تھا (ہندو پریس نے اسے یہ نام دے دیا)۔ 'ریاستوں' کے لفظ کو 1946ء میں دہلی کنونشن میں 'ریاست' سے بدل دیا گیا۔ اس قرارداد نے مسلمانوں کو ایک واضح سیاسی مقصد دیا، اور سات برس کے اندر پاکستان قائم ہو گیا۔ 23 مارچ کو پاکستان میں 'یومِ پاکستان' منایا جاتا ہے۔