مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

قانونِ حکومتِ ہند 1919ء (مانٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات)

دسمبر 1919ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخدسمبر 1919ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

صوبوں میں دوہری حکومت (ڈائی آرکی) رائج ہوئی، جس میں محکمے منتخب وزرا اور گورنر کے درمیان تقسیم ہوئے؛ مسلم علیحدہ انتخابی حلقے برقرار رہے۔

اگست 1917ء میں برطانوی وزیرِ ہند ایڈون مانٹیگو نے اعلان کیا کہ ہندوستان میں 'ذمہ دار حکومت' کا بتدریج قیام حکومتِ برطانیہ کی پالیسی ہے۔ مانٹیگو اور وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر 1919ء کا قانون منظور ہوا، جس کے ذریعے مرکز میں دو ایوانوں کی مقننہ (امپیریل لیجسلیٹو کونسل اور کونسل آف اسٹیٹ) بنی اور صوبوں میں 'دو عملی' (ڈائی آرکی) نظام رائج ہوا۔

اس نظام کے تحت صوبائی محکمے دو حصوں میں بانٹ دیے گئے: تعلیم، صحت اور زراعت جیسے 'منتقل شدہ' محکمے منتخب وزرا کے پاس گئے، جب کہ پولیس، مالیہ اور قانون و انتظام جیسے 'محفوظ' محکمے گورنر کے پاس رہے۔ رائے دہندگان کی تعداد بڑھائی گئی مگر پھر بھی آبادی کا ایک محدود حصہ ووٹ دے سکتا تھا، اور مسلمانوں کے جداگانہ انتخاب کا حق قائم رہا۔

ان اصلاحات کو ہندوستانی رہنماؤں نے ناکافی قرار دیا اور کانگریس نے انہیں مسترد کر دیا۔ اسی سال رولٹ ایکٹ اور جلیانوالہ باغ کے واقعات نے فضا مزید خراب کر دی، اور 1920ء میں عدم تعاون کی تحریک شروع ہو گئی۔ 1935ء کے قانون تک یہی نظام جاری رہا۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں