لارڈ کرزن نے بنگال کو دو صوبوں میں بانٹ دیا؛ ڈھاکہ کو دارالحکومت بنا کر مسلم اکثریتی مشرقی بنگال و آسام صوبہ بنا، جسے مسلمانوں نے ترقی کا موقع سمجھا جبکہ ہندو رہنماؤں نے شدید مخالفت کی۔
اکتوبر 1905ء میں وائسرائے لارڈ کرزن نے انتظامی سہولت کے نام پر بنگال کے بڑے صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا: مغربی بنگال (بہار اور اڑیسہ کے ساتھ) اور مشرقی بنگال و آسام، جس کا صدر مقام ڈھاکہ بنایا گیا۔ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، جو اس سے پہلے کلکتہ کے ہندو زمینداروں اور وکلا کے زیرِ اثر رہے تھے۔
مسلمانوں نے، جن کی قیادت نواب سلیم اللہ کر رہے تھے، اس تقسیم کا خیر مقدم کیا کیونکہ اس سے تعلیم اور ملازمتوں میں ان کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید تھی۔ اس کے برعکس ہندو رہنماؤں نے اسے 'بنگال کے ٹکڑے' کرنے کی سازش قرار دیا اور سودیشی و بائیکاٹ کی زبردست تحریک چلائی، جس میں تشدد اور بم دھماکے بھی ہوئے۔
اس تنازع نے دونوں برادریوں کے سیاسی مفادات کا فرق نمایاں کر دیا۔ اسی پس منظر میں 1906ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ 1911ء میں حکومت نے شدید دباؤ کے تحت تقسیم منسوخ کر دی، جس پر مسلمانوں میں مایوسی پھیلی۔