مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · عرب و مرکزی خلافت

بنو عباس

الدولة العباسية

748ء (130ھ) – 1258ء (656ھ)510 برس

آغاز748ء (130ھ)
اختتام1258ء (656ھ)
مدت510 برس
خطہعرب و مرکزی خلافت
بانیابوالعباس السفاح
دارالحکومتبغداد

بنو امیہ کا تختہ الٹ کر قائم ہونے والی خلافت، جس کا دورِ عروج علم، فلسفہ اور سائنس میں مسلم تہذیب کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ 1258ء میں منگول یلغار سے بغداد کے سقوط پر ختم ہوئی۔

تاریخی تسلسل

  1. ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
  2. خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
  3. بنو امیہ 662ء–750ء
  4. بنو عباس

عروج کے اسباب

بنو امیہ کے خلاف ایک منظم تحریک کے ذریعے اقتدار حاصل کیا اور بغداد کو نئے علمی و تجارتی مرکز کے طور پر تعمیر کیا، جس نے 'دورِ زریں' کی بنیاد رکھی۔

زوال کے اسباب

دسویں صدی کے بعد صوبائی گورنر خودمختار ہوتے گئے، خلیفہ کا اختیار محض علامتی رہ گیا، اور بالآخر 1258ء میں ہلاکو خان کی منگول یلغار سے بغداد تباہ ہوا۔

حکمران (37)

  1. ابوالعباس السفاح

    750ء – 754ء

    بنو امیہ کا تختہ الٹ کر خلافتِ عباسیہ کی بنیاد رکھی۔

  2. بغداد کی بنیاد رکھی اور مرکزی انتظامیہ کو مضبوط کیا۔

  3. مہدی

    775ء – 785ء

    مالیاتی و انتظامی اصلاحات کے ذریعے خلافت کو استحکام دیا۔

  4. الہادی

    785ء – 786ء

    مختصر دور، ان کی والدہ خیزران کا دربار میں نمایاں اثر رہا۔

  5. بیت الحکمت کے ذریعے علمی ترقی کو فروغ دیا۔

  6. امین

    809ء – 813ء

    ہارون الرشید کے بعد تخت نشین ہوئے، اپنے بھائی مامون کے ساتھ خانہ جنگی میں شکست کھائی۔

  7. یونانی، فارسی اور ہندی علوم کے تراجم کے وسیع منصوبے کی سرپرستی کی۔

  8. معتصم باللہ

    833ء – 842ء

    ترک غلام فوجیوں کی بنیاد رکھی اور دارالحکومت سامرا منتقل کیا۔

  9. واثق باللہ

    842ء – 847ء

    والد کی پالیسیوں کا تسلسل رکھا۔

  10. متوکل علی اللہ

    847ء – 861ء

    معتزلہ کی سرکاری حمایت ختم کی اور اہلِ سنت عقائد کو دوبارہ رواج دیا؛ ترک فوجیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

  11. منتصر باللہ

    861ء – 862ء

    ترک فوجی کمانڈروں کی حمایت سے تخت نشین ہوئے۔

  12. مستعین باللہ

    862ء – 866ء

    ترک فوجی دھڑوں کی رسّہ کشی کا شکار رہے۔

  13. معتز باللہ

    866ء – 869ء

    ترک فوجی امرا کے دباؤ میں معزول ہوئے۔

  14. مہتدی باللہ

    869ء – 870ء

    فوجی بدنظمی کے خاتمے کی کوشش کی، مگر قتل ہوئے۔

  15. معتمد علی اللہ

    870ء – 892ء

    ان کے دور میں بھائی موفق نے حقیقی اقتدار سنبھالا اور زنج بغاوت کچلی۔

  16. معتضد باللہ

    892ء – 902ء

    مرکزی اقتدار کو دوبارہ کچھ حد تک مستحکم کیا۔

  17. مکتفی باللہ

    902ء – 908ء

    قرامطہ کی بغاوتوں کا سامنا کیا۔

  18. مقتدر باللہ

    908ء – 932ء

    طویل مگر کمزور دورِ حکومت، خلافت کے مالی وسائل زوال پذیر ہوئے۔

  19. قاہر باللہ

    932ء – 934ء

    مختصر اور متنازع دور، بعد میں معزول کر کے نابینا کر دیے گئے۔

  20. راضی باللہ

    934ء – 940ء

    'امیر الامرا' کا عہدہ رائج کیا، جس نے فوجی سرداروں کو حقیقی اقتدار دے دیا۔

  21. متقی باللہ

    940ء – 944ء

    بویہی و ترک امرا کی رسّہ کشی کے دوران محض علامتی خلیفہ رہے۔

  22. مستکفی باللہ

    944ء – 946ء

    بویہی سلطنت کے قاہرہ پر قبضے کے دور میں تخت نشین ہوئے۔

  23. مطیع اللہ

    946ء – 974ء

    بویہیوں کی مکمل سرپرستی میں محض روحانی سربراہ کے طور پر باقی رہے۔

  24. طائع اللہ

    974ء – 991ء

    بویہی امرا کے زیرِ اثر برائے نام خلیفہ رہے۔

  25. قادر باللہ

    991ء – 1031ء

    خلافت کے علمی و مذہبی وقار کی بحالی کی کوشش کی۔

  26. قائم بامر اللہ

    1031ء – 1075ء

    سلاجقہ ترکوں کے بغداد میں داخلے کے بعد خلیفہ کا روحانی مقام بحال ہوا۔

  27. مقتدی باللہ

    1075ء – 1094ء

    سلجوقی سلطنت کی سرپرستی میں دور گزارا۔

  28. مستظہر باللہ

    1094ء – 1118ء

    صلیبی جنگوں کے آغاز کے دور میں خلیفہ رہے۔

  29. مسترشد باللہ

    1118ء – 1135ء

    سلجوقی اثر کے خلاف خلیفہ کے دنیاوی اختیار کو بحال کرنے کی کوشش کی۔

  30. راشد باللہ

    1135ء – 1136ء

    مختصر دور، سلجوقی دباؤ میں معزول ہوئے۔

  31. مقتفی لامر اللہ

    1136ء – 1160ء

    خلیفہ کے دنیاوی اقتدار کو بغداد کے گرد و نواح میں دوبارہ مستحکم کیا۔

  32. مستنجد باللہ

    1160ء – 1170ء

    انتظامی اصلاحات جاری رکھیں۔

  33. مستضی باللہ

    1170ء – 1180ء

    صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں فاطمی خلافت کے خاتمے اور مصر میں عباسی نام کی بحالی کا دور۔

  34. طویل دورِ حکومت میں خلیفہ کی دنیاوی طاقت کو عراق میں دوبارہ مستحکم کیا۔

  35. ظاہر بامر اللہ

    1225ء – 1226ء

    مختصر مگر عادل حکمرانی کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔

  36. مستنصر باللہ

    1226ء – 1242ء

    بغداد میں مدرسہ مستنصریہ تعمیر کروایا۔

  37. مستعصم باللہ

    1242ء – 1258ء

    خلافتِ عباسیہ کے آخری خلیفہ — 1258ء میں ہلاکو خان کی منگول یلغار میں بغداد کے سقوط پر شہید ہوئے۔

متعلقہ واقعات