بنو امیہ کا تختہ الٹ کر قائم ہونے والی خلافت، جس کا دورِ عروج علم، فلسفہ اور سائنس میں مسلم تہذیب کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ 1258ء میں منگول یلغار سے بغداد کے سقوط پر ختم ہوئی۔
تاریخی تسلسل
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
بنو امیہ کے خلاف ایک منظم تحریک کے ذریعے اقتدار حاصل کیا اور بغداد کو نئے علمی و تجارتی مرکز کے طور پر تعمیر کیا، جس نے 'دورِ زریں' کی بنیاد رکھی۔
زوال کے اسباب
دسویں صدی کے بعد صوبائی گورنر خودمختار ہوتے گئے، خلیفہ کا اختیار محض علامتی رہ گیا، اور بالآخر 1258ء میں ہلاکو خان کی منگول یلغار سے بغداد تباہ ہوا۔
حکمران (37)
ابوالعباس السفاح
750ء – 754ءبنو امیہ کا تختہ الٹ کر خلافتِ عباسیہ کی بنیاد رکھی۔
ابوجعفر منصور
754ء – 775ءبغداد کی بنیاد رکھی اور مرکزی انتظامیہ کو مضبوط کیا۔
مہدی
775ء – 785ءمالیاتی و انتظامی اصلاحات کے ذریعے خلافت کو استحکام دیا۔
الہادی
785ء – 786ءمختصر دور، ان کی والدہ خیزران کا دربار میں نمایاں اثر رہا۔
ہارون الرشید
786ء – 809ءبیت الحکمت کے ذریعے علمی ترقی کو فروغ دیا۔
امین
809ء – 813ءہارون الرشید کے بعد تخت نشین ہوئے، اپنے بھائی مامون کے ساتھ خانہ جنگی میں شکست کھائی۔
مامون الرشید
813ء – 833ءیونانی، فارسی اور ہندی علوم کے تراجم کے وسیع منصوبے کی سرپرستی کی۔
معتصم باللہ
833ء – 842ءترک غلام فوجیوں کی بنیاد رکھی اور دارالحکومت سامرا منتقل کیا۔
واثق باللہ
842ء – 847ءوالد کی پالیسیوں کا تسلسل رکھا۔
متوکل علی اللہ
847ء – 861ءمعتزلہ کی سرکاری حمایت ختم کی اور اہلِ سنت عقائد کو دوبارہ رواج دیا؛ ترک فوجیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
منتصر باللہ
861ء – 862ءترک فوجی کمانڈروں کی حمایت سے تخت نشین ہوئے۔
مستعین باللہ
862ء – 866ءترک فوجی دھڑوں کی رسّہ کشی کا شکار رہے۔
معتز باللہ
866ء – 869ءترک فوجی امرا کے دباؤ میں معزول ہوئے۔
مہتدی باللہ
869ء – 870ءفوجی بدنظمی کے خاتمے کی کوشش کی، مگر قتل ہوئے۔
معتمد علی اللہ
870ء – 892ءان کے دور میں بھائی موفق نے حقیقی اقتدار سنبھالا اور زنج بغاوت کچلی۔
معتضد باللہ
892ء – 902ءمرکزی اقتدار کو دوبارہ کچھ حد تک مستحکم کیا۔
مکتفی باللہ
902ء – 908ءقرامطہ کی بغاوتوں کا سامنا کیا۔
مقتدر باللہ
908ء – 932ءطویل مگر کمزور دورِ حکومت، خلافت کے مالی وسائل زوال پذیر ہوئے۔
قاہر باللہ
932ء – 934ءمختصر اور متنازع دور، بعد میں معزول کر کے نابینا کر دیے گئے۔
راضی باللہ
934ء – 940ء'امیر الامرا' کا عہدہ رائج کیا، جس نے فوجی سرداروں کو حقیقی اقتدار دے دیا۔
متقی باللہ
940ء – 944ءبویہی و ترک امرا کی رسّہ کشی کے دوران محض علامتی خلیفہ رہے۔
مستکفی باللہ
944ء – 946ءبویہی سلطنت کے قاہرہ پر قبضے کے دور میں تخت نشین ہوئے۔
مطیع اللہ
946ء – 974ءبویہیوں کی مکمل سرپرستی میں محض روحانی سربراہ کے طور پر باقی رہے۔
طائع اللہ
974ء – 991ءبویہی امرا کے زیرِ اثر برائے نام خلیفہ رہے۔
قادر باللہ
991ء – 1031ءخلافت کے علمی و مذہبی وقار کی بحالی کی کوشش کی۔
قائم بامر اللہ
1031ء – 1075ءسلاجقہ ترکوں کے بغداد میں داخلے کے بعد خلیفہ کا روحانی مقام بحال ہوا۔
مقتدی باللہ
1075ء – 1094ءسلجوقی سلطنت کی سرپرستی میں دور گزارا۔
مستظہر باللہ
1094ء – 1118ءصلیبی جنگوں کے آغاز کے دور میں خلیفہ رہے۔
مسترشد باللہ
1118ء – 1135ءسلجوقی اثر کے خلاف خلیفہ کے دنیاوی اختیار کو بحال کرنے کی کوشش کی۔
راشد باللہ
1135ء – 1136ءمختصر دور، سلجوقی دباؤ میں معزول ہوئے۔
مقتفی لامر اللہ
1136ء – 1160ءخلیفہ کے دنیاوی اقتدار کو بغداد کے گرد و نواح میں دوبارہ مستحکم کیا۔
مستنجد باللہ
1160ء – 1170ءانتظامی اصلاحات جاری رکھیں۔
مستضی باللہ
1170ء – 1180ءصلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں فاطمی خلافت کے خاتمے اور مصر میں عباسی نام کی بحالی کا دور۔
ناصر لدین اللہ
1180ء – 1225ءطویل دورِ حکومت میں خلیفہ کی دنیاوی طاقت کو عراق میں دوبارہ مستحکم کیا۔
ظاہر بامر اللہ
1225ء – 1226ءمختصر مگر عادل حکمرانی کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔
مستنصر باللہ
1226ء – 1242ءبغداد میں مدرسہ مستنصریہ تعمیر کروایا۔
مستعصم باللہ
1242ء – 1258ءخلافتِ عباسیہ کے آخری خلیفہ — 1258ء میں ہلاکو خان کی منگول یلغار میں بغداد کے سقوط پر شہید ہوئے۔
متعلقہ واقعات
- بنو عباس کا قیام — بیت الحکمت اور علمی نشاۃِ ثانیہ
- معرکۂ طلاس — عباسی و تانگ افواج
- امام ابو حنیفہ کی وفات — فقہِ حنفی
- امام ابو یوسف — پہلے قاضی القضاۃ
- بغداد میں کاغذ سازی کا کارخانہ
- الخوارزمی کا علمِ الجبرا — مسلم سائنسدانوں کی ایجاد
- بغداد کی رصدگاہِ شماسیہ
- زمین کے محیط کی پیمائش
- فتنۂ خلقِ قرآن (المحنہ)
- بنو موسیٰ کی کتاب الحیل
- مسندِ احمد
- الرازی — چیچک اور خسرے میں فرق
- ابنِ مجاہد — سات قراءتوں کی تعیین
- بغداد کا بیمارستانِ عضدی
- مدرسہ نظامیہ، بغداد
- جنگِ ملازگرد (Manzikert)
- امام غزالی — ترکِ تدریس اور احیاء علوم الدین
- پہلی صلیبی جنگ — سقوطِ بیت المقدس
- مدرسہ مستنصریہ، بغداد
- سقوطِ بغداد — منگول یلغار
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔