مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

چند دل چسپ سوالات:

سوال: حسب ذیل استفسارات پر روشنی ڈال کر بے پایاں شکریہ کا موقع دیں : [یہی سوالات کچھ لفظی تصرف کے ساتھ جماعت اسلامی کے متعدد رفقا کو موصول ہوئے ہیں اور سب ربوہ کے ڈاک خانے سے روانہ ہوئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ یہ کام ہو رہا ہے]۔

۱۔ اگر آپ کی جماعت پاکستان میں نہ آجاتی تو تحریک اسلامی کے ظہور پذیر ہونے یا بڑھنے کے امکانات کا خاتمہ ہوجاتا۔کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں؟

۲۔ پنچایتی نظام اگرکسی جماعت کے امیر کو’’صالح‘‘نمائندہ تجویز نہیں کرسکتا تو اس

جماعت کے افراد کیوں کرصالح قرار دیے جاسکتے ہیں؟

۳۔ ایک شیعہ (جو خلفائے ثلاثہ کی حکومت کو غیر اسلامی قرار دیتا ہے)اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے آپ کی تحریک میں شامل ہوسکتا ہے یا نہیں؟

۴۔ کیا ایک صالح نمائندہ اپنے حق میں ووٹ ڈال سکتا ہے۔ شرعی دلیل کیا ہے؟

۵۔ آپ کے تجویز کردہ نظام پنچایت میں اسمبلی سے باہر اور اندر حلقوں اور عہدوں کی بھرمار اور سرجوڑ کر بیٹھنے کا طریق خلافت راشدہ کے زمانے میں موجود تھا؟یا خلیفۂ وقت عوام کے لیے از خود نمائندہ نام زد کرتا تھا؟

۶۔ ہندوستان میں کفر وارتداد کی مہم تیز ہے۔کیا ان حالات میں پاکستان کا فرض نہیں کہ وہ بزور شمشیر ہندوستان پر قابض ہوکر آپ کی صالحانہ قیادت کی روشنی میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لے آئے؟ اس صورت میں کیاموجودہ مالی اور اقتصادی معاملات اسلامی علم بلند کرنے کے راستے میں کبھی روک تو ثابت نہیں ہوسکتے؟

۷۔ آپ وحی والہام کے مدعی نہیں ہیں بلکہ ریاست اسلامیہ میں آپ کے لحاظ سے اب وحی والہام کی گنجائش تک باقی نہیں ہے۔ ان حالات میں آپ محض چند دلائل سے خودکیوں کر مطمئن ہیں کہ آپ کی تحریک ہی صحیح معنوں میں دین کے مزاج کے مطابق ہے اور انقلاب قیادت کا حقیقی تصور آپ کی جماعت کے بغیر نہیں مل سکتا؟ ممکن ہے دوسری جماعتیں صحیح مسلک پر قائم ہوں اور آپ کی ساری بنیاد غلط فہمی پر مبنی ہو۔

جواب: آپ کے سوالات کا انداز دیکھ کر طبیعت نے کچھ انقباض محسوس کیا تھا، مگر جب اس مقام کا نام پڑھا جہاں سے یہ خط آپ تحریر فرما رہے ہیں تو اتنی معقولیت اور متانت بھی غنیمت نظر آئی جو آپ کے استفسارات میں پائی جاتی ہے۔خدا کرے کہ اس میں کچھ اور اضافہ ہو۔

آپ کے سوالات کا مختصر جواب حسب ذیل ہے:

۱۔ جماعتِ اسلامی،پاکستان میں کہیں سے آئی نہیں بلکہ یہاں پہلے سے موجود تھی،البتہ اس کا مرکز یہاں ضرور منتقل ہوا ہے،جس طرح متعدد دوسری جماعتوں کے مرکز منتقل ہوئے ہیں۔ہمیں ایساکوئی دعویٰ نہیں ہے کہ اس جماعت کے بغیر یہاں تحریک اسلامی کے ظہور پذیر ہونے یا بڑھنے کے امکانات کا خاتمہ ہوجاتا۔ہم جو کچھ سمجھتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اس مملکت کو عملاً اسلامی مملکت بنانے کے لیے ایک ایسی تحریک اور جماعت کا موجود ہونا ضروری تھا جو پہلے سے منظم اور طاقت ور ہوچکی ہو، اور الحمدﷲ کہ اس ضرورت کو جماعتِ اسلامی نے بڑی حد تک پورا کردیا ہے۔اگر یہ جماعت پہلے سے منظم نہ ہوچکی ہوتی تو اس امر کی بہت کم توقع تھی کہ فسق وضلالت کی طاقتیں یہاں نئے سرے سے کسی ایسی تحریک کو اُٹھنے اور کسی ایسی جماعت کو منظم ہونے کا موقع دیتیں جو پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا چاہتی ہو۔

۲۔ کیا آپ کو کسی ذریعے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ’’کسی جماعت‘‘ کے امیر کا نام کسی پنچایت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا یا کیا گیا اور اسے غیر صالح قرار دے کر رد کردیا گیا؟ اگر ایسی کوئی اطلاع آپ کو پہنچی ہو تو ضرور مجھے بھی مستفید فرمائیں۔ اور اگر یہ محض ایک قیاس آرائی ہے جو آپ نے اپنی جگہ بیٹھ کر فرمائی ہے تو آپ کو مجھ سے سوال کرنے کے بجائے اپنے اندازِ فکر کی اصلاح کرنی چاہیے۔ علم وواقفیت کے بغیر آپ کا اس طرح کے قیاسات قائم کرنا بجائے خود ہی کوئی بھلا کام نہ تھا،کجا کہ آپ خود اس شخص کے سامنے اپنے اس قیاس کو پیش فرمارہے ہیں جسے حقیقت حال معلوم ہے۔

۳۔ جماعتِ اسلامی کا عقیدہ اور نصب العین جماعت کے دستور میں لکھ دیا گیا ہے۔ہر وہ شخص جو اس عقیدے اور نصب العین کو قبول کرکے نظم جماعت کی پابندی کرے،جماعت میں داخل ہوسکتاہے۔

۴۔ ایک صالح نمائندے کا خود اپنے حق میں ووٹ ڈالنا اسلامی نقطۂ نظر سے کوئی پسندیدہ کام نہیں ہے۔ مگرموجودہ زمانے کے الیکشن میں حصہ لے کر آدمی کو جن مکروہات میں چار وناچار مبتلا ہونا پڑتا ہے،یہ بھی انھی میں سے ایک ہے، اور اس طرح کے مکروہات کی حیثیت اتنی شدید بھی نہیں ہے کہ ان کی وجہ سے انتخابات جیسے اہم کام سے علیحدہ رہنا درست سمجھا جائے۔

۵۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ ہمارے تجویز کردہ پنچایتی نظام میں حلقوں اور عہدوں کی بھرمار کہاں ہے؟ہم صرف ایک عہد عام لوگوں سے لیتے ہیں جب کہ انھیں پنچایت کا ممبر بناتے ہیں، اور ایک عہد نمائندے سے لیتے ہیں جب کہ وہ پنچایت میں چن لیا جاتا ہے۔ اس پر لفظ ’’بھرمار‘‘ کا اطلاق کیسے ہوسکتاہے۔خلافت راشدہ میںکسی طریقے کا موجود نہ ہونا اس کے ناجائز یا غیر اسلامی ہونے کی دلیل نہیں ہے۔آپ کے پاس اس طریقے کے ناجائزہونے کی کوئی دلیل ہو تو ارشاد فرمائیں۔خلفائے راشدین کو اگر ایک جائز کام کی ضرورت پیش نہیں آتی تو انھوں نے اسے نہیں کیا۔ہمیں ضرورت پیش آئی ہے تو ہم اسے کرسکتے ہیں۔

آپ کا یہ سوال بالکل عجیب ہے کہ کیا سر جوڑکر بیٹھنے کا طریق خلافت راشدہ کے زمانے میں موجود تھا۔آپ اس سوال پر ذرا دوبارہ غور فرمائیں، کیا یہ واقعی پوچھنے کے قابل سوال تھا؟

آپ کا یہ ارشاد کہ خلیفۂ وقت از خود عوام کے لیے نمائندے نام زد کردیتا تھا،تاریخ کے ناقص مطالعے کانتیجہ ہے۔ اس زمانے میں قبائلی نظام تھا۔شیوخ قبائل آپ سے آپ اپنے قبیلے کے نمایندے ہوتے تھے۔ اگر الیکشن بھی ہوتا تو وہی لوگ چنے جاتے۔اس لیے خلفا انھی حضرات کو مشورے کے لیے طلب کرلیا کرتے تھے [خلافت راشدہ میں مجلس شوریٰ کی تشکیل کس طرح ہوئی تھی، اس پر مفصل بحث ہمارے پمفلٹ ’’اسلامی دستور کی تدوین‘‘ میں کی گئی ہے]۔

۶۔ پاکستان کاپہلا فرض یہ ہے کہ وہ خود اپنی حدود میں اسلامی احکام کے اجرا اور ضلالت وارتداد کی تحریکوں کا استیصال کرے۔اس کے بعد یہ فرض کہ وہ کسی دوسرے ملک کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے پہنچے،طاقت کی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔طاقت ہو تو ایسا ضرور کرنا چاہیے،نہ ہو تو ایسا کرنا فرض نہیں ہے۔کسی کافر حکومت سے،خواہ وہ دشمن اسلام ہی کیوں نہ ہو، کسی مسلم مملکت کا حسب ضرورت معاہدہ کرنا بھی ممنوع نہیں ہے۔اگر یہ ممنوع نہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کیوں کرتے؟

۷۔ قرآن وحدیث جو شاید آپ کے نزدیک ’’محض چند دلائل‘‘ کی تعریف میں داخل ہیں اور ایک مسلمان کے اطمینان کے لیے کافی نہیں ہیں، میں ان ہی کے مطالعے سے مطمئن ہوں کہ جماعتِ اسلامی کی تحریک دین اسلام کے مزاج کے مطابق ہے، اور اگر ہم اس تحریک کے تقاضوں کے مطابق صحیح کام کریں تو یقینا اس کے ذریعے سے صالح قیادت قائم ہوسکتی ہے۔دوسری جماعتوں کے بارے میں میری جو رائے ہے،آپ چاہیں تو اسے غلط فہمی خیال کرلیں۔مگرمیں دلائل کی بنا پر رائے قائم کرتا ہوں اور دلائل ہی کی بنا پر اپنی رائے سے ہٹ سکتا ہوں۔

وحی میرے نزدیک اب نہیں آسکتی۔ رہا الہام، تو وہ ضروری نہیں ہے۔ہو تو اچھا ہے،نہ ہو تو کتاب اﷲ اور سنت رسولؐ اﷲ ہماری رہنمائی کے لیے بالکل کافی ہے۔

(ترجمان القرآن۔شعبان ۳۷۰اھ۔ جون ۹۵۱ا)