مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

چندتفسیری اور فقہی مسائل:

سوال: مندرجہ ذیل استفسارات کے جواب لکھنے کی تکلیف دے رہا ہوں:

(۱) آیت يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْہِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُہٗٓ اَلْفَ سَـنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَo السجدہ 5:32 کا مفہوم میری سمجھ میں نہیں آتا۔اس وقت میرے سامنے تفسیر کشاف ہے۔صاحب کشاف کی توجیہات سے مجھے اتفاق نہیں ہے،کیوںکہ قرآنی الفاظ ان توجیہات کی تصدیق نہیں کرتے۔ان پر تبصرہ لکھ کر آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔آپ کے نزدیک اس آیت کا صحیح مطلب کیا ہے؟ لفظ یَعْرُجُ اِلَیْہِ کا لغوی مدلول پیش نظر رہنا چاہیے۔نیز یہ لفظ الامر قرآن کی اصطلاح میں کن کن معنوں میں مستعمل ہوتا ہے۔

(۲) مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنی تفسیر ترجمان القرآن جلد دوم میں صفحہ۵۴۰ سے۵۴۴ تک وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـۃٍ مِّنْ طِيْنٍ o ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍo ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَـلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَـلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْــمًا۝۰ۤ ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ۝۰ۭ فَتَبٰرَكَ اللہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَo المومنون12-14:23 کی تشریح کرتے ہوئے علم الجنین کے جن مدارج ستہ کو قرآنی الفاظ کے ساتھ چسپاں کرلیا ہے،اس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ہے۔مولانا کے علم وفضل کی عظمت کے اعتراف کے باوجود مجھے اس بات کے اظہار کرنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ صحابہ کرامؓ وسلف صالحین میں سے کسی نے بھی ان مدارج ستہ کو بیان نہیں کیا ہے۔ممکن ہے میں غلط فہمی کی بِنا پر کہہ رہا ہوں،آپ اس مقام کا بغور مطالعہ کرکے اس’’تحقیق جدید‘‘ کے بارے میں اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔نیز اگر آپ کو مولانا کی اس تشریح سے اختلاف ہو تو پھر فرمایئے کہ آپ کے نزدیک اس آیت کا مطلب کیا ہے اور قدیم تفسیر پر مولانا نے جو اعتراضات کیے ہیں،آپ کے پاس ان کا کیا جوا ب ہے؟

(۳) مفردات القرآن( امام راغب) اور اساس البلاغۃ(زمخشری) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟قرآن سمجھنے کے لیے اگر کوئی لغت کی مفید ومستند کتاب معلوم ہو تو مطلع فرمایئے۔

(۴) اسلامی شریعت میں مردوں کے لیے سو نے چاندی کا استعمال ممنوع ہے۔کیا سونے یا چاندی کا پان دان اس ممانعت کی زد میں آسکتا ہے؟ اور گھڑی کے بعض حصوں میں سونے کے استعمال کے متعلق آپ کی رائے کیا ہے؟

(۵) امریکن سوپ فیکٹری،رحیم یار خان کے انگریز منیجر نے صابن کے اجزائے ترکیبی پر بحث کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یورپ سے آنے والے خوش بو دار سوپ میں چربی کا استعمال ناگزیر ہوتا ہے۔ہر قسم کے جانور کی چربی کو استعمال کیا جاتا ہے خواہ وہ خنزیر ہو یا گائے۔اس انکشاف جدید کے بعد میں نے لکس، حمام وغیرہ کا استعمال ترک کردیاہے۔اس مسئلے میں آپ کی رائے کیا ہے؟کیا آپ انگریزی خوش بودار سوپ استعمال کرتے ہیں؟

جواب: (۱) آیت یدبرالامر من السمآء الی الارض متشابہات کے قبیل سے ہے۔ اس کا مجمل مفہوم تو سمجھ میں آسکتا ہے،مگر تفصیلی مفہوم متعین کرنا مشکل ہے،کیوں کہ ہمارے پاس اس کے لیے کوئی ذریعۂ علم نہیں ہے۔مجملاً جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ زمین کی تدبیر صرف زمین ہی پر نہیں ہورہی ہے بلکہ وہ ہستی اس انتظام کو چلا رہی ہے جو سارے جہان وجود کی ناظم ومدبر ہے۔اس تدبیر کا سر رشتہ عالم بالا میں ہے جہاں زمین اور اُس کے مختلف النوع معاملات سے متعلق ایک منصوبہ تیار ہوتا ہے۔ کارکنان قضا وقدر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے پر مامور ہوتے ہیں، اور پھر وقتاً فوقتاً اس کے ہر مرحلے کی تکمیل پر اپنی رپورٹ اوپر بھیجتے یا پیش کرتے ہیں۔ اس منصوبے میں ایک ایک مرحلے کی اسکیم بسا اوقات ایک ایک ہزار سال اور پچاس پچاس ہزار سال کی ہوتی ہے۔ ہمارے لیے وہ ایک مدت دراز ہے مگر مدبر کائنات کے ہاں وہ گویا ایک دن کا کام ہے۔

یَعْرُجُ اِلَیْہِ کے لغوی مدلول کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا مطلب میری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اس سے مراد کارکنان قضا وقدر کا اپنے کام کی رپورٹ لے کر پیشی خداوندی میں جانا ہے۔بالفاظ دیگر وہ کام جو پہلے اسکیم کی حیثیت سے ان کے سپرد کیا گیا تھا،پایۂ تکمیل کو پہنچنے پر روداد کی شکل میں اوپر (forward)کیا جاتا ہے۔

الامر سے مرا دایسے مواقع پر ’’کائنات کا انتظام‘‘ہوا کرتا ہے۔

(۲) آیت لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین کی جو تشریح مولانا ابوالکلام نے کی ہے،اس کا بیش تر حصہ صحیح ہے۔ایسے معاملات میں قدیم مفسرین سے اختلاف کرنا قابل اعتراض نہیں ہے۔ظاہر ہے کہ علم الاشیاء کے متعلق انسان کی واقفیت جتنی بڑھے گی،قرآن کے اس طرح کے بیانا ت کا مطلب پہلے سے زیادہ صحیح طریقے سے سمجھ میں آتا چلا جائے گا۔ یہ کوئی احکام شرعیہ، یا اُمور اعتقادیہ نہیں ہیں جن میں سلف کا فہم زیادہ معتبر ہو۔ البتہ اس کا وہ حصہ لائق اعتماد نہیں ہے جس میں انھوں نے اس آیت کا رشتہ بھی ڈاروینی نظریۂ ارتقا سے جوڑ دیا ہے۔وہ ڈاروینیت کے دلائل سے اس قدر مرعوب ہیں کہ علم جنین کے جو حقائق دراصل اس نظریے کی تردید کررہے ہیں،انھی کو وہ اس کے شواہد میں شمار کرتے ہیں۔

(۳) مفردات امام راغب اور اساس البلاغہ قرآن کو سمجھنے میں ایک حد تک مدد تو ضرور دیتی ہیں لیکن بسا اوقات انسان ان سے غلط تاویلات کے رستے پر بھی پڑ جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کی تاویل میں خود اپنا ایک مسلک رکھتے ہیں اور لغت کی تحقیق میں اپنے مسلک کے نظریات بھی داخل کردیتے ہیں۔ اس لیے جن لوگوں کا مبلغ علم انھی کتابوں تک محدود ہے وہ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ایک لفظ کی لغوی تشریح وہی کچھ ہے جو راغب اور زمخشری نے بیان کردی ہے۔ میرے نزدیک اس کے بجائے لسان العرب، تاج العروس، نہایہ ابن اثیر، قاموس، جمہرۂ ابن درید اور ابن جریر کی لغوی تحقیقات زیادہ قابل اعتما دہیں،کیوں کہ یہ لوگ لغت سے بحث کرتے ہیں، اپنے نظریات کو دخل نہیں دیتے۔

(۴) سونے چاندی کا صرف پہننا ہی ممنوع نہیں ہے بلکہ ان کے برتن استعمال کرنا بھی ممنوع ہے۔اس لیے ان کے پان دان کے جائزہونے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ رہی گھڑی،تو اُس کے اندر کسی پرزے میں سونا لگایا گیاہو تو وہ جائزہوسکتاہے،مگر باہر بطور زینت جو سونا چاندی استعمال کیا گیا ہو وہ جائز نہیں ہے۔

(۵) یہ امر تحقیق طلب ہے کہ حرام چیزیں کیمیاوی ترکیبات میں شامل ہوجانے کے بعد بھی آیا اپنی اصل کو باقی رکھتی ہیں یا نہیں؟اور اگر یہ اصل باقی نہیں رہتی بلکہ کیمیاوی ترکیب ان کی ماہیت تبدیل کرکے ان کو اور ان کے ساتھ ملنے والی دوسری اشیا کو بھی ایک نئی چیز بنا دیتی ہے،تو کیا وہ نئی چیز بھی اس بِنا پر حرام ہوگی کہ اُ س کے اجزائے ترکیبی میں ایک حرام شے شامل تھی؟ یہ ایک دقیق مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ پہلے مجرد ترکیب، اختلاط،آمیزش اور امتزاج کی نوعیت اور کیمیاوی ترکیب وتحول کی نوعیت کافرق اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔نیز یہ بات بھی سمجھ لی جائے کہ کیمیاوی ترکیب کی انفرادی ماہیتوں میں جو تغیرات واقع ہوتے ہیں،وہ ان تغیرات سے اشبہ ہیں جو نباتات او رحیوانات کے جِرم میں اجزائے غذا کے داخل ہونے کے بعد واقع ہوا کرتے ہیں۔

مسئلے کے اِ س پہلو کو ذہن نشین کرلینے کے بعد پہلے ماہرین فن سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ آیاصابن میں مجرد ترکیب واقع ہوتی ہے یا کیمیاوی ترکیب؟یعنی آیا اس کے اجزا کا اختلاط محض آمیزش کی نوعیت رکھتا ہے جس میں ایک ایک جز اپنی اصل باقی رکھتا ہو،یا یہ سب مل کر ایک کیمیاوی عمل کی بدولت اپنی ابتدائی ماہیت کھو دیتے ہیں اور ایک نئی چیز پیدا کردیتے ہیں؟

اس کے بعد علما کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ جو ترکیبات مؤخر الذکر نوعیت کی ہوں،ان میں حرام اجزا کی شمولیت کا کیا حکم ہے؟

اس تحقیق کی ضرورت خاص طور پر اس وجہ سے بہت شدید ہوگئی ہے کہ ہمارا ملک زیادہ تر خام اشیا پیدا کرکے بیچ دیتا ہے اور ہم ان کے بدلے میں ایسے ملکوں سے اپنی ضروریات کی بے شمار مصنوعات خرید رہے ہیں جہاں کے لوگ حلال وحرام کی تمیز سے قطعاًنا آشنا ہیں۔اب یہ بات وقتاًفوقتاً ہمارے علم میں آتی رہتی ہے کہ فلاں چیز جو باہر سے درآمد ہوتی ہے،اُس میں فلاں حرام شے استعمال کی جاتی ہے،اور اس طرح کی خبریںسن سن کر آئے دن ہماری زندگی تلخ ہوتی رہتی ہے کہ کہیں ہم گناہ میں تو مبتلا نہیں ہورہے ہیں۔اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ پہلے اُصولی طور پر مختلف اقسام کے مرکبات کی شرعی حیثیت مشخص کی جائے اور پھر ہر ایک کا حکم واضح طور پر بتا دیا جائے۔

میں اس معاملے میں خود مذبذب ہوں اور قطعی رائے پر نہیںپہنچ سکا ہوں۔ البتہ اس پریشانی میں سب کے ساتھ شریک ہوں کہ وقتاًفوقتاً کسی نہ کسی چیز کے متعلق یہ اطلاع کانوں میں پڑجاتی ہے کہ اس میں کوئی حرام چیز شامل ہے۔اب آپ نے صابن کے متعلق خبر سنا کر ایک اور شک کا اضافہ کردیا۔

(ترجمان القرآن،رجب،شعبان ۳۷۱اھ، اپریل،مئی۹۵۲اء)