رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
رشوت اور اضطرار:
سوال: (۱) حالت اضطرار کیا ہے؟ کیا اضطرار کے بھی حالات او رماحول کے لحاظ سے مختلف درجات ہیں؟
(۲) موجودہ حالات اور موجودہ ماحول میں کیا مسلمانوں کے لیے کسی صورت میں بھی رشوت جائز ہوسکتی ہے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے رشوت کی ایک جامع تعریف بھی بیان کردیجیے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس قسم کے معاملات رشوت کی تعریف میں آتے ہیں؟
جواب: اضطرار یہ ہے کہ آدمی کو شریعت کی مقرر کی ہوئی حدود سے کسی حد پر قائم رہنے میں ناقابل برداشت نقصان یا تکلیف لاحق ہو۔ اس معاملے میں آدمی اور آدمی کی قوت برداشت کے درمیان بھی فرق ہے اور حالات اور ماحول کے لحاظ سے بھی بہت کچھ فرق ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اس امر کا فیصلہ کرنا کہ کون شخص کس وقت کن حالات میں مضطر ہے،خود اس شخص کا کام ہے جو اس حالت میں مبتلا ہو۔اسے خود ہی اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس کرتے ہوئے یہ رائے قائم کرنی چاہیے کہ آیا وہ واقعی اس درجہ مجبور ہوگیا ہے کہ خدا کی کوئی حد توڑ دے؟
موجودہ حالات ہوں یا کسی اور قسم کے حالات، رشوت لینا تو بہرحال حرام ہے۔ البتہ رشوت دینا صرف اس صورت میں بربنائے اضطرار جائز ہوسکتا ہے جب کہ کسی شخص کو کسی ظالم سے اپنا جائز حق حاصل نہ ہورہا ہو اور اس حق کو چھوڑ دینا اس کو ناقابل ِ برداشت نقصان پہنچاتا ہو اور اوپر کوئی بااختیار حاکم بھی ایسا نہ ہو جس سے شکایت کرکے اپنا حق وصول کرنا ممکن ہو۔
رشوت کی تعریف یہ ہے کہ’’جو شخص کسی خدمت کا معاوضہ پاتا ہو، وہ اسی خدمت کے سلسلے میں ان لوگوں میں سے کسی نوعیت کا فائدہ حاصل کرے جن کے لیے یا جن کے ساتھ اس خدمت سے تعلق رکھنے والے معاملات انجام دینے کے لیے وہ مامور ہو،قطعِ نظر اس کے کہ وہ لوگ برضا ورغبت اسے وہ فائدہ پہنچائیں یا مجبوراً۔ جو عہدہ دار یا سرکاری ملازمین تحفے تحائف کو اس تعریف سے خارج ٹھیرانے کی کوشش کرتے ہیں،وہ غلطی پر ہیں۔ ہر وہ تحفہ ناجائز ہے جو کسی شخص کو ہرگز نہ ملتااگر وہ اس منصب پر نہ ہوتا۔البتہ جو تحفے آدمی کو خالص شخصی روابط کی بنا پر ملیں،خواہ وہ اس منصب پر ہو یا نہ ہو، وہ بلاشبہ جائز ہیں۔ (ترجمان القرآن،رمضان شوال ا۳۷اھ،جولائی۹۵۲اء)