رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
شادی بیاہ میں کفاء ت کا لحاظ:
سوال: ترجمان القرآن بابت ذی القعدہ و ذی الحجہ۳۷۰اھ میں آپ نے مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی کے جواب میں ایک جگہ ایسے تسامح سے کام لیا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔مولانا موصوف نے آپ سے دریافت کیا تھا کہ’’ کیا ایک سیّد ہندوستان میں رہنے کی وجہ سے سیّد نہ رہے گا بلکہ جلاہا بن جائے گا؟‘‘میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آپ نے بھی جواب میں دبی زبان سے اس غیر اسلامی امتیاز کو یہ کہہ کر تسلیم کرلیا کہ’’دارالکفر کے ایک سیّد صاحب، دارالاسلام کی ایک سیّدانی کے باعتبار نسب کفو ہی سہی۔‘‘آپ کے الفاظ مبہم ہیں۔کیا آپ بھی مسئلۂ کفو کو اسلام میں جائزسمجھتے ہیں؟اگر جواب اثبات میں ہے تو آپ قرآن وحدیث سے استشہاد پیش فرما کر میرا اطمینان فرمائیں۔سمجھ میں نہیں آیا کہ دنیا کے کام کاج اور پیشوں کو انسانیت کی اونچ نیچ میں کیوں دخل ہو؟بنی نوع انسان سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔کیا حضرت دائود علیہ السلام نے اگر لوہے کا کام کیا ہے تو وہ لوہار ٹھیریں گے؟
جواب: آپ نے کفاء ت کے مسئلے پر جو اعتراض کیا ہے،اُس سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔طرزِ تعبیر میں اختلاف ہوسکتا ہے،لیکن نفس مسئلۂ کفاء ت تو عقل اور نقل دونوں سے ہے۔تفصیلات سے قطع نظر، بجائے خود نکاح میں اس کے معتبر ہونے پر ائمۂ اربعہ کا اتفاق ہے۔
اس مسئلے کا ماخذ متعدداحادیث ہیں۔ مثلاً:
لا تنکحوا النساء الا الاکفاء (دار قطنی،بیہقی)
’’عورتوںکی شادیاں نہ کرو مگر ان لوگوں کے ساتھ جو کفو ہوں۔‘‘
یاعلی ثلاث لا تؤخرھا: الصلٰوۃ اذا اٰتت، والجنازۃ اذا حضرت، والایّم اذ وجدت کفأً ۔ (ترمذی،حاکم)
’’اے علیؓ! تین کام ہیں جن کو ٹالنا نہ چاہیے:ایک، نماز، جب کہ اس کا وقت آجائے۔ دوسرے، جنازہ جب کہ تیار ہوجائے۔ تیسرے، بن بیاہی عورت کا نکاح جب کہ اس کے لیے کفو مل جائے۔‘‘
تخیرّوا لنطفکم و انکحوا الاکفاء ۔
’’اپنی نسل پیدا کرنے کے لیے اچھی عورتیں تلاش کرو،اور اپنی عورتوں کے نکاح ایسے لوگوں سے کرو جو ان کے کفو ہوں۔‘‘
(یہ حدیث حضرت عائشہ، انس، عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہم سے متعدد طریقوں سے مروی ہے)۔
امام محمدؒ نے ’’کتاب الآثار‘‘میں حضرت عمرؓکا یہ قول بھی نقل کیا ہے:
لأمنعنّ فروج ذوات الاحساب الا من الاکفاء ۔
’’میں شریف گھرانوں کی عورتوں کے نکاح کفو کے سوا کہیں اور نہ کرنے دوں گا۔‘‘
یہ تو ہے اس مسئلے کی نقلی دلیل۔ رہی عقلی دلیل، تو عقل کا صریح تقاضا یہ ہے کہ کسی لڑکی کو کسی شخص کے نکاح میں دیتے وقت یہ دیکھا جائے کہ وہ شخص اُس کے جوڑ کا ہے یا نہیں۔اگر جوڑ کا نہ ہو تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ان دونوں کا نباہ ہوسکے گا۔ نکاح سے مقصود تو عقلاً بھی اور نقلاً بھی یہی ہے کہ زوجین کے درمیان مودّت ورحمت ہو اور وہ ایک دوسرے کے پاس سکون حاصل کرسکیں۔ آپ خود سوچ لیں کہ بے جوڑنکاحوں سے اس مقصود کے حاصل ہونے کی کہاں تک توقع کی جاسکتی ہے؟اور کون سا معقول انسان ایسا ہے جو اپنے لڑکے یا لڑکی کا بیاہ کرنے میں جوڑ کا لحاظ نہ کرتا ہو۔ کیا آپ اسلامی مساوات کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ہر مرد کا ہر عورت سے اور ہر عورت کا ہر مرد سے صرف اس بِنا پر نکاح کردیا جائے کہ دونوں مسلمان ہیں،بلا اس لحاظ کے کہ ان میں کوئی مناسبت پائی جاتی ہے یا نہیں؟
فقہا نے اِ س جوڑ کا مفہوم مشخص کرنے کی کوشش کی ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے طریقے پر یہ بتایا ہے کہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان کن کن اُمور میں مماثلت ہونی چاہیے۔ ہم ان تفصیلات میں بعض فقہا سے اختلاف اور بعض سے اتفاق کرسکتے ہیں۔ مگر فی الجملہ عقل عام یہ تقاضا کرتی ہے کہ زندگی بھر کی شرکت ورفاقت کے لیے جن دو ہستیوں کا ایک دوسرے سے جوڑ ملایا جائے،ان کے درمیان اخلاق، دین،خاندان،معاشرتی طور طریق، معاشرتی عزت وحیثیت، مالی حالات، ساری ہی چیزوں کی مماثلت دیکھی جانی چاہیے۔ ان اُمور میں اگر پوری یکسانی نہ ہو تو کم ازکم اتنا تفاوت بھی نہ ہو کہ زوجین اس کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رفاقت نہ کرسکیں۔یہ انسانی معاشرت کا ایک عملی مسئلہ ہے جس میں حکمت عملی کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔آدم کی ساری اولاد کے یکساں ہونے کا نظریہ آپ یہاں چلانا چاہیں گے تو لاکھوں گھر برباد کردیں گے۔ہاں اگر آپ یہ کہیں کہ محض نسل ونسب کی بِنا پر ذات پات اور اُونچ نیچ کا تصور ایک جاہلی تصور ہے، تو اس بات میں یقینا میں آپ سے اتفاق کروں گا۔ جن لوگوں نے کفاء ت کے فقہی مسئلے کو مسخ کرکے ہندوئوں کی طرح کچھ اونچی اور کچھ نیچی ذاتیں قرار دے رکھی ہیں،ان پر مجھے بھی ویسا ہی اعتراض ہے جیسا آپ کو ہے۔ ( ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ا۳۷اھ، ستمبر۹۵۲اء)