رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قصاص اور دیت:
سوال: قصاص اور دیت کے بارے میں چنداستفسارات تحریر خدمت ہیں۔ان کے جوابات ارسال فرمائیں:
(الف)مقتول کے ورثا میں سے کوئی ایک وارث دیت لے کر یا بغیر دیت لیے اگر اپنا حق قاتل کو معاف کردے تو کیا سزائے موت معاف ہو سکتی ہے؟ اس میں اقلیت واکثریت کا کوئی لحاظ رکھا جاسکتا ہے یا نہیں؟مثلاً تین بیٹوں میں سے ایک نے قصاص معاف کردیا،باقی دو قصاص لینے پر مصر ہیں تو قاضی کو کیا شکل اختیا رکرنی ہوگی؟
(ب) اگر مقتول کے ورثا دیت لینے پر آمادہ ہیں لیکن قاتل اپنی عزت کے باعث مطلوبہ دیت کی ادائیگی سے قطعاً معذور ہے، تو کیا قاضی اس کے ورثا کودیت ادا کرنے پر مجبور کرسکتا ہے؟ اگر کرسکتا ہے تو کیا اس سے ورثا کو بے گناہ سزا نہیں مل رہی ہے؟
(ج) اگر قاتل کے ورثا ہی نہیں ہیں یا اگر ہیں تو وہ اتنے مفلس ہیں کہ دیت ادا کرنا چاہیں بھی تو نہیں ادا کرسکتے،تو کیا ایسی صورت میں قاتل کو قصاص یا دیت کے متبادل سزا(از قسم حبس ومشقّت وغیرہ) تجویز ہوسکتی ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو کیا صورت اختیار کی جائے گی؟
(د) موجودہ قانون میں ہائی کورٹ میں اپیل کے بعدبھی اگر قاتل کو پھانسی کی سزا تجویزہوجائے تو پھر صدر حکومت یا گورنرجنرل کے سامنے رحم کی اپیل ہوتی ہے جس میں سزا کے تغیرکا امکان رہتا ہے۔اسلامی نقطۂ نظر سے یہ صورت کس حد تک جائز ہے؟
جواب: (۱)مقتول کے ورثا میں سے کوئی ایک بھی اگر قاتل کو اپناحق معاف کردے یا دیت لینا قبول کر لے تو قصاص لازماً ساقط ہوجائے گا اور باقی وارثوں کو دیت پر راضی ہونا پڑے گا۔ اس معاملے میں اکثریت واقلیت کا سوال اُٹھانا صحیح نہیں ہے۔سوال صرف یہ ہے کہ جس وارث نے عفو یا قبول دیت کے ذریعے سے قاتل کو زندہ رہنے کی اجازت دی ہے، اس کی اجازت آخر قصاص کی صورت میں کیسے نافذ ہوسکتی ہے؟مثال کے طور پر اگر تین وارثوں میں سے ایک نے قاتل کو معاف کردیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ مقتول کی جان کے ایک تہائی حصے کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہوگیا۔اب کیایہ ممکن ہے کہ باقی دو وارثوں کے مطالبے پر صرف دو تہائی جان لی جاسکے اور ایک تہائی جان کو زندہ رہنے دیا جائے؟اگر یہ ممکن نہیں ہے تو لامحالہ باقی دو وارثوں کو قبول دیت پر مجبور ہونا پڑے گا۔یہی رائے ہے جو حضرت عبداﷲؓ بن مسعود نے اس طرح کے ایک مقدمے میں ظاہر کی تھی اور حضرت عمرؓ نے اسی پر فیصلہ فرمایا۔چنانچہ مبسوط میں ہے: قال ابن مسعود اری ھذا قد احیا بعض نفسہ فلیس للآخر ان یتلفہ فامضی عمر القضاء علی رأیہ (جلد۲۶،صفحہ۱۵۸) یعنی ابن مسعودؓ نے کہاکہ میرے نزدیک ایک وارث نے جب قاتل کی جان کے ایک حصے کو حق حیات بخش دیا تو دوسر ے کو اسے تلف کرنے کا حق نہ رہا۔اسی رائے پر حضرت عمرؓ نے فیصلہ فرما دیا۔
(ب) قاضی یقینا یہ حق رکھتا ہے کہ قاتل کے اولیا کو دیت ادا کرنے پر مجبور کرے۔حمل بن مالک والی روایت میں صاف مذکور ہے کہ نبیؐ نے اولیائے قاتل کو خطاب فرمایا: قُوْمُوْا فَدُوْا ’’اُٹھو اور دیت ادا کرو۔‘‘ اس حدیث سے یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ دیت ادا کرنے کی ذمہ داری میں قاتل کے ساتھ اس کے اولیا بھی شریک ہیں۔ البتہ اس امر میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے کہ دیت ادا کرنے کے معاملے میں قاتل کے اولیا (یا عاقلہ) کن لوگوں کو قرار دیا جائے گا؟شافعیہ کے نزدیک’’عاقلہ‘‘ سے مراد ورثا یاعصبہ ہیں،اور حنفیہ کے نزدیک وہ تمام لوگ عاقلہ ہیں جو زندگی کے معاملات میں ایک شخص کے پشت پناہ اور سہارا بنتے ہوں،خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا ہم پیشہ برادری والے،یا وہ لوگ جو عہد وپیمان کی بنا پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہوں۔شافعیہ نے جو رائے دی ہے وہ صرف اس معاشرے کے لیے موزوں ہے جس میں قبائلی سسٹم رائج ہو۔ لیکن حنفیہ کی رائے ان معاشروں میں بھی چل سکتی ہے جن میں قبیلے کے بجائے دوسرے نسبی یا معاشی یا تمدنی روابط کی بنا پر لوگ ایک دوسرے کے پشت پناہ بنتے ہوں۔حنفیہ کی رائے کے مطابق ایک سیاسی پارٹی بھی اپنے ایک فرد کی عاقلہ بن سکتی ہے،کیوں کہ اس کے ارکان زندگی کے اہم معاملات میں ایک دوسرے کے حامی ومددگار ہوتے ہیں، اور بڑی حد تک ایک دوسرے کی ذمہ داریوں میں شریک سمجھے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب معاشرے کی بنیادیں قبائلی نظام کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہوگئیں تو حضرت عمرؓ نے ایک فوجی کی دیت کا ذمہ دار اس کے پورے لشکر کو ٹھیرایا۔ چنانچہ فتح القدیر میں ہے:
فانہٗ لمادون الداوین جعل العقل علٰی اھل الدیوان وکان ذٰلک بمحضرمن الصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم من غیر نکیر منھم (جلد۸، صفحہ۴۲)
’’حضرت عمرؓ نے جب عسکری نظام قائم کیا تو دیت کو پورے اہل لشکر پر عائد کیا۔آپؓ کا یہ فعل صحابہؓ کی ایک مجلس میں انجام دیا گیا اور انھوں نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔‘‘
رہا آپ کا یہ سوال کہ اولیا یا عاقلہ پر دیت عائد کرنا گنہگار کی سزا بے گناہوں کو دینے کا ہم معنی تو نہیں ہے؟تو اس کا جواب آپ خود پالیتے اگر اس امر پر غور فرماتے کہ ایک شخص اجتماعی زندگی کے اندر رہتے ہوئے قتل جیسے اجتماع کش فعل کا ارتکاب بالعموم اپنے حمایتیوں کے بل بوتے پر ہی کیا کرتا ہے۔اگر وہ لوگ جن کی حمایت اور پشتیبانی پر وہ بھروسا رکھتا ہے،یہ جا ن لیں کہ اس کی ایسی حرکات کی ذمہ داری میں وہ بھی شریک ہوں گے،تو اسے قابو میں رکھنے کی خود کوشش کریں گے اور اسے ایسی چھوٹ نہ دیں گے کہ وہ دوسروں کی جانیں لیتا پھرے۔ کیا عجب ہے کہ دیت کے ذمہ دار اولیا کے لیے ’’عاقلہ‘‘ کا لفظ اسی رعایت سے اختیار کیا گیا ہو۔عقل کے معنی آپ جانتے ہی ہیں کہ روکنے اور باندھنے کے ہیں۔شاید ابتدائً اس لفظ کو اختیار کرنے میں یہی مناسبت پیش نظر رہی ہو کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا کام یہ ہے کہ آدمی کو قابو میں رکھیں اور ایسا بے قابو نہ ہونے دیں کہ وہ قتل وغارت کا ارتکاب کرنے لگے۔
(ج) اگر قاتل ایک لاوارث آدمی ہو یا اس کا قریب تر حلقۂ اولیا دیت ادا کرنے کے قابل نہ ہو تو اس صورت میں صحیح یہ ہے کہ اس کی دیت کا بوجھ وسیع تر حلقۂ اولیا پر ڈالا جائے،حتیٰ کہ بالآخر اس کا بوجھ ریاست کے خزانے پر پڑنا چاہیے۔کیوں کہ ایک شہری کاو سیع تر عاقلہ اس کی ریاست ہی ہے۔اس قول کا ماخذ وہ حدیث ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رئیس مملکت ہونے کی حیثیت سے فرمایا ہے:
من ترک کلاُّ فالیَّ ومن ترک مال فلورثتہ وانا وارث من لا وارث لہ اعقل لہ وارثہ۔ (ابو دائود، کتاب الفرائض)
’’یعنی اگر کوئی شخص بے سہارا اہل وعیال چھوڑے تو ان کی کفالت میرے ذمے ہے، اور اگر کوئی مال ودولت چھوڑے تو وہ اس کے ورثا کے لیے ہے،اور میں لاوارث کا وارث ہوں،اس کی طرف سے دیت بھی دوں گا اور اس کاورثہ بھی لوںگا۔‘‘
اس حدیث کی رُو سے ریاست ہر اس شہری کی وارث ہے جو لاوارث مرگیا ہو اور ہر اس شہری کی عاقلہ ہے جس کی دیت ادا کرنے والا کوئی نہ ہو۔خود عقل کی رو سے بھی ایسا ہی ہونا چاہیے، کیوں کہ ریاست ملک میں امن کی ذمہ دار ہے۔اگر وہ قتل کو روکنے میں ناکام رہی ہے تو مقتول کے وارثوں کے نقصان کی تلافی یا تو اسے قاتل کے وارثوں اور حامیوں سے کرانی چاہیے یا پھر خود کرنی چاہیے۔
دیت ادا نہ کرسکنے کی صورت میں قاتل کو کوئی متبادل سزا دینے کا ثبوت کتاب وسنت میں مجھے کہیں نہیں ملا،نہ اس بار ے میں سلف سے کوئی معتبر قول منقول ہوا ہے۔
(د) یہ بات اسلامی تصورِ عدل کے خلاف ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کسی کو سزا کے معاف کرنے یا بدلنے کا اختیارحاصل ہو۔ عدالت اگر قانو ن کے مطابق فیصلہ کرنے میں غلطی کرے تو امیر یا صدر حکومت کی مدد کے لیے پریوی کونسل کی طرز کی ایک آخری عدالت مرافعہ قائم کی جاسکتی ہے جس کے مشورے سے وہ ان بے انصافیوں کا تدارک کرسکے جو نیچے کی عدالتوںکے فیصلوں میںپائی جاتی ہوں۔ مگرمجرد’’ رحم‘‘ کی بنا پر عدالت کے فیصلوں میں رد وبدل کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے بالکل غلط ہے۔ یہ ان بادشاہوں کی نقالی ہے جو اپنے اندر کچھ شانِ خدائی رکھنے کے مدعی تھے یا دوسروں پر اس کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔ (ترجمان القرآن۔رمضان،شوال ا۳۷اھ، جون وجولائی۹۵۲اء)