رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
گھر،گھوڑے اور عورت میں نحوست:
سوال: میں رہائش کے لیے ایک مکان خریدنا چاہتا ہوں۔ایک ایسا مکان فروخت ہورہاہے جس کا مالک بالکل لاوارث فوت ہوا ہے اور دُور کے رشتہ داروں کو وہ مکان میراث میں ملا ہے۔میںنے اس مکان کے خریدنے کا ارادہ کیا تو میرے گھر کے بعض افراد مزاحم ہوئے اور کہنے لگے کہ گھر منحوس ہے،اس میں رہنے والوں کی نسل نہیں بڑھتی حتیٰ کہ اصل مالک پر خاندان کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ گھر کے لوگوں نے ان احادیث کا بھی حوالہ دیا جن میں بعض گھروں،گھوڑوں اور عورتوں کے منحوس ہونے کا ذکر ہے۔ میں نے کتب احادیث میں اس سے متعلق روایتیں دیکھیںاور متعارف شروح وحواشی میں اس پر جو کچھ لکھا گیا ہے وہ بھی پڑھا، لیکن جزم ویقین کے ساتھ کوئی متعین توجیہ سمجھ میں نہ آسکی۔اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ٰجواب: جن روایات کا آپ ذکرکررہے ہیں، وہ کتب حدیث میں وارد تو ہوئی ہیںمگر حضرت عائشہؓ کی ایک روایت سے ان کی حقیقت کچھ اور معلوم ہوتی ہے۔امام احمد نے اپنی مسند میں اس کو یوں نقل کیا ہے:
عن ابی حسان الاعرج ان رجلین دخل علی عائشۃ وقالا ان اباھریرۃ یحدث ان النبیﷺ کان یقول انما الطیرۃ فی المرأۃ والدابۃ والدار۔ فقالت والذی انزل الفرقان علی ابی القاسم ما ھکذا کان یقول ولکن کان یقول کان اہل الجاھلیۃ، یقولون الطیرۃ فی المرأۃ والدابۃ والدار، ثم قرأت عائشۃ ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی اَنفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبرأھا ۔
’’ابو حسان اعرج سے روایت ہے کہ دو آدمی حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیںکہ نبیؐ فرمایا کرتے تھے کہ ’’بدشگونی تو صرف عورت اور گھوڑے اور گھر میں ہے۔‘‘اس پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: قسم ہے اُس ذات کی جس نے قرآن ابو القاسم(یعنی آنحضرت ؐ)پر نازل کیا ہے،آپؐ یوں نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ آپؐ یہ کہا کرتے تھے کہ اہل جاہلیت عورت،گھوڑے اور گھر میں نحوست و بدشگونی کے قائل تھے۔پھر حضرت عائشہ نے یہ آیت پڑھی:کوئی مصیبت زمین میں اور تمہار ے نفوس میں نہیں آتی مگر اُس کے رونما ہونے سے پہلے وہ ایک نوشتے میں لکھی ہوتی ہے۔‘‘
ام المومنین کی اس تشریح سے معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے جو روایت بیان کی ہے وہ غالباًصحیح الفاظ میں نقل نہیں ہوئی ہے۔تاہم اگر اس کو درست مان بھی لیا جائے تو اِ س کی ایک معقول توجیہ بھی ہوسکتی ہے۔
نحوست کا ایک مفہوم تو وہم پرستانہ ہے جسے اسلام سے کوئی علاقہ نہیں ہے۔ لیکن نحوست کا ایک دوسرا علمی مفہوم بھی ہے۔اس سے مراد کسی چیز کا ناموافق اور ناسازگار ہونا ہے۔یہ مفہوم معقول بھی ہے اور شریعت میں معتبر بھی۔چنانچہ حدیث میں مکان کے منحوس ہونے کا جہاں ذکر ہے وہاں مطلب یہ نہیں ہے کہ مکان میں کوئی ایسی وہمی چیز موجود ہے جو رہنے والوں کی قسمت بگاڑ دیتی ہے بلکہ اس کا مدعا یہ ہے کہ تجربے اور مشاہدے نے اس مکان کو سکونت کے لیے ناموافق ثابت کردیا ہے۔بسا اوقات کسی مرض کے متعد دمریض ایک مکان میں یکے بعد دیگرے رہتے چلے آتے ہیں یہاں تک کہ مرض کے زہریلے اثرات وہاں مستقل طور پر جاگزیں ہوجاتے ہیں۔ اب اگر تجربے سے معلوم ہوجائے کہ وہاں جو رہاوہ اس مرض خاص میں مبتلا ہوگیا، تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ مکان اب سکونت کے لیے ناموافق ہوگیا ہے۔خصوصیت کے ساتھ طاعون اور دق کے معاملے میں یہ بات بارہا تجربے سے ثابت ہوچکی ہے۔ احادیث میں بھی یہ حکم موجود ہے کہ جہاں طاعون پھیلا ہو،وہاں سے بھاگو بھی نہیں اور قصداًوہاں جائو بھی نہیں۔ایسا ہی معاملہ عورت اور گھوڑے کا بھی ہے۔ اگر متعدد آدمیوں کو ایک گھوڑے کی سواری ناموافق آئی ہو،یا متعدد آدمی ایک عورت سے یکے بعددیگرے نکاح کرکے خاص مرض کے شکار ہوئے ہوں تو یہی سمجھا جائے گا کہ اس عورت یا گھوڑے میں کوئی نامعلوم خرابی ہے۔
اب یہ دیکھنا آپ کا کام ہے کہ جس مکان کو آپ خریدنا چاہتے ہیں،اُس کی نحوست وہمی نوعیت کی ہے یا تجربی نوعیت کی۔
(ترجمان القرآن۔ربیع الثانی۳۷۲اھ، جنوری۹۵۳اء)