رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
زکوٰۃ کی حقیقت اور اس کے اُصولی احکام:
سوال نامہ:
(۱) زکوٰۃ کی تعریف کیا ہے؟
(۲) کن کن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟اس سلسلے میںعورتوں،نابالغوں، قیدیوں، مسافروں،فاترالعقل افراد اور مستامنوں یعنی غیر ملک میں مقیم لوگوں کی حیثیت کیا ہے؟ وضاحت سے بیان کیجیے۔
(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کتنی عمر کے شخص کو بالغ سمجھنا چاہیے؟
(۴) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے عورت کے ذاتی استعمال کے زیور کی کیا حیثیت ہے؟
(۵) کیا کمپنیوں کو زکوٰۃادا کرنی چاہیے یا ہر حصے دار کو اپنے اپنے حصے کے مطابق فرداً فرداً زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟
(۶) کارخانوں اور دوسرے تجارتی اداروں پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کی حدود بیان کیجیے۔
(۷) جن کمپنیوں کے حصص قابل انتقال ہیں، ان کے سلسلے میں تشخیص زکوٰۃ کے وقت کس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی؟حصص کے خریدنے والے پر یا فروخت کرنے والے پر؟
(۸) کن کن اثاثوں اور چیزوں پر اور موجودہ سماجی حالت کے پیش نظر کن کن حالات میں زکوٰۃواجب ہوتی ہے؟بالخصوص ان چیزوں کے بارے میں یا ان سے پیدا شدہ حالات میں کیا صورت ہوگی؟
(ا) نقدی، سونا،چاندی،زیورات او رجواہرات۔
(ب) دھات کے سکے(جن میں طلائی، نقرئی اور دوسری دھاتوں کے سکے شامل ہیں) اور کاغذی سکے۔
(ج) بینکوں میں بقایا امانت،بینک یا کسی دوسری جگہ حفاظت میں رکھی ہوئی چیزیں،لیے ہوئے قرضے،مرہونہ جائداد اور متنازعہ فیہ جائداد اور ایسی جائداد جو قابل ارجاعِ نالش ہو۔
(د) عطیات۔
(ر) بیمے کی پالیسیاں اور پراویڈنٹ فنڈ کی رقمیں۔
(و) مویشی، شیر خانے کی مصنوعات، زرعی پیدا وار مع اناج،سبزیاں،پھل اور پھول۔
(ز) معدنیات۔
(ح) برآمد شدہ فیتہ۔
(ط) آثار قدیمہ۔
(ی) جنگلی اور پالتو مکھی کا شہد۔
(ک) مچھلی، موتی اور پانی سے نکلنے والی دوسری چیزیں۔
(ل) پٹرول
(م) درآمد وبرآمد
(۹) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جن املا ک پر زکوٰۃ واجب تھی کیا خلفائے راشدین نے ان کی فہرست میں کوئی اضافہ فرمایا؟اگر کوئی اضافہ یا تبدیلی کی گئی تو کن اُصولوں پر؟
(۰ا) کیا نکل کے سکوں اور سونے چاندی کے سوا دوسری دھاتوں کے رائج الوقت سکوں پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟جو سکے رائج نہیں رہے یا جو خراب ہیں یا حکومت نے واپس لے لیے ہیں یا دوسرے ملکوں کے سکے ہیں،ان کا بھی اِ س سلسلے میںشمار ہونا چاہیے یا نہیں؟
(۱۱) مال ظاہر اور مال باطن کی تعریف کیا ہے؟اس سلسلے میں بینکوں میں جمع شدہ رقوم کی حیثیت کیا ہے؟
(۱۲) اغراض زکوٰۃ کے لیے مال نامی(نمو پذیر) کی حدود بیان کیجیے۔کیا صرف مالِ نامی پر زکوٰۃواجب ہوگی؟
(۱۳) جو مکان زیورات اور دوسری چیزیں کرائے پر دی جاتی ہیں،ان پر اور ٹیکسی گاڑی موٹر وغیرہ پر زکوٰۃ لگانے کے کیا قاعدے ہونے چاہییں؟
(۱۴) کس آدمی کے کن کن مملوکہ جانوروں پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں بھینسوں، مرغیوں اور دوسرے پالتو اور شوقیہ پالے ہوئے جانوروں کی حیثیت کیا ہے؟ کیا ان پر زکوٰۃ نقدی کی شکل میںیاجنس کی صورت میں یا دونوں طرح دی جاسکتی ہے؟کسی آدمی کے مختلف مملوکہ جانوروں کی کتنی تعداد پر اور کن حالات میں ز کوٰۃ واجب ہونی چاہیے؟
(۱۵) جن مختلف سامانوں اور چیزوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ان پر زکوٰۃ کس شرح سے لی جائے؟
(۱۶) کیا خلفائے راشدین کے زمانے میں نقدی،سکوں،مویشیوں،سامان تجارت، زرعی پیداوار پر زکوٰۃ کی شرح میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟اگر ایسا ہوا تو سند کے ساتھ تفصیلی وجوہ بیان کیجیے۔
(۱۷) نقدی کی صورت میں اگر زکوٰۃ دو سو نقرئی درہم اور۲۰ طلائی مثقال پر واجب ہو تو یہ سکے کتنے پاکستان کے روپوں کے برابر ہوں گے؟اناج کی صورت میںصاع اور وسق پاکستان کے مختلف علاقوں اور صوبوں میں کن مروّجہ اوزان کے برابر ہوں گے؟
(۱۸) کیا موجودہ حالات کے پیش نظر نصاب( وہ کم ازکم سرمایہ جس پر زکوٰۃ واجب ہے)اور زکوٰۃ کی شرح میں کوئی تبدیلی ہوسکتی ہے؟اس مسئلے پر اپنے خیالات دلائل کے ساتھ پیش کیجیے۔
(۱۹) مختلف اثاثوں اور سامان پر کتنی مدت گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟
(۲۰) اگر ایک سال میں کئی فصلیں ہوں تو کیا سال میں صرف ایک بار زکوٰۃادا کرنی چاہیے یا ہر فصل پر؟
(۲۱) زکوٰۃ قمری سال کے حساب سے واجب ہونی چاہیے یا شمسی سال کے حساب سے؟ کیا زکوٰۃ کی تشخیص اور وصولی کے لیے کوئی مہینا مقرر ہونا چاہیے؟
(۲۲) زکوٰۃ کی رقم کن مصارف میں خرچ ہونی چاہیے؟
(۲۳) قرآن حکیم میں جن مختلف مصارف میں زکوٰۃخرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے،ان کی حدود بیان کیجیے۔ بالخصوص اصطلاح ’’ فی سبیل اﷲ‘‘ کے معنی اور مفہوم کی وضاحت کیجیے۔
(۲۴) کیا یہ لازمی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کا ایک حصہ ان مصارف میں سے ہر ایک مصرف پر خرچ کرنے کے لیے الگ رکھا جائے جن کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے یا زکوٰۃ کی پوری رقم قرآن مجید میں بتائے ہوئے تمام مصارف پر خرچ کرنے کے بجائے ان میں سے کسی ایک یا چند مصارف میں بھی خرچ کی جاسکتی ہے۔
(۲۵) مستحقین زکوٰۃ کے ہر طبقے میں کسی فرد کو کن حالات میں زکوٰۃ لینے کا حق پہنچتا ہے؟پاکستان کے مختلف حصوں میں جو حالات پائے جاتے ہیں،ان کی روشنی میں اس امر کی وضاحت کی جائے کہ سیدوں اور بنی ہاشم سے تعلق رکھنے والے دوسرے افراد کو زکوٰۃ لینے کا کہاں تک حق پہنچتا ہے؟
(۲۶) کیا زکوٰۃ صرف افراد کو دی جاسکتی ہے یا اداروں(مثلاً تعلیمی اداروں، یتیم خانوں اور محتاج خانوں وغیرہ )کو بھی دی جاسکتی ہے؟
(۲۷) کیا زکوٰۃ کی رقم میں سے مستحق غریبوں، مسکینوں،بیوائوں اور ان لوگوں کو جو اپاہج یا ضعیف ہونے کی وجہ سے روزی کمانے سے معذور ہوں،عمر بھر کی پنشن کے طور پر گزارا الائونس دیا جاسکتا ہے؟
(۲۸) کیا زکوٰۃ کو رفاہ عامہ کے کاموں مثلاً مسجدوں،ہسپتالوں،سڑکوں،پلوں،کنوئوں اور تالابوں وغیرہ کی تعمیر پر خرچ کیا جاسکتا ہے جس سے ہر آدمی بلا لحاظ مذہب وملت فائدہ اُٹھا سکے؟
(۲۹) کیا زکوٰۃ کی رقم کسی شخص کو قرض حسنہ یا قرضہ بلا سود کے طور پر دی جاسکتی ہے؟
(۳۰ ) کیا یہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ جس علاقے سے وصول کی جائے،اُسی علاقے میں خرچ کی جائے یا اُس علاقے سے باہر یا پاکستان سے باہر تالیف قلوب کے لیے یا آفات ارضی وسماوی مثلا زلزلہ یا سیلاب وغیرہ کے مصیبت زدگان کی امداد پر بھی خرچ کی جاسکتی ہے؟اس سلسلے میں آپ کے نزدیک علاقے کی کیا تعریف ہوگی؟
(۳۱) کسی متوفی کے متروکہ سے زکوٰۃوصول کرنے کا کیا طریقہ ہونا چاہیے؟
(۳۲) ایسی کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں کہ لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے حیلے نہ کرسکیں؟
(۳۳) زکوٰۃ کی تحصیل اور اُس کاانتظام مرکز کے ہاتھ میں ہونا چاہیے یا صوبوں کے ہاتھ میں؟اگر زکوٰۃ مرکز جمع کرے تو اُس میں سے صوبوں یا دوسرے علاقوں کا حصہ مقرر کرنے کے کیااُصول ہوں؟
(۳۴) آپ کی نظر میں زکوٰۃ کے نظم ونسق کو چلانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟کیا زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے کوئی الگ محکمہ قائم کیا جائے یا حکومت کے موجودہ محکموں سے ہی یہ کام لیا جائے؟
(۳۵) کیا کبھی زکوٰۃ کو سرکاری محصول قرار دیا گیا؟ یا وہ کوئی ایسا محصول ہے کہ حکومت محض اُس کی وصولی اور انتظام ہی کی ذمہ دار رہی ہو؟
(۳۶) کیا رسول اکرمؐ کے زمانے یا خلفائے راشدین کے دور حکومت میں اغراض عامہ کے کاموں کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ بھی کوئی سرکاری محصول وصول کیا گیا؟ اگر کیا گیا تو وہ کون سا محصول تھا؟
(۳۷) اسلامی ملکوں میں زکوٰۃ کی وصولی او رانتظام کرنے کا کیا طریقہ رہا ہے اور اب کیا ہے؟
(۳۸) کیا زکوٰۃکی وصولی اور خرچ کا انتظام صرف حکومت کے پاس رہنا چاہیے یا کوئی مجلس اُمنا مقرر ہوکر اس کا انتظام حکومت اور عوام کی مشترکہ نگرانی میں ہونا چاہیے؟
(۳۹) زکوٰۃجمع کرنے اور اس کا انتظام کرنے کے لیے جو عملہ رکھا جائے اس کی تنخواہیں، الائونس،پنشن،پراویڈنٹ فنڈ اور شرائط ملازمت کیا ہونی چاہییں؟
جواب: [ ہر جواب کو پڑھتے وقت سوال کو بھی نگاہ میں رکھیے]۔ (۱)زکوٰۃ کے لغوی معنی طہارت اور نمو کے ہیں۔انھی دونوں صفتوں کے لحاظ سے اصطلاح میں’’زکوٰۃ‘‘اُس مالی عبادت کو کہتے ہیں جو ہر صاحب نصاب مسلمان پر اس لیے فرض کی گئی ہے کہ خدا اور بندوں کا حق ادا کرکے اُس کا مال پاک ہوجائے اور اُس کا نفس،نیز وہ سوسائٹی جس میں وہ رہتا ہے، بخل، خود غرضی، بغض وغیرہ جذبات ردّیہ سے پاک ہو اور اس میں محبت واحسان، فراخ دلی اور باہمی تعاون ومواساۃ کے اوصاف نشو ونما پائیں۔
فقہا نے زکوٰۃ کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں، مثلاً:
حق یجب فی المال۔ (المغنی لا بن قدامہ ج۲ ص۴۳۳)
’’وہ ایک حق ہے جو مال میں واجب ہوتا ہے۔‘‘
اعطاء جزء من النصاب الٰی فقیر ونحوہ غیر متصف بمانع شرعی یمنع من الصرف الیہ ۔ ( نیل الاوطار،ج ۴ص۹۸)
’’نصاب میںسے ایک جز کسی محتاج اور اُس کے مانند شخص کو دینا جو کسی ایسے مانع شرعی سے متصف نہ ہو جس کی بِنا پر اُسے زکوٰۃ نہ دی جاسکے۔‘‘
تملیک مال مخصوص لمستحقہ بشرائط مخصوصۃ ۔
(الفقہ علی المذاہب الاربعہ ج ا ص ۵۹۰)
’’ایک مخصوص مال کو مخصوص شرائط کے مطابق اُس کے مستحق کی ملک میں دینا۔‘‘
(۲) عاقل وبالغ مسلمان مرد وزن اگرصاحب نصاب ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اس کی ادائیگی کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔
نابالغ بچوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ایک مسلک یہ ہے کہ یتیم پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔دوسرا مسلک یہ ہے کہ یتیم کے سن رشد کو پہنچنے پر اُس کا ولی اُس کا مال اُس کے حوالے کرتے وقت اُس کو زکوٰۃ کی تفصیل بتا دے،پھریہ اُس کا اپنا کام ہے کہ اپنے ایام یتیمی کی پوری زکوٰۃادا کرے۔ تیسرا مسلک یہ ہے کہ یتیم کا مال اگر کسی کاروبارمیں لگایا گیا ہے اور نفع دے رہا ہے تو اُس کا ولی اُس کی زکوٰۃ ادا کرے ورنہ نہیں۔چوتھا مسلک یہ ہے کہ یتیم کے مال کی زکوٰۃ واجب ہے اور اس کو ادا کرنا اُس کے ولی کے ذمے ہے۔ہمارے نزدیک یہی چوتھا مسلک زیادہ صحیح ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے:
الا من ولی یتیما لہ مال فلیتجر لہ فیہ ولا یترکہ فتاکلہ الصدقۃ ۔
(ترمذی، دارقطنی،بیہقی،کتاب الاموال لابی عبید)
’’خبر دار جو شخص کسی ایسے یتیم کا ولی ہو جو مال رکھتا ہوتو اُسے چاہیے کہ اُس کے مال سے کوئی کاروبار کرے اور اُسے یونہی نہ رکھ چھوڑے کہ اُس کا سارا مال زکوٰۃ کھا جائے۔‘‘
اسی کے ہم معنی ایک حدیث امام شافعی نے مرسلاً اور ایک دوسری حدیث طبرانی اور ابوعبید نے مرفوعاً نقل کی ہے اور اُس کی تائید صحابہ وتابعین کے متعدد آثار و اقوال سے ہوتی ہے جو حضرت عمر، حضرت عائشہ، حضرت عبداﷲ بن عمر،حضرت علی، حضرت جابر بن عبداﷲرضی اللہ عنہم اور تابعین میں سے مجاہد، عطاء،حسن بن یزید،مالک بن انس اور زہری سے منقول ہیں۔
فاتر العقل لوگوں کے معاملے میں بھی اسی نوعیت کا اختلاف ہے جو اوپر مذکور ہوا ہے اوراس میں بھی ہمارے نزدیک قول راجح یہی ہے کہ مجنون کے مال میں زکوٰۃواجب ہے اور اس کا ادا کرنا مجنون کے ولی کے ذمے ہے۔اما م مالکؒ اور ابن شہاب زہری نے اس رائے کی تصریح کی ہے۔
قیدی پر بھی زکوٰۃواجب ہے۔ جو کوئی اُس کے پیچھے اُس کے کاروبار یا مال کا متولی ہو، وہ اُس کی طرف سے جہاں اُس کے دوسرے واجبات ادا کرے گا،زکوٰۃ بھی ادا کرے گا۔ ابن قدامہ اس کے متعلق اپنی کتاب’’المغنی‘‘ میں لکھتے ہیں:’’اگر مال کا مالک قید ہوجائے تو زکوٰۃاُس پر سے ساقط نہ ہو گی،خواہ قید اُس کے اور اُس کے مال کے درمیان حائل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔کیوں کہ اپنے مال میں اس کا تصرف قانوناًنافذ ہوتا ہے۔اُس کی بیع،اُس کا ہبہ اور اُس کا مختار نامہ، سب کچھ قانوناً جائزہے۔‘‘ (جلد۲، صفحہ۴۴۶)
مسافر پر بھی زکوٰۃواجب ہے۔اس میں شک نہیں کہ وہ مسافر ہونے کی حیثیت سے زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ صاحب نصاب ہے تو زکوٰۃ کا فرض اُس پر سے ساقط ہوجائے گا۔اُس کا سفر اُسے زکوٰۃ کا مستحق بناتا ہے اور اُس کا مال دار ہونا اُس پر زکوٰۃ فرض کرتا ہے۔
پاکستان کا مسلمان باشندہ اگر کسی غیر ملک میں مقیم ہو تو اُس پر زکوٰۃ اس صورت میں عائد ہوگی جب کہ اُس کا مال یا جائداد یا کاروبار پاکستان میںبقدر نصاب موجود ہو۔ کسی مسلمان مملکت کا مسلمان باشندہ اگر پاکستان میں مقیم ہو اور یہاں اُس کے پاس مال یاجائداد یا کاروبار بقدر نصاب ہو تو اُس سے بھی زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔رہا وہ مسلمان جو غیر مسلم حکومت کی رعایا ہواور پاکستان میں رہتا ہو، تو اُسے ادائے زکوٰۃ پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، الایہ کہ وہ بخوشی دینا چاہے۔اس لیے کہ اُس کی آئینی حیثیت اُس حکومت کی غیر مسلم رعایا سے مختلف نہیں ہے۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ الانفال8:72
(۳)زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کسی عمر کی قید نہیں ہے۔جب تک کوئی یتیم سن رشد کونہ پہنچے،اُس کی زکوٰۃ ادا کرنا اُس کے ولی کے ذمے ہے۔ اور جب وہ سن رشد کو پہنچ کر اپنے مال میں خود تصرف کرنے لگے تو وہ اپنی زکوٰۃ خود ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔
(۴)زیور کی زکوٰۃ کے بارے میں کئی مسلک ہیں۔ایک مسلک یہ ہے کہ اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔اُسے عاریتاً دینا ہی اُس کی زکوٰۃ ہے۔یہ انس بن مالک،سعید بن مسیب،قتادہ اور شعبی کا قول ہے۔دوسرا مسلک یہ ہے کہ عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ زیور پرزکوٰۃ دے دینا کافی ہے۔ تیسرا مسلک یہ ہے کہ جو زیور عورت ہر وقت پہنے رہتی ہو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے اور جو زیادہ تر رکھا رہتا ہے،اُس پر زکوٰۃ واجب ہے۔چوتھا مسلک یہ ہے کہ ہر قسم کے زیور پر زکوٰۃ واجب ہے۔ ہمارے نزدیک یہی آخری قول صحیح ہے۔اوّل تو جن احادیث میں چاندی سونے پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کا حکم بیان ہوا ہے،ان کے الفاظ عام ہیں۔مثلاً یہ کہ
فی رقۃ ربع العشر ولیس فی ما دون خمس اواق صدقۃ ۔
’’چاندی میں ڈھائی فی صدی زکوٰۃ ہے اور پانچ اوقیہ سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘
پھر متعدد احادیث وآثار میں تصریح ہے کہ زیورپر زکوٰۃواجب ہے۔چنانچہ ابو دائود، ترمذی اور نسائی میں قوی سند کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ ایک عورت نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اُس کے ساتھ اُس کی ایک لڑکی تھی جس کے ہاتھوںمیں سونے کے کنگن تھے۔آپؐ نے اُس سے پوچھا کہ تم اس کی زکوٰۃدیتی ہو؟اُس نے کہا: نہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: ایسرُّکِ ان یسورک اللّٰہ بھما یوم القیامۃ سوارین من النار(کیا تجھے پسند ہے کہ خدا قیامت کے روز تجھے ان کے بدلے آگ کے کنگن پہنائے؟) نیز مؤطا، ابو دائود اور دارقطنی میں نبیؐ کا یہ ارشاد منقول ہے۔ما ادیت زکٰوتہ فلیس بکنز( جس زیور کی زکوٰۃ تو نے ادا کردی وہ کنزنہیں ہے)۔ابن حزم نے محلّٰی میں بیان کیاہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے گورنر ابوموسیٰ اشعریؓ کو جو فرمان بھیجا تھا، اُس میں یہ ہدایت بھی تھی مرنساء المسلمین یزکین عن حلیھن(مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنے زیوروں کی زکوٰۃ ادا کریں)۔ حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فتویٰ پوچھا گیا کہ زیور کا کیا حکم ہے، تو انھوں نے جواب دیا اذا بلغ مائتین ففیہ الزکٰوۃ(جب وہ دو سو درہم کی مقدار کو پہنچ جائے تو اس میں زکوٰۃ ہے)۔اسی مضمون کے اقوال صحابہ میں سے ابن عباسؓ، عبداﷲ بن عمروؓ بن عاص، اور حضرت عائشہؓ سے،تابعین میں سے سعید بن مسیب، سعید بن جبیر،عطاء، مجاہد، ابن سیرین اور زہری سے اور ائمۂ فقہ میں سے سفیان ثوری،ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب سے منقول ہیں۔
(۵)کمپنیوں کے بارے میں ہمار ا خیال یہ ہے کہ جو حصہ دار قدر نصاب سے کم حصے رکھتے ہوں،یا جو ایک سال سے کم مدت تک اپنے حصے کے مالک رہے ہوں،ان کو مستثنیٰ کرکے باقی تمام حصے داروں کی اکٹھی زکوٰۃ کمپنیوں سے وصول کی جانی چاہیے۔اس میں انتظامی سہولت بھی ہے اور اس طریقے میں کوئی بات ایسی بھی نہیں ہے جو اُصول شرع میں سے کسی اصل کے خلاف پڑتی ہو۔ ہماری یہ رائے امام مالکؒ، امام شافعیؒاور متعدد دوسرے فقہا کے مسلک کے مطابق ہے۔
(بدایۃ المجتہد، ج۱، ص ۲۲۵)
(۶)کارخانوں کی مشینوں اور آلات پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی۔صرف اُس مال کی قیمت پر جو آخر سال میں ان کے پاس خام یا مصنوع شکل میں،اور اُس نقد روپے پر جو ان کے خزانے میں موجود ہو،عائد ہوگی۔اسی طرح تاجروں کے فرنیچر،اسٹیشنری، دکان یا مکان اور اس نوعیت کی دوسری اشیا پر زکوٰۃ عائد نہ ہوگی۔صرف اُس مال کی قیمت پر جو ان کی دکان میں،اور اُس نقد روپے پر جوان کے خزانے میں ختم سال پر موجود ہو،عائد ہوگی [ جو کاروبار اس نوعیت کے ہوں کہ ان کی زکوٰۃکا حساب اس طرح نہ لگایا جا سکے (مثلاً اخبار) ان کے کاروبار کی مالیت ان کی سالانہ آمدنی کے لحاظ سے رائج الوقت قاعدوں کے مطابق مشخص کی جائے اور اس پر زکوٰۃ عائد کی جائے]۔ اس معاملے میں اُصول یہ ہے کہ ایک شخص اپنے کاروبار میں جن عوامل پیدائش سے کام لے رہا ہو وہ زکوٰۃسے مستثنیٰ ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ لیس فی الابل العوامل صدقۃ (کتاب الاموال) یعنی کوئی شخص جن اونٹوں سے آب پاشی کا کام لیتا ہو،ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔کیوں کہ ان کی زکوٰۃ اُس زرعی پیدا وار سے وصول کرلی جاتی ہے جو ان کے عمل سے حاصل کی گئی ہو۔اسی پر قیاس کرکے فقہا نے بالاتفاق دوسرے تمام آلاتِ پیدائش کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
(۷) کمپنیوں کے حو حصے قابل فروخت ہوں وہ جب سال کے دوران میں فروخت کردیے جائیں تو اس سال نہ ان کے بائع پر زکوٰۃواجب ہوگی اور نہ مشتری پر، کیوں کہ دونوں میں سے کسی کی ملکیت پر بھی سال نہ گزرے گا۔
(۸)شریعت میں جو اشیا محل زکوٰۃ ہیں وہ حسب ذیل ہیں:زرعی پیداوار فصل کٹنے کے بعد، سونا چاندی جب کہ وہ سال کے آغاز واختتام پر بقدر نصاب یا اس سے زائد موجود ہوں، اسی طرح نقد روپیا جو سونے چاندی کا قائم مقام ہو،مواشی جب کہ وہ افرایش نسل کے لیے پالے گئے ہوں اور سال کے آغاز واختتام پر وہ بقدر نصاب ہوں،اموال تجارت،جب کہ وہ سال کے آغاز واختتام پر بقدر نصاب ہوں،معادن ورِکاز۔
(الف) نقدی،سونے چاندی اور زیورات پر زکوٰۃہے۔ زیور کی زکوٰۃ میں صرف اُس سونے یاچاندی کے وزن کا اعتبار کیا جائے گا جو ان میں موجود ہو۔ جواہر خواہ زیور میں جڑے ہوئے ہوں یا کسی اور صورت میں ہوں،زکوٰۃسے مستثنیٰ ہیں۔البتہ اگر کوئی شخص جواہری تجارت کرتا ہو تو اُس پر وہی زکوٰۃعائد ہوگی جو دوسرے اموال تجارت پر ہے،یعنی ان کی قیمت کا ڈھائی فی صدی۔’’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘‘میں لکھا ہے:’’موتی،یاقوت اور دوسرے تمام جواہر پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے جب کہ وہ تجارت کے لیے نہ ہوں۔اس پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے۔‘‘(جلدا، صفحہ۵۹۵)
(ب) دھات کے سکے اور کاغذی سکے محل زکوٰۃ ہیں،کیوں کہ ان کی قیمت ان کی دھات یا ان کے کاغذ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اُس قوت خرید کی بِنا پر ہے جو قانوناًاُس کے اندر پیدا کردی گئی ہے،جس کی وجہ سے وہ سونے اور چاندی کے قائم مقام ہیں۔’’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘‘میں ہے:’’جمہور فقہا کی رائے یہ ہے کہ اوراق مالیہ پر زکوٰۃ ہے کیوں کہ وہ تعامل میں سونے اور چاندی کے قائم مقام ہیں اور ان کو بلا تکلف سونے اور چاندی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اسی لیے ائمہ میں سے تین ابو حنیفہؒ، مالکؒ اور شافعیؒ کا مذہب یہ ہے کہ ان پر زکوٰۃ ہے۔‘‘ ( جلد۱، صفحہ۶۰۵)
(ج) بینکوں میںجو امانتیں رکھی ہوں وہ محل زکوٰۃ ہیں۔دوسرے ادارے اگر رجسٹرڈ ہوں اور حکومت ان کے حساب کتاب کی پڑتال کرسکتی ہو،تو ان میں رکھی ہوئی امانتوں کا وہی حکم ہے جو بینک کی امانتوں کا ہے۔ اور اگر وہ رجسٹرڈ نہ ہوں،نہ ان کے حساب کتاب کی پڑتال کرنا حکومت کے لیے ممکن ہو، تو ان میں رکھی ہوئی امانتیں اموال باطنہ کی تعریف میں آتی ہیں،جن کی زکوٰۃ وصول کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ان کے مالک خود ان کی زکوٰۃنکالنے کے ذمہ دار ہیں۔
لیے ہوئے قرضے اگر ذاتی حوائج کے لیے لیے گئے ہوں اور خرچ ہوجائیں تو ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔اگر قرض لینے والا سال بھر تک ان کو رکھے اور وہ بقدر نصاب ہوں تو ان پر زکوٰۃ ہے۔ اور اگر ان کو تجارت میں لگا لیا جائے تو وہ قرض لینے والے کا تجارتی سرمایہ شمار ہوں گے اور اس کی تجارتی زکوٰۃ وصول کرتے وقت اُس کے ایسے قرضوں کو مستثنیٰ نہ کیا جائے گا۔
دیے ہوئے قرضے اگر بآسانی واپس مل سکتے ہوں تو ان پر زکوٰۃواجب ہے۔بعض فقہا کے نزدیک ان کی زکوٰۃ سال بہ سال ادا کرنی ہو گی۔یہ حضرت عثمانؓ،ابن عمرؓ، جابر بن عبداﷲؓ، ابراہیم نخعی اور حسن بصریؒ کامسلک ہے۔ اور بعض کے نزدیک جب وہ قرضے وصول ہوں تو تمام گزشتہ سالوں کی زکوٰۃادا کرنی ہوگی۔یہ حضرت علیؓ،ابو ثورؒ، سفیان ثوری اور حنفیہ کا قول ہے۔اور اگر ان قرضوں کی واپسی مشتبہ ہو تو اس بارے میں ہمارے نزدیک قول راجح یہ ہے کہ جب رقم واپس ملے،اُس وقت صرف ایک سال کی زکوٰۃنکالی جائے۔یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز،حسن، لیث، اوزاعی اور امام مالک کا قول ہے اور اس میں بیت المال اور صاحب مال،دونوں کے مفاد کی منصفانہ رعایت پائی جاتی ہے۔
مرہونہ جائدا د کی زکوٰۃ اُس شخص سے وصول کی جائے گی جس کے قبضے میں وہ ہو۔مثلاً مرہونہ زمین اگر مرتہن کے قبضے میں ہے تو اس کا عشر اُس سے وصول کیا جائے گا۔
متنازع فیہ جائداد کی زکوٰۃ دوران نزاع میں اُس شخص سے لی جائے گی جس کے قبضے میں وہ ہو، اور فیصلہ ہونے کے بعد اُس کی زکوٰۃ کا ذمہ دار وہ ہوگا جس کے حق میں فیصلہ ہو۔
قابل ارجاع نالش جائداد کا بھی وہی حکم ہے جو اوپر بیان ہوا۔وہ بالفعل جس شخص کے قبضے میں ہو اور جب تک رہے،اُس کی زکوٰۃ اسی کے ذمے رہے گی۔کیوں کہ جو شخص کسی چیز سے فائدہ اُٹھاتا ہے،اُس کے واجبات بھی اسی کو ادا کرنے ہوں گے۔
(د) عطیہ اگر بقدر نصاب ہو اور اس پر سال گزر جائے تو جس شخص کو وہ دیا گیا ہو،اُس سے زکوٰۃ لی جائے گی۔
(ہ) بیمہ اور پراویڈنٹ فنڈ اگر جبری ہوں تو ان کا حکم وہی ہے جو عسیر الحصول قرضوں اور امانتوں کا ہے۔یعنی جب ان کی رقم واپس مل جائے تو صرف ایک سال کی زکوٰۃ نکالنی ہوگی۔اور اگر وہ اختیاری ہوں تو ہمارے نزدیک ہر سال کے خاتمے پر جتنی رقم ایک شخص کے حساب میں بیمہ کمپنی یا پراویڈنٹ فنڈ میں جمع ہو،اُس پر زکوٰۃ وصول کی جانی چاہیے۔کیوں کہ اگر چہ یہ رقم اب اُس کے لیے قبل ازوقت قابل وصول نہیں ہے، لیکن اُس نے اپنے مال کو باختیار خود اس حالت میں ڈالا ہے، اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ وہ زکوٰۃ سے بچ جائے۔
(و) شیر خانہ( ڈیری فارم) کے مویشی عوامل کی تعریف میں آتے ہیں اس لیے ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔البتہ شیر خانے کی مصنوعات پر اسی طریقے سے زکوٰۃ عائد ہوگی جس طرح دوسرے کارخانوں پر۔
زرعی پیدا وار میں جو چیزیں ذخیرہ کرکے رکھنے کے قابل ہوں،ان پر عشر یا نصف عشر ہے، اور یہی حکم ان پھلوں کا بھی ہے جو ذخیرہ کرکے رکھے جاسکتے ہوں، جیسے خشک میوہ اور چھوہارے۔ جو زراعت بارانی زمینوں میں ہو اُس پر عشر واجب ہوگا، اور جس میں مصنوعی ذرائع سے آب پاشی کی جائے اُس پر نصف عشر۔
سبزی،ترکاری،پھول اور پھل جو ذخیرہ کرکے نہیں رکھے جاسکتے،ان پر عشر تو نہیں ہے لیکن اگر زمین دار انھیں مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے تو اُس پر تجارتی زکوٰۃعائد ہوگی جب کہ وہ بقدر نصاب ہو۔اس معاملے میں نصاب وہی ہوگا جو تجارت میں معتبر ہے،یعنی اُس کاروبار کا تجارتی سرمایہ سال کے آغاز واختتام پر دو سو درہم یا اس سے زائد ہو۔
(ر) معدنیات کے بارے میں ہمارے نزدیک سب سے بہتر مسلک حنابلہ کا ہے۔ یعنی وہ تمام چیزیں جو زمین سے نکلتی ہیں،خواہ وہ دھات کی قسم سے ہوں یا مائعات( پٹرول،پارہ وغیرہ) کی قسم سے، ان سب پر ڈھائی فی صدی زکوٰۃ ہے جبکہ ان کی قیمت بقدر نصاب ہو اورجب کہ وہ پرائیویٹ ملکیت میں ہوں۔اس مسلک پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت میں عمل بھی تھا۔
(المغنی لابن قدامہ،جلد۲، صفحہ ا۵۸)
(ح) برآمد شدہ دفینہ(رکاز) کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ فی الرکاز الخمس یعنی اس میں خمس(۲۰فی صدی )لیا جائے گا۔
(ط) آثار قدیمہ،یعنی وہ قیمتی نوادر جو کسی نے بطور یادگار اپنے گھر میں رکھ چھوڑے ہوں، ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔البتہ اگر وہ بغرض تجارت ہوں تو ان پر تجارتی زکوٰۃ ہے۔
(ی) شہد کے بارے میں یہ بات مختلف فیہ ہے کہ آیا بجائے خود شہد کی ایک مقدار میں سے زکوٰۃ وصول کی جانی چاہیے یا اُس کی تجارت پر وہی زکوٰۃ عائد کی جائے جو تجارتی مال پر ہے۔حنفیہ اس بات کے قائل ہیں کہ شہد بجائے خود محل زکوٰۃہے، اور یہی مسلک احمد، اسحاق بن راہویہ،عمر بن عبدالعزیز،ابن عمرؓ اور ابن عباسؓ کا ہے،اور امام شافعی کا بھی ایک قول اس کے حق میں ہے۔ بخلاف اس کے امام مالک اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ شہد بجائے خود محل زکوٰۃ نہیں ہے۔ امام شافعی کا بھی مشہور قول یہی ہے۔ اور امام بخاری کہتے ہیں کہلیس فی زکٰوۃ العسل شیٔ یصح ’’شہد کی زکوٰۃ کے معاملے میں کوئی حدیث صحیح موجود نہیں ہے۔‘‘ ہمارے نزدیک بہتر یہ ہے کہ شہد کی تجارت پر زکوٰۃعائد کی جائے۔
(ک) مچھلی بجائے خود محل زکوٰۃنہیں ہے بلکہ اس کی تجارت پر وہی زکوٰۃ واجب ہے جو اموال تجارت پر عائد ہوتی ہے۔
موتی،عنبر اور دوسری وہ چیزیں جو سمندر سے نکلتی ہیں،وہ ہمارے نزدیک معدنیات کے حکم میں ہیں اور ان پر وہی زکوٰۃعائد ہونی چاہیے جو معدنیا ت میں بیان ہوچکی ہے۔یہ امام مالکؒ کا مذہب ہے اور اسی پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت کا عمل رہا ہے۔
(کتاب الاموال ص ۳۴۹،کتاب المغنی لابن قد امہ ،جلد۲،صفحہ۵۸۴)
(ل) پٹرول کا حکم اوپر معادن کے سلسلے میں گزر چکا ہے۔
(م) برآمد پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔درآمد پر جو محصول حضرت عمرؓ کے زمانے میں لیا جاتا تھا،اُس کی حیثیت زکوٰۃ کی نہ تھی،بلکہ وہ صرف جواب تھااُس محصول کا جو ہمسایہ حکومتیں اسلامی مملکت کے مال کی درآمد پر اپنے ملک میں وصول کرتی تھیں۔
(۹) خلافت راشدہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے اموال زکوٰۃ کی فہرست میں کوئی ایسا اضافہ نہیں کیا گیا جو اپنی ایک مستقل بالذات نوعیت رکھتا ہو، بلکہ ایسی چیزوں کا اضافہ کیا گیا تھاجو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کیے ہوئے اموال زکوٰۃ میں سے کسی پر قیاس کی جا سکتی تھیں۔مثلاً حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بھینس کو گائے پر قیاس کیا اور اس پر وہی زکوٰۃعائد کی جو گائے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی تھی۔
(۰ا) ہر قسم کے سکوں پر زکوٰۃعائد ہوگی۔اوپر نمبر(۸)ضمن(ب) میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
جو سکے رائج نہیں ہیں،یا جو خراب ہیں،یا جو حکومت نے واپس لے لیے ہیں،ان میں اگر چاندی یا سوناموجودہو تو ان پر چاندی یا سونے کی اس مقدار کے لحاظ سے زکوٰۃ عائد ہوگی جو ان کے اندر پائی جاتی ہے۔
دوسرے ملکوں کے سکے اگر ہمارے ملک کے سکوں سے بآسانی تبدیل کیے جاسکتے ہیں تو ان کا حکم نقدی کا ہے۔اور اگر تبدیل نہ کیے جاسکتے ہوں تو ان پر صرف اس صورت میں زکوٰۃ عائد ہوگی جب کہ ان کے اندر بقدر نصاب سونا یا چاندی موجود ہو۔
(۱۱) مال ظاہر وہ ہے جس کا معائنہ اور تشخیص عاملین حکومت کرسکتے ہوں اور مال باطن وہ جو عاملین حکومت کے لیے قابل معائنہ وتشخیص نہ ہو۔بینکوں میں جمع شدہ رقوم مال ظاہر کی تعریف میںآتی ہیں۔
(۲ا) مالِ نامی وہ ہے جو یا تو طبعاً افزایش کے قابل ہو، یا جسے سعی وعمل سے بڑھایا جاسکے۔اس تعریف کی رو سے زکوٰۃ انھی اموال پر عائد کی گئی ہے جو نامی ہیں۔اور جمع شدہ روپے پر اس لیے عائد کی جاتی ہے کہ اس کے مالک نے اسے نمو سے روک رکھا ہے۔
(۳ا) جو اشیا کرائے پر دی جاتی ہیں،ان کی مالیت رائج الوقت قواعد کے مطابق ان کے منافع سے تشخیص کی جائے اور اس پر ڈھائی فی صدی زکوٰۃ لی جائے۔لیث بن سعد کہتے ہیں کہ’’میں نے دیکھا ہے کہ جو اونٹ کرائے پر چلائے جاتے ہیں،ان پر مدینے میں زکوٰۃ لی جاتی تھی۔‘‘
(کتاب الاموال،صفحہ۳۷۶)
(۴ا) مویشی(مثلاً اونٹ،گائے،بھینس،بکری اور جو ان کے مانند ہوں)اگر افزایش نسل کی غرض سے پالے جائیں اور بقدر نصاب یا اس سے زائد ہوں تو ان پر وہ زکوٰۃ عائد ہوگی جو شریعت میں مواشی کے لیے مقرر ہے(اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سیرت النبی مصنفہ مولانا سیّد سلیمان ندوی،جلد۵، صفحہ۱۶۵تا۱۶۷)۔ اورا گر وہ تجارت کے لیے ہوں تو ان پر تجارتی زکوٰۃ ہے۔یعنی اگر ان کی قیمت بقدر نصاب (دو سو درہم) یا اس سے زائد ہو تو ان پر ڈھائی فی صدی زکوٰۃ لی جائے گی۔اور اگر ان سے زراعت یاحمل ونقل کا کام لیا جاتا ہو،یا کسی شخص نے ان کو ذاتی استعمال کے لیے پالا ہو، تو ان کی تعداد خواہ کتنی ہی ہو،ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔
مرغیاں اور دوسرے جانور اگر شوقیہ پالے جائیں تو و ہ زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں۔ اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان پر تجارتی زکوٰۃ ہے۔ اور اگر انڈوں کی فروخت کے لیے مرغی خانہ قائم کیا جائے تو اُس کا وہی حکم ہے جو شیر خانہ اور دوسرے کارخانوں کا ہے۔
مویشی کی زکوٰۃنقدی کی صورت میں بھی وصول کی جاسکتی ہے اور خود مویشی بھی زکوٰۃ میں لیے جاسکتے ہیں۔اس پر حضرت علیؓ کا فتویٰ ہے۔ (کتاب الاموال،صفحہ۳۶۸)
(۵ا) جن مختلف سامانوں پر زکوٰۃ واجب ہے،ان کی شرح حسب ذیل ہے:
زرعی پیدا وار=۰افی صدی جب کہ وہ بارانی زمینوں سے حاصل ہو۔
زرعی پیداوار = ۵فی صدی جب کہ وہ مصنوعی آب پاشی سے حاصل ہو۔
نقدی اور سونا چاندی= ڈھائی فی صدی۔
اموال تجارت= ڈھائی فی صدی۔
مواشی= جیسا کہ اوپر بیان ہوا،اس کا تفصیلی نقشہ سیرۃالنبی جلد پنجم میں ملاحظہ ہو۔
معادن= ڈھائی فی صدی۔
رکاز = ۲۰فی صدی
کارخانوں کے اموال= ڈھائی فی صدی
(۶ا) خلفائے راشدین کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کیے ہوئے نصاب اور شرح زکوٰۃ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی،نہ اب اس کی کوئی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اور ہمارا خیال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی آپؐ کی مقرر کردہ مقادیر میں ترمیم کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
(۷ا) نقدی،چاندی، اموال تجارت،معادن،ارکازا ور کارخانوں کے اموال میں نصاب دو سو درہم ہے۔مولانا عبدالحی صاحب فرنگی محلّی کی تحقیق یہ ہے کہ دو سو درہم کی چاندی ہمارے ملک کے معیار ی وزن کے حساب سے ۳۶تولہ ۵ماشہ۴رتی ہوتی ہے۔ مگر مشہور ساڑھے باون تولہ چاندی ہے۔
۲۰طلائی مثقال کے متعلق مولانا عبدالحی صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ وہ۵تولہ۲ماشہ۴رتی سونے کے برابر ہیں۔اور عام طور پر مشہور یہ ہے کہ ساڑھے سات تولے کے برابر۔
کتاب الاموال لابی عبید میں جو حساب لگایا گیا ہے،اُس کی رُو سے دس درہم کا وزن ۱۰-۳ ۸۲ جَوبنتا ہے اور وہ ۷ مثقال طلائی کے برابر ہے۔
(۱۸) اس کا جواب نمبر۶امیں گزر چکا ہے۔ البتہ سونے کے نصاب میں تبدیلی ممکن ہے، کیوں کہ اس کا نصاب ۲۰مثقال جس روایت میں آیا ہے،اُس کی سند بہت ضعیف ہے۔
(۱۹) معادِن،رکاز اور زرعی پید اوار کے سوا تمام صورتوں میں واجب زکوٰۃ کے لیے یہ شرط ہے کہ قدرنصاب یا اس سے زائد مال پر ایک سال گزر جائے۔معادن اور رکاز کے لیے سال گزرنے کی شرط نہیں ہے۔اور زرعی پیدا وار پر فصل کٹنے کے ساتھ ہی زکوٰۃ واجب ہوجائے گی،خواہ سال میں دو یا زائد فصلیں کاٹی جائیں۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ وَاٰتَوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ۔
(۲۰) اس کا جواب نمبر۹امیں گزر چکا ہے۔
(۲۱) چوں کہ آج کل تمام مالی معاملات اور حساب کتاب شمسی سال کے لحاظ سے ہورہے ہیں اس لیے زکوٰۃ کے معاملے میں بھی شمسی سال ہی استعمال کیا جائے تو مضائقہ نہیں ہے۔قمری سال کا وجوب اس معاملے میں کسی نص سے ثابت نہیں ہے۔
تحصیل زکوٰۃ کے لیے کوئی خاص مہینا شرعاًمقرر نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت جس تاریخ سے زکوٰۃ کی تحصیل کا انتظام شروع کرے،اُسی سے سال کا آغاز ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
(۲۲و۲۳) قرآن مجید میں زکوٰۃ کے آٹھ مصرف بیان کیے گئے ہیں:فقرا،مساکین، عاملین زکوٰۃ، مؤلفۃ القلوب،رقاب،غارمین،فی سبیل اﷲ،ابن السبیل۔
فقیر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اپنی بسر اوقات کے لیے دوسروں کا محتاج ہو۔یہ لفظ تمام حاجت مندوں کے لیے عام ہے، خواہ وہ بڑھاپے یا کسی جسمانی نقص کی وجہ سے مستقل طور پر محتاج اعانت ہوگئے ہوں،یا کسی عارضی سبب سے سردست مدد کے محتاج ہوںاور کچھ سہارا پاکر اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکتے ہوں،جیسے یتیم بچے،بیوہ عورتیں،بے روزگار لوگ اور وہ لوگ جو کسی وقتی حادثے کاشکار ہو گئے ہوں۔
مسکین کی تشریح حدیث میں یہ آئی ہے کہ الذی لا یجد غنی یغنیہ ولا یفطن لہ فیتصدق علیہ ولا یقوم فیسأل الناس۔ ’’جو نہ اپنی حاجت بھر مال پاتا ہے،نہ پہچانا جاتا ہے کہ لوگ اُس کی مدد کریں،نہ کھڑے ہوکر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے۔‘‘اس لحاظ سے مسکین اُس شریف آدمی کو کہتے ہیں جو اپنی روزی کمانے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا ہو مگر اپنی ضرورت کے قابل روزی نہ پاسکتا ہو۔ لوگ اُسے برسر روزگار پاکر اُس کی مدد نہیں کرتے اور وہ اپنی شرافت کی وجہ سے مدد مانگتا نہیںپھر سکتا۔
عاملین سے مراد وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کی تحصیل، تقسیم اور اُس کے حساب کتاب کا انتظام کرتے ہوں۔وہ صاحب نصاب ہوں یا نہ ہوں، ہر حال میں وہ اس مد سے اپنے کام کی تنخواہ پائیں گے۔
مؤلفۃ القلوب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اسلام اور اسلامی مملکت کے مفاد کی مخالفت سے روکنا، یا اس مفاد کی خدمت پر آمادہ کرنا مقصود ہو اور اس غرض کے لیے مال دے کر ان کی تالیف قلب کرنے کے سوا چارہ نہ ہو۔یہ لوگ کافر بھی ہوسکتے ہیں اور ایسے مسلمان بھی جن کاا سلام انھیں اسلامی مفاد کی خدمت پر اُبھارنے کے لیے کافی نہ ہو۔نیز یہ لوگ اسلامی مملکت کے باشندے بھی ہوسکتے ہیں اور کسی بیرونی مملکت کے بھی۔ اس قسم کے لوگ اگر صاحب نصاب بھی ہوں تو ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے بشرطیکہ اسلامی حکومت اس کی ضرورت محسوس کرے۔ ہمیں اس خیال سے اتفاق نہیں ہے کہ مولفۃ القلوب کا حصہ ہمیشہ کے لیے ساقط ہوچکا ہے۔حضرت عمرؓ نے اس بارے میں جو رائے قائم کی تھی وہ ان کے اپنے زمانے کے لیے تھی نہ کہ آئندہ تمام زمانوں کے لیے۔
رقاب سے مراد غلام ہیں۔ غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے زکوٰۃ دینا اس مد میں شامل ہے۔اگر کسی زمانے میں غلام موجود نہ ہوں تو یہ مد ساقط رہے گی۔
غارمین سے مراد ایسے قرض دار لوگ ہیں جو اگر اپنا پورا قرض ادا کردیں تو ان کے پاس بقدر نصاب مال باقی نہ رہے۔ایسے لوگ کمانے والے بھی ہوسکتے ہیں اور بے روزگار بھی۔
فی سبیل اللّٰہ سے مراد جہاد فی سبیل اﷲ ہے،خواہ وہ تلوار سے ہو یا قلم وزبان سے، یا ہاتھ پائوں کی محنت اور دوڑ دھوپ سے۔سلف میں سے کسی نے بھی اس لفظ کو رفاہ عام کے معنی میں نہیں لیاہے۔ان کے نزدیک بالاتفاق اس کا مفہوم ان مساعی تک محدود ہے جو خد اکے دین کو قائم کرنے، اُس کی اشاعت کرنے اور اسلامی مملکت کا دفاع کرنے کے لیے کی جائیں۔
ابن السبیل یعنی مسافر۔ ایسا شخص خواہ اپنے گھرمیں غنی ہو،لیکن اگر حالت سفر میں وہ مدد کا حاجت مند ہو جائے تو زکوٰۃ سے اُس کی مدد کی جاسکتی ہے۔
(۲۴) یہ ضروری نہیں ہے کہ زکوٰۃ کی رقم ان تمام مصارف میں صرف کی جائے جو قرآن میں مقرر کیے گئے ہیں۔حکومت حسب موقع وضرورت ان میں سے جن جن مصارف میں جس جس قدر مناسب سمجھے خرچ کرسکتی ہے۔حتیٰ کہ اگر ضرورت پڑجائے تو ایک ہی مصرف میں ساری زکوٰۃ خرچ کی جاسکتی ہے۔
(۲۵) مستحقین زکوٰۃ میں سے فقیر اور مسکین اس صورت میں زکوٰۃ لے سکتا ہے جب کہ وہ صاحب نصاب نہ ہو۔عاملین اور مولفۃ القلوب صاحب نصاب ہوں تب بھی ان کو زکوٰۃکی مد سے دیا جاسکتا ہے۔غلام کا غلام ہونا بجائے خود اُسے اس بات کا مستحق بناتا ہے کہ اُ س کی آزادی پر زکوٰۃ صرف کی جائے۔قرض دار اس حالت میں زکوٰۃ لے سکتا ہے جب کہ وہ اپنا پورا قرض ادا کرکے صاحب نصاب نہ رہ سکتا ہو۔راہ ِخدا میں جہاد کرنے والے اگر بجائے خود صاحب نصاب بھی ہوں تو اس جہاد کے مصارف کے لیے انھیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ابن السبیل ایسی صورت میں زکوٰۃ پاسکتاہے جب کہ حالت سفر میں وہ مدد کا محتاج ہو۔
بنی ہاشم پر زکوٰۃلینا حرام ہے۔مگر آج پاکستان میں یہ تحقیق کرنا بہت مشکل ہے کہ کون ہاشمی ہے اور کون نہیں ہے۔اس لیے حکومت تو ہر شخص کو زکوٰۃ دے گی جو اس کا حاجت مند نظر آئے۔یہ لینے والے کا اپنا کام ہے کہ اگر وہ اپنے ہاشمی ہونے کا یقین رکھتا ہو تو زکوٰۃ نہ لے۔
(۲۶) زکوٰۃ جب حکومت کے خزانے میں جمع ہوجائے تو وہ افراد اور اداروں سب کو دے سکتی ہے اور خود بھی زکوٰۃ سے ایسے ادارے قائم کرسکتی ہے جو مصارف زکوٰۃ سے متعلق ہوں۔
(۲۷) جو لوگ زکوٰۃ کے مستقل یا عارضی طور پر محتاج ہوں،ان کو مستقل طور پر یا عارضی طور پر وظائف دیے جاسکتے ہیں۔
(۲۸) مصارف زکوٰۃ کی مد فی سبیل اﷲ اتنی عام نہیں ہے کہ’’رفاہ عام‘‘ کی ہم معنی قرار پائے۔
(۲۹) زکوٰۃ کی مد سے قرض حسن دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، بلکہ موجودہ حالات میں حاجت مند لوگوں کو قرض دینے کے لیے بیت المال میں ایک مد مخصوص کردینا ہمارے نزدیک مستحسن ہے۔
(۳۰) عام حالات میں تو یہی مناسب ہے کہ ایک علاقے کی زکوٰۃ اسی علاقے کے حاجت مندوں پر صرف کی جائے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں ایک مرتبہ رے کی زکوٰۃ کوفہ منتقل کردی گئی تو انھوں نے حکم دیا کہ وہ رے واپس کی جائے (کتاب الاموال،صفحہ۵۹۰)۔ البتہ اگر دوسرے کسی علاقے میں کوئی زیادہ شدید ضرورت پیش آجائے تو ایسے علاقوں کی زکوٰۃ، جہاں زکوٰۃ کے بقایا موجود ہوں،یا جہاں کی ضروریات کم تر درجے کی ہوں،ضرورت مند علاقے میں لے جا کر صَرف کی جاسکتی ہے۔ملک سے باہر بھی اگرکوئی بڑی مصیبت پیش آجائے تو انسانی ہم دردی اور تالیف قلوب کی خاطر زکوٰۃ بھیجی جاسکتی ہے،مگر اس امر کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ خود ملک کے اندر جو حاجت مند ہیں،وہ محروم نہ رہ جائیں۔
علاقے سے مراد انتظامی حلقے ہیں۔اس سے مراد ضلع، قسمت اور صوبہ تینوں ہوسکتے ہیں۔ملک کے لحاظ سے ایک علاقہ صوبہ ہوگا۔صوبے کے لحاظ سے قسمت اور قسمت کے لحاظ سے ضلع۔
(۳۱) متوفی کے ترکے سے پہلے وہ قرضے ادا کیے جائیں گے جو ا س نے دوسرے لوگوں سے لیے ہوں،پھر زکوٰۃ کے بقایا، پھر وصیت، اور اُس کے بعد جو کچھ بچے گا،وہ وارثوں میں تقسیم ہوگا۔صاحب مال کی موت کی وجہ سے اُس کی زکوٰۃساقط نہیں ہوجاتی۔اُس نے چاہے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو،وہ اُس کے مال میں سے نکالی جائے گی۔عطاء،زہری، قتادہ،امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام محمدؒ، اسحاق بن راہویہ اور ابو ثور کی رائے قریب قریب یہی ہے۔بعض فقہا نے یہ رائے دی ہے کہ اگر صاحب مال نے زکوٰۃ کے لیے وصیت کی ہو تو وہ نکالی جائے گی ورنہ نہیں۔ مگر ہماری رائے میں اس کا تعلق صرف اموال باطنہ سے ہے،کیوں کہ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ صاحب مال نے اپنی موت سے پہلے زکوٰۃنکال دی ہو اور دوسروں کو اس کی خبر نہ ہو۔لیکن جب کہ اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ وصول کرنے کا باقاعدہ انتظام حکومت کررہی ہو،تو ایسا کوئی احتمال باقی نہیں رہتا۔اس لیے زکوٰۃ کے بقایا اُس شخص کے ذمے بمنزلہ قرض ہوں گے۔ پہلے اُس کے مال میں سے افراد کا قرض وصول کیا جائے اور اس کے بعد خدا اور جماعت کا۔
(۳۲) زکوٰۃ سے بچنے کے حیلوں کا علاج تین طریقوں سے ہوسکتا ہے:
اوّل یہ کہ حکومت کا انتظام ایمان دار لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو رشوتیں نہ کھائیں،زکوٰۃ کی تحصیل اور تقسیم میں جانب داری اور بددیانتی سے کام نہ لیں،اور نہ اموال زکوٰۃ کا بڑا حصہ اپنی تنخواہوں اور الائونسوں پر صرف کردیں۔محصلین کی دیانت لوگوں میں یہ اعتماد پیدا کرے گی کہ ان کی زکوٰۃ صحیح طریقے سے وصول اور صحیح مصارف میں صرف کی جائے گی، اس لیے وہ ادائے زکوٰۃ سے بچنے کی کوشش نہ کریں گے۔
دوم یہ کہ اجتماعی اخلاق کی اصلاح کی جائے اور لوگوں کی سیرت وکردار کو خداکی محبت اور اس کے خوف پر تعمیر کیا جائے۔حکومت کا کام صرف انتظام ملک اور دفاع ملک تک ہی محدود نہ رہے بلکہ وہ عوام کی تربیت کا فریضہ بھی انجام دے۔
سوم یہ کہ زکوٰۃ سے بچنے کی عام اور ممکن التصور صورتوں کے خلاف قوانین بنائے۔مثلاًجو شخص اپنے قابل زکوٰۃ اموال کو ختم سال سے پہلے کسی غیر معمولی مقدار میں اپنے کسی عزیز کے نام منتقل کرے،اُس پر مقدمہ چلایا جائے اور بار ثبوت اس پر ڈالا جائے کہ اُس نے یہ انتقالِ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے نہیں کیا ہے۔
(۳۳) ہماری رائے میں زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کا انتظام صوبوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور مرکز کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ ایک صوبے کی وافر زکوٰۃ دوسرے صوبوں میں بھجوا سکے جہاں کی زکوٰۃ معمولی یا غیر معمولی مقامی ضرورتوں کے لیے کافی نہ ہو رہی ہو۔نیز مرکز کو یہ بھی اختیا ر ہونا چاہیے کہ اگر زکوٰۃ کی مد سے کچھ ایسے ادارے قائم کرنے یا کچھ ایسے کام کرنے کی ضرورت پیش آئے جن کا تعلق ملک کے اندر اور باہر’’فی سبیل اﷲ‘‘ خدمات انجام دینے سے ہو،یا ملک کے باہر غیر معمولی مصائب کے موقع پر مددبھیجنے کی ضرورت ہو، تو وہ صوبوں سے ان کی زکوٰۃ کا ایک حصہ طلب کرسکے۔
(۳۴) اقسام ہمارے نزدیک زکوٰۃ کی تحصیل کے لیے کوئی الگ محکمہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مختلف اقسام کی زکوٰۃ وصول کرنا ایسے محکموں کے سپر د ہونا چاہیے جن کے فرائض اسی قسم کے دوسرے ٹیکس وصول کرنے سے متعلق ہیں۔ مثلا زرعی زکوٰۃ اور مواشی کی زکوٰۃ وصو ل کرنا محکمۂ مال کے سپر د ہو۔اموال تجارت کی زکوٰۃ انکم ٹیکس کا محکمہ وصول کرے۔ کارخانوں کی زکوٰۃ ایکسائز کا محکمہ۔ وعلیٰ ہذا القیاس۔ زکوٰۃ کی حفاظت سرکاری خزانے کے سپرد اور اس کا حساب اکائونٹنٹ جنرل کے محکمے کے سپر دہو۔
اگر ہماری سفارش کے مطابق زکوٰۃ کوصوبوں کے انتظا م میں دیا جائے اور تحصیل زکوٰۃ کے کسی شعبے کا کام کسی ایسے محکمے کے حوالے کرنا پڑے جو مرکزی محکمہ ہو، تو باہمی قرار داد سے یہ انتظام کیا جاسکتا ہے کہ تحصیل زکوٰۃ کی حد تک اس محکمے کے مصارف صوبہ ادا کردیا کرے۔
البتہ زکوٰۃ کی تقسیم اور مصارف زکوٰۃ میں اموال زکوٰۃ کو خرچ کرنے کے لیے ایک الگ محکمہ قائم ہونا ضروری ہے جسے کسی ایسے وزیر کے ماتحت رکھا جائے جو اوقاف اور دوسرے مذہبی اداروں کی نگرانی کا کام بھی کرتا ہو۔
(۳۵) یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ زکوٰۃ کوئی’’ٹیکس‘‘نہیں ہے بلکہ ایک مالی عبادت ہے۔ ’’ٹیکس‘‘ اور ’’عبادت‘‘ میں بنیادی تصور اور اخلاقی روح کے اعتبار سے زمین وآسمان کا فرق ہے۔ حکومت کے کارندوں اور زکوٰۃ دینے والوں میں اگر ’’عبادت‘‘ کے بجائے ’’ٹیکس‘‘ کی ذہنیت پیدا ہوجائے تو یہ ان اخلاقی وروحانی فوائد کو بالکل ہی ضائع کردے گی جو زکوٰۃ سے اصل مقصود ہیں، اور اجتماعی فوائد کو بھی بہت بڑی حد تک نقصان پہنچائے گی۔حکومت کے سپرد زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کرنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ ایک سرکاری محصول ہے،بلکہ دراصل اس عبادت کا انتظام اس وجہ سے حکومت کے سپرد کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی تمام اجتماعی عبادات میں نظم پید اکرنا ایک اسلامی حکومت کا فریضہ ہے۔اقامت صلوٰۃ اور امارت حج بھی اسی طرح اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے جس طرح تحصیل وتقسیم زکوٰۃ۔
(۳۶) حدیث میں اصول بیان کیا گیا ہے کہ’’ ان فی المال حقًّا سوی الزکٰوۃ ۔‘‘’’آدمی کے مال میں زکوٰۃ کے سوا اور بھی حق ہے۔‘‘ اس اصولی ارشاد کی موجودگی میں یہ سوال ہی پیدانھیں ہوتا کہ کیا ایک اسلامی حکومت زکوٰۃ کے سوا دوسرے محاصل عائد کرسکتی ہے۔پھر جب کہ قرآن میں زکوٰۃ کے لیے چند مخصوص مصارف معین کردیے گئے ہیں تو لامحالہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان مصارف کے ماسوا جو دوسرے فرائض حکومت کے ذمے عائد ہوں،ان کو بجا لانے کے لیے وہ دوسرے محاصل پبلک پر عائد کرے۔نیز قرآن میں یہ اُصولی ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ۰ۥۭ قُلِ الْعَفْوَ۰ۭ البقرہ 219:2 ’’تم سے پوچھتے ہیںکہ ہم کیا خرچ کریں،کہو عفو۔‘‘ عفو کا لفظ(economic surplus) کا ہم معنی ہے اور اس میں نشان دہی کی گئی ہے کہ ’’عفو‘‘ٹیکس کا صحیح محل ہے۔مزید برآں ایسے نظائر بھی موجود ہیں کہ خلفائے راشدین کے عہد میں دوسرے محاصل عائد کیے گئے ہیں۔مثلاًحضرت عمرؓ کے عہد میں محصول درآمد مقرر کیا گیا اور اس کا شمار ’’زکوٰۃ‘‘ میں نہیں بلکہ’’فے‘‘( حکومت کی عام آمدنیوں) میں تھا۔علاوہ بریں شریعت میںکوئی ایسی ہدایت موجود نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکے کہ حکومت اجتماعی ضروریات کے لیے کوئی دوسرا ٹیکس نہیں لگا سکتی، اور اُصول یہ ہے کہ جس چیز سے منع نہ کیا گیا ہو،وہ مباح ہے۔ فقہائے اسلام سے بھی، جہاں تک ہم کو معلوم ہے، ایک غیر معروف شخصیت ضحاک بن مزاحم کے سوا کوئی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ’’نسخت الزکٰوۃ حق فی المال۔(زکوٰۃ نے مال میں ہر دوسرے حق کو منسوخ کردیا ہے)۔ضحا ک کی اس رائے کو کسی قابل ذکر فقیہ نے تسلیم نہیں کیا ہے۔
(المحلّٰی لابن حزم،جلد۲،صفحہ۵۸ا)
(۳۷) صدر اوّل میں حکومت کی طرف سے محصلین مقرر تھے جو اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ ان مقامات پر خود ہی جا کر وصول کرتے تھے جہاں وہ اموال ہوں۔ زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے الگ خزانے نہیں تھے بلکہ حکومت کے خزانۂ عامرہ ہی میں وہ جمع ہوتی تھی، البتہ اس کا حساب کتاب الگ رہتا تھا اور زکوٰۃ کی تقسیم حکومت کے وہ عمال کرتے تھے جن کے سپرد،دوسری سرکاری خدمات بھی ہوتی تھیں۔ تقسیم زکوٰۃ کے لیے کسی الگ محکمے کا وجود ہمارے علم میں نہیں ہے۔لیکن یہ ایسے انتظامی معاملات ہیں جن میں آج کے احوال وضروریات کے لحاظ سے ہم جس طرح مناسب سمجھیں عملی صورتیں اختیار کرسکتے ہیں۔
موجودہ مسلم حکومتوں کے متعلق ہمیں معلوم نہیں ہے کہ کسی نے زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کا باقاعدہ انتظام کیا ہو۔
(۳۸) ہماری رائے میں زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کا انتظام اسلامی حکومت ہی کو کرنا چاہیے۔
(۳۹) زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کا انتظام کرنے والے عملے کی حیثیت تنخواہوں، الائونسوں، پنشنوں اور شرائط ملازمت کے لحاظ سے دوسرے سرکاری ملازمین سے مختلف نہ ہونی چاہیے۔ البتہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے میں حکومت کو اپنے طریق کار میں بنیادی تبدیلیاں کرنی چاہییں۔ موجودہ افراط وتفریط اگر بحال رہے تو نہ زکوٰۃ کی تحصیل صحیح طریقے سے ہوسکے گی اور نہ اُس کی تقسیم۔
(ترجمان القرآن، محرم۳۷۰اھ، نومبر۹۵۰اء)