مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مذکورۂ بالا مسئلے پر مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی سے مراسلت

مولانا ظفر احمد صاحب کا مکتوب:

مکرمی مولانا سیّد ابوالاعلیٰ صاحب! زادت محاسنکم

السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!مجھے آپ سے غائبانہ محبت ہے جس کی شہادت خود آپ کا ضمیر دے گا اور میرا یہ طرز عمل بھی کہ میں گاہے گاہے تھانہ بھون اور ڈھاکا سے آپ کو ازخود لکھتا رہا ہوں۔یہ خط بھی اسی غائبانہ محبت کی بنا پر از خود لکھ رہا ہوں۔ مجھے یہ معلوم کرکے افسوس ہوا کہ آج کل بعض علما نے آپ کی تکفیر وتفسیق کے لیے فتویٰ نویسی شروع کردی ہے اور آپ کوجماعت اہل حق سے جدا سمجھ لیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ آپ کو اہل حق سے الگ نہ کرے۔پھر کسی کے الگ کرنے کی پروا نہیں ؎

لکل شیٔ اذا فارقتہ عوض

و لیس للّٰہ ان فارقت من عوض

میں نے ترجمان القرآن میں ایک مخدوم زادہ بزرگ کا مضمون پڑھا۔افسوس ہے کہ انھوں نے تصور شیخ کی وہی تصویر پیش کی ہے جس کی بِنا پر محققین نے اس کی تعلیم موقوف کی تھی۔تصور شیخ کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ وصول الی اﷲ کے لیے قلب کو حب دنیا اور علائق ماسویٰ اﷲ سے پاک وصاف کرنا ضروری ہے۔اس کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ ہر چیز کی محبت کو ایک ایک کرکے الگ الگ نکالا جائے۔ یہ راستہ طویل بھی ہے اور بعض کے لیے دشوار بھی۔ اس لیے بعض محققین نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ان سب پر کسی ایک کی محبت کو غالب کردیا جائے۔اس کے غلبے سے دوسری اشیا کی محبت مغلوب ومضمحل ہوکر معدوم یا کالعدم ہوجائے گی۔ پھر اس ایک کی محبت کا مغلوب کرنا یا نکالنا زیادہ دشوار نہ ہوگا۔ اس کے لیے محبت شیخ کو تجویز کیا گیا کہ اس سے طالب کو فی الجملہ محبت ہوتی ہی ہے، اور چوں کہ یہ محبت لوجہ اﷲ ہے اس لیے اس کا غلبہ محبت حق میں معین رہے گا،اس سے مانع نہ ہوگا۔جب غلبۂ حب شیخ سے دوسری اشیا کی محبت مغلوب ہوجائے تو حب شیخ کو مغلوب کرنے کے لیے تصور رسولؐ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے بعد فنا فی اﷲ کا راستہ شروع کردیا جاتا ہے۔ مگر جب کم فہموں نے تصور شیخ کا مطلب وہ سمجھ لیا جو ہمارے مخدوم زادہ بزرگ نے بیان فرمایا ہے تو محققین نے اس کی تعلیم موقوف کردی اور اس کو ماھذہ التماثیل التی انتم لھا عاکفون کا مصداق بتلایا۔ اس مسئلے میں آپ کے رسالے میں جو کچھ لکھا گیا ہے میں اُس کی تائید کرتا ہوں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی میں دوسرے مسئلے میں اپنے مخدوم زادہ کی تصدیق کرتا ہوں کہ آپ اور آپ کی جماعت کے بعض افراد قرآن وحدیث سے براہ راست استنباط کرنا چاہتے ہیں، اور اس کی پروا نہیں کرتے کہ وہ استنباط فقہائے اُمت کے موافق ہے یا خلاف۔ اس کی تازہ مثال ترجمان القرآن جلد۳۶، عدد۲، بابت شعبان ۳۷۰اھ، مطابق جون ا۹۵ا ء میں ابھی ابھی میری نظر سے گزری۔ آپ نے دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمانوں کے تعلقات کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’جہاں تک مجھے علم ہے قرآن کا منشا یہی ہے کہ دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمانوں میں وراثت اور شادی بیاہ کے تعلقات نہ ہوں۔‘‘ پھر ان مہاجرین کے متعلق جن کے ایسے رشتہ دار دارالکفرمیںرہ گئے ہوں جن کے وہ وارث ہوسکتے ہیں،فرمایا ہے کہ’’ ان کے بارے میں بھی میرا خیال یہی ہے کہ نہ وہ ہندوستان میں میراث پاسکتے ہیں اور نہ ان کے ہندوستانی رشتہ دار پاکستان میں ان سے میراث پانے کا حق رکھتے ہیں۔‘‘الخ (صفحہ۱۲۵)

آپ کا یہ فتویٰ مذہب حنفی اور جملہ مذاہب اربعہ کے خلاف ہے اور جس آیت سے آپ نے استنباط کیا ہےاِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ الانفال 72:8 اس میں اگر ولایت کو بمعنی وراثت تسلیم کرلیا جائے،موالات کے معنی میں نہ لیا جائے،تو یہ حکم اُس وقت کا ہے جب کہ ابتدائے قدوم مدینہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین وانصار کے درمیان مواخات قائم کردی تھی جس کی بِنا پر مہاجرین انصار کے اور انصار مہاجرین کے وارث ہوتے تھے،جس کی دلیل اسی آیت کا یہ ٹکڑا ہے کہ: اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ الانفال 72:8 پھر جب مہاجرین وانصار کا باہم توارث سورۃ الاحزاب کی آیت: اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ۝۰ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللہِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُہٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا۝۰ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًاo الاحزاب 6:33 سے منسوخ ہوگیا تو اب یہ حکم باقی نہ رہا کہ مسلم مہاجر مسلم غیر مہاجر کا وارث نہ ہو،یا برعکس۔بلکہ آیت المواریث کے موافق توارث ہونے لگا۔

پھر آپ نے اس پر بھی غور نہ کیا کہ سورۂ الممتحنہ کی آیت وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا۝۰ۭ الممتحنہ10:60 کے نزول سے پہلے تک غیر مسلم عورتیں صحابہ مہاجرین کے نکاح میں بدستور مکہ میں تھیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت عمرؓ وغیرہ نے اپنی کافر عورتوں کو طلاق دے دی تو ان کا نکاح مکہ کے کافروں سے ہوا۔حالاں کہ مکہ اُس وقت صرف دارالکفر ہی نہ تھا بلکہ وہاں کے باشندے محارب بھی تھے جن سے غزوۂ حدیبیہ ۶ہجری میں چند سال کے لیے صلح کی گئی تھی۔ تو جس دارالکفر کے باشندے برسر جنگ نہ ہوں،وہاں کی مسلمان عورتوں سے شادی بیاہ کو اور وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ توارث کو آپ کس دلیل سے منع کرسکتے ہیں؟

آج ہندوستان جیسا دارالکفرہے ویسا ہی برطانیہ کی حکومت میں تھا، اور آج جیسا پاکستان دارالاسلام ہے ویسا ہی کسی وقت حیدر آباد بھی دارالاسلام تھا،بلکہ کچھ زیادہ کہ وہاں محکمۂ اُمور مذہبی قائم تھا جو اب تک پاکستان میں قائم نہیں ہوا۔تو کیا آپ اُس وقت ہندوستان کے اور حیدر آبادکے مسلمانوں میں باہم شادی بیاہ اور توارث کو ممنوع سمجھتے تھے؟یا اُس وقت اگر کوئی حاجی مہاجر ہوکر مکہ مدینہ میں رہ جاتا اور اُس کی موت کے وقت مکہ مدینہ میں اُس کا کوئی وارث نہ ہوتا تو آپ یہ فتویٰ دے سکتے تھے کہ اس کے ہندوستانی رشتہ داروں کو اس کا ترکہ نہ دیا جائے؟

اگر آپ یہ فتویٰ دیتے تو ساری دنیا آپ کی مخالفت کرتی۔حکومت حجاز کا تعامل ترکی کے زمانے میں بھی اور آج بھی یہی رہا ہے اور ہے کہ ایسے لوگوں کا ترکہ ہندوستان کی حکومت کے ذریعے سے ان کے ہندوستانی ورثا کو دے دیا جاتا تھا جب کہ ثبوت مل جاتا کہ اُس کے ورثا موجود ہیں۔کسی مذہب کے علما نے بھی حکومت حجاز کو یہ فتویٰ نہیں دیا کہ ان حاجیوں کا مال ہندوستانی ورثا کانھیں بلکہ حکومت کا حق ہے۔

اور اگر آیت انفال سے مراد ولایت بمعنی وراثت نہیں بلکہ بمعنی موالات ہے تو اس کا میراث ونکاح سے کوئی علاقہ نہ ہوگا،بلکہ موالات اور ترک موالات کا اس میں بیان ہوگا جس میں محاربین اور غیر محاربین کا فرق بھی ہوگا اور مستامن وغیرمستامن کا بھی۔جس کی تفصیل سورۂ الممتحنہ کی آیات لَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ…الآیۃ الممتحنہ60:8 کے تحت مفسرین ومحدثین وفقہا نے بہت کچھ بیان کی ہے۔ملاحظہ ہو شرح السیر الکبیر للامام محمد بن الحسن الشیبانی۔

اخیر میں خیر خواہی کے ساتھ چند باتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں:

(ا) قرآن مجید سے مسائل واحکام کا استنباط کرتے ہوئے کم ازکم احکام القرآن للرازی، احکام القرآن لابن العربی،تفسیر روح المعانی اور بیان القرآن لحکیم الامۃ التھانوی سے مراجعت ضرور کرلیا کریں۔

(ب) فتویٰ دینے سے پہلے فقہائے حنفیہ کی کتابوں اور اہل فتویٰ علما سے مراجعت فرما لیا کریں کیوں کہ فتویٰ نویسی محض کتابوں کے مطالعے سے نہیں آتی۔اس کے لیے اہل افتا کے پاس رہ کر مدتوں کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

(ج) ہم اور آپ مذہب حنفی کے سوا دوسرے مذاہب سے پوری طرح واقف نہیں ہیں،کیوں کہ یہاں دوسرے مذاہب کا درس دینے والے محقق علما موجود نہیں ہیں، اور محض کتابوں میں دوسرے ائمہ کے اقوال دیکھ لینے سے ان کے مذہب کا پورا علم نہیںہوسکتا۔آپ دیکھیں گے کہ ہماری کتابو ں میں بعض مسائل کے متعلق دوسرے ائمہ کا مذہب غلط لکھ دیا گیا ہے۔جیسا ان کی کتابوں میں ہمارا مذہب بعض مسائل میں غلط نقل ہوگیا ہے۔ حافظ ابوبکر بن ابی شیبہ جیسا محدث، جس کا وظیفہ ہی یہ ہے کہ ہر بات سند کے ساتھ کہے، اپنی مُصَنَّف کے باب الردعلیٰ ابی حنیفہ میں بہت سے مسائل امام صاحب کی طرف غلط منسوب کرگیا ہے جس کا کتب حنفیہ میں پتا بھی نہیں۔اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جب تک کسی مذہب کو اُسی کے علما سے باقاعدہ نہ پڑھا جائے،اُس وقت تک اس سے پوری واقفیت نہیں ہوسکتی۔ بعض دفعہ مسئلہ صحیح نقل ہوتا ہے مگر اس میں جس قدر تفصیل وقیود اصل مذہب میں ہیں،وہ سب نقل نہیں کی جاتیں۔

چنانچہ امرأۃ المفقود کے مسئلے میں ہماری کتابوںمیں امام مالکؒ کا مذہب بہت مجمل بیان کیاگیا ہے۔جب اس مسئلے کی تحقیق علمائے مالکیہ سے کی گئی تو اس میں بڑی تفصیل معلوم ہوئی اور بہت سی قیود وشرائط کا علم ہوا جن کا ہمار ی کتابوں میں پتا بھی نہیں۔ملاحظہ ہو رسالہ الحیلۃ الناجزۃ لحکیم الامۃ التھانویؒ۔ پس کسی مسئلے میں مذہب حنفی کو چھوڑ کر یہ دعویٰ کرنا کہ ہم نے مذاہب اربعہ سے خروج نہیں کیا،اُس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک دوسرے مذاہب کے علما سے اس مسئلے میں مراجعت نہ کرلی جائے۔

(د) ’’نسبت صوفیہ غنیمتیست کبریٰ امار سوم ایشاں بہیچ نیر زد۔‘‘شاہ ولی اللہؒ صاحب کے اس قولے کو پیش نظر رکھ کر نسبت صوفیہ کے حاصل کرنے کی پور ی کوشش کی جائے، کیوں کہ اس کے بغیر درجہ احسان حاصل نہیں ہوتا جس پر کمال ایمان موقوف ہے۔ اور اس نسبت کے لیے رسوم صوفیہ یا ان کے اشغال مروّجہ کی اصلاًضرورت نہیں مگر اہل نسبت کی صحبت از بس ضروری ہے ؎

قال راہ بگذار مردِ حال شو

پیشِ مردے کاملے پامال شو

آپ کے قریب ہی …تشریف فرماہیں۔ گاہے گاہے ان کے پاس جاتے رہا کریں۔اُمید ہے کہ میری باتوں کو خیر خواہی پر محمول کیا جائے گا اور اسی نظر سے خط کو دیکھاجائے گا۔ والسلام

ظفراحمد

جواب

مکرمی ومحترمی مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی زاد مجد کم!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ مورخہ ۲۵جولائی مجھے ذرا دیر سے ملا۔اسی لیے جواب بھی بتاخیر حاضر ہورہا ہے۔اس میں میری کوتاہی نہیں ہے۔

میں آپ کے اخلاص و محبت کا دل سے شکر گزار ہوں، اور مزید شکر گزاری کی موجب وہ علمی رہنمائی ہے جو آپ نے ازراہ کرم عنایت فرمائی ہے۔اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔

فتاویٰ کے بارے میں جناب نے بالکل سچ فرمایا۔میری بھی غایت تمنا بس یہی ہے کہ اﷲ کے دربار سے نہ دھتکارا جائوں،اس کے بعد مذہبی درباروں سے دھتکار دیے جانے کی مجھے پروا نہیں ہے۔

تصور شیخ کی جو تعبیر آپ نے پیش فرمائی ہے،اُس پر کسی اعتراض کی گنجایش نہیں۔تدبیر کی حد تک اسے مباح مانا جائے گااگر آدمی اسی نیت سے اس تدبیر کو اختیار کرے جو آپ نے بیان فرمائی ہے۔البتہ جو تعبیر حکیم عبدالرشیدصاحب نے پیش فرمائی تھی وہ تو سخت خطرناک تھی اور مولانا امین احسن صاحب نے جو گرفت کی تھی،اسی پر کی تھی۔

آپ کا یہ ارشاد بجا ہے کہ قرآن سے مسائل واحکام کا استنباط کرتے ہوئے جصاص اور ابن العربی کی احکام القرآن اور تفسیر روح المعانی اور بیان القرآن کا مطالعہ کرلیا جائے۔الحمد ﷲ کہ میں پہلے ہی اس مشورے پر عامل ہوں۔مولانا تھانوی کی بیان القرآن تومیرے پاس نہیں ہے، البتہ مقدم الذکرتینوں کتابیں موجود ہیں اور ہمیشہ آیات سے احکام معلوم کرنے میں تینوں کو بغور دیکھ لیتا ہوں۔ اورصرف انھی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ابن کثیر، ابن جریر اور تفسیر کبیر سے بھی مراجعت کرلیتا ہوں تاکہ مسئلے کے تمام اطراف سامنے آجائیں۔ اس لیے آپ یہ خیال نہ فرمائیں کہ میں تحقیق ومطالعہ کے بغیر ہی اظہار رائے کردینے کا عادی ہوں۔البتہ ایک چیز ضرور ہے جس میں میراطریقہ آپ حضرات سے مختلف ہے، اور وہ یہ ہے کہ میں ان میں سے کسی کی تحقیق کو حرف آخر نہیں سمجھتا،اور جب میرا ان کے بیانات سے اطمینا ن نہیں ہوتا تو خود غور وفکر کرکے رائے قائم کرتا ہوں۔

فتویٰ دینے کی غلطی میں نے آج تک کبھی نہیں کی۔فتویٰ جو شخص بھی مجھ سے پوچھتا ہے، میں ہمیشہ اُس کو یہی جواب دیتا ہوں کہ مجھے منصب افتاحاصل نہیں ہے۔البتہ جو لوگ مسائل میںمیر ی تحقیق پوچھتے ہیں ان کو اپنے علم کے مطابق جواب دے دیتا ہوں اور جواب دیتے وقت فقہ کی مستند کتابوں سے مراجعت کرنے کا پورا التزام کرتا ہوں۔مطالعہ وتحقیق کے بغیر اظہار رائے سے میں نے ہمیشہ اجتناب کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کبھی محض اظہار رائے پر اکتفا کرجاتا ہوں اور دلائل ومآخذ بیان کرنے کا موقع نہیں پاتا۔

آپ کا یہ ارشاد بھی بجا ہے کہ کتابوں میں بالعموم اپنے مذہب کے سوا دوسرے مذاہب کے اقوال ثبت کرنے میں احتیاط سے کام نہیں لیا گیا ہے۔اِ س چیز کو میں نے خود محسوس کیا ہے۔اس لیے میں مذہب حنفی کے سوا دوسرے مذاہب کے اقوال معلوم کرنے کے لیے صرف ان کتابوں پر اکتفا نہیں کرتا جو فقہائے حنفیہ نے لکھی ہیں،بلکہ خود ان مذاہب کی اصل کتابیں بھی دیکھ لیتا ہوں۔ مثلاً مذہب حنبلی کے لیے المغنی لابن قدامہ اور مذہب مالکی کے لیے المدونہ وغیرہ۔نیز میرا تجربہ ہے کہ مذاہب اربعہ کے اقوال کو’’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘‘ میں کافی احتیاط کے ساتھ ثبت کیا گیا ہے اور بدایۃ المجتہد بھی اس معاملے میں نسبتاً خاصی قابل اعتماد ہے۔شوکانی کو بھی میں نے اس معاملے میں خاصا محتاط پایا ہے،اگرچہ بعض مقامات پر انھوں نے مذہب کے نقل میں غلطیاںکی ہیں۔ بہرحال ایک مسئلے کی تحقیق میں بہت سے مراجع کی طرف رجوع کرنے سے قریب قریب صحیح واقفیت حاصل ہوتی ہے۔

صوفیہ کی صحبت سے میں نے اکثر استفادہ کیا ہے۔ایک مدت تک میرا طریقہ یہ رہا ہے کہ جس باخدا بزرگ کا بھی پتا چلا،ان سے ضرور جا کر ملا اور ان کی صحبت میںبیٹھا۔ میرا اپنا خاندان بھی اہل تصوف ہی میں سے ہے اورمیرے والد مرحوم تک بیعت وارشاد کا سلسلہ جاری رہا ہے۔تصوف کا تھوڑا بہت مطالعہ میں نے بھی کیا ہے اور متعد د صوفی بزرگوں سے توجہ لینے اور اشغال سیکھنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اس لیے تصوف اور اہل تصوف کے بارے میں اپنے جن خیالات اور آرا کی بِنا پر میں بدنام ہوں،انھیں آپ ایک ایسے شخص کے خیالات اور آرا نہ سمجھیں جو اس کوچے سے بالکل نابلد ہے۔ میں نے تصوف کو بھی دیکھا ہے اور اہل تصوف کو بھی،اور اس کے اچھے اور برے پہلو دیکھ کر ہی ایک نتیجے پر پہنچا ہوں۔میں نہیںکہتا کہ جس نتیجے پر میں پہنچا ہوں،اُسے ہر شخص مان لے۔البتہ یہ ضرور عرض کرتا ہوں کہ میری رائے کو محض ایک سطحی رائے سمجھنے کی غلطی دوسرے لوگ بھی نہ کریں۔اب بھی مجھے کسی صاحب کمال سے استفادہ کرنے میں تامل نہیں ہے اور میری ہر رائے نظر ثانی کے قابل ہے۔لیکن میں اس کو کیا کروں کہ بہت سے لوگ جنھیں صاحب کمال کہا جاتا ہے،میں نے اپنے تجربے میں ان کو ناقص پایا ہے۔اﷲ تعالیٰ کسی صاحب کمال سے استفادہ کرنے کا موقع نصیب فرما دے۔

اب میں اس مسئلے کی طرف آتا ہوں جس پر آپ نے تفصیلی گرفت فرمائی ہے۔ میںنے اس پر جس اختصار کے ساتھ اظہار رائے کیا تھا،اُسے دیکھ کر شاید آپ نے یہ گمان فرمایا کہ میں اس مسئلے میں فقہا کے ارشادات سے ناواقف ہوں اور قرآن کی صرف ایک آیت دیکھ کر اظہار رائے کر بیٹھا ہوں۔ حالاں کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ دارالکفر کی مسلمان رعایا اور دارالاسلام کی حکومت اور مسلم رعایا کے باہمی تعلقات کامعاملہ نہایت سخت پیچیدہ ہے اور اس معاملے میں،میںنے فقہا کے بیانات کو بہت ناکافی پایا ہے۔متقدمین کو تو اس مسئلے سے کچھ زیادہ سابقہ پیش نہیں آیا تھا،اس لیے انھوں نے اس کے سارے اطراف کھول کر بیان نہیں کیے۔رہے متأخرین، تو ان کو اس سے سابقہ ضرور پیش آیا مگر وہ نہ تو متقدمین سے کچھ زیادہ مفصل رہنمائی پاسکے اور نہ خود ہی اجتہاد کی جرأت کرسکے۔ اب جو ہم اپنی آزادحکومت لے کر بیٹھے ہیں تو ہمیں پھر اس مسئلے سے سابقہ پیش آرہا ہے اور قدم قدم پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ پچھلی کتب فقہ اِ س معاملے میں ہماری پوری رہنمائی نہیں کرتیں۔ آپ خود ذرا ان احکام کو جمع فرمائیں جو اس مسئلے کے متعلق کتب فقہ میں ملتے ہیں، اورپھر دیکھیں کہ کیا وہ ہمارے اس وقت کے حالات میں تمام مسائل کا شافی جواب دیتے ہیں؟

دارالاسلام کی حکومت اور مسلم رعایا، اور دارالکفر کی مسلم رعایا کے باہمی تعلقات کا معاملہ محض قانونی نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر سیاسی اور بین الاقوامی تعلقات کے مسائل بھی ساتھ ساتھ اُلجھے ہوئے ہیں۔ ایک مسلمان جو دارالاسلام کی رعایا ہے،اگر دارالکفر کے کسی شخص کا وارث ہو اور اُس کا مفاد اُس وراثت سے وابستہ ہوجائے تو ہوسکتا ہے کہ یہی وابستگی اُس کے لیے فتنہ بن جائے۔ایک لڑکی جو دارالکفر کی رعایا ہے اور جس کے اعزہ و اقربا سب دارالکفر میں رہتے ہیں اور وہاں اپنے مفادات رکھتے ہیں، اگر دارالاسلام میں بیاہی ہوئی آئے تو ہوسکتاہے کہ اُسے غیر مسلموں کی بہ نسبت زیادہ آسانی کے ساتھ جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ایک عورت جو ہجرت کرکے دارالاسلام میں آچکی ہے یا دارالاسلام ہی کی رہنے والی ہے،اُس کا شوہر اگر دارالکفر کا باشندہ ہو اور ہجرت کے لیے تیار نہ ہو،تو ظاہر ہے کہ ہم نہ اُس عورت کو اُس سے نفقہ دلوا سکتے ہیں،نہ ہماری کسی عدالت کا کوئی اختیار اُس شخص پر نافذ ہوتا ہے کہ ہم کسی حق کا استقرار کرسکیں۔ لامحالہ ہمیں اس عورت کو یا تو تمام حقوق سے محروم رکھنا پڑے گا،یا پھر اُسے دار الکفر بھیجنا پڑے گا۔اس طرح کی بہت سی پیچیدگیاں ان معاملات میں پائی جاتی ہیں جو نری قانونی نوعیت کی نہیں ہیں۔

پھر اس معاملے میں متعد د معاشی پیچیدگیاں بھی ہیں۔دارالکفر کی حکومت اپنے علاقے میں دارالاسلام کی رعایا کے حقوق مالکانہ ساقط کرسکتی ہے یا ان کو طرح طرح کی پابندیوں سے محدود کرسکتی ہے اور دارالاسلام کی طرف دولت کے منتقل ہونے کو روک سکتی ہے۔مگر ہم دارالاسلام میں دارالکفر کے ایک مسلمان کے حقوق وراثت شرعاً مان لینے کے بعد انھیں کیسے ساقط کرسکیں گے اور دارالاسلام کے ایک مسلمان کو اپنی دارالکفر میں رہنے والی بیوی کا نفقہ یا مہر ادا کرنے سے کس طرح روک سکیںگے؟اس طرح دولت کا یک طرفہ بہائو شروع ہوجائے گا جو دارالاسلام کے لیے مضر اور دارالکفر کے لیے مفید ہے۔خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ دارالکفر میںکروڑوں مسلمان رعایا کی حیثیت سے آبا د ہوں اور دارالاسلام کے بے شمار مسلمانوں سے ان کے تعلقات ہوں،یہ نقصان ناقابل لحاظ بھی نہیں رہتا۔

میں اس پیچیدگی پر بہت غور کرتا رہا ہوں اور مجھے نہ کتب فقہ میں اس کا شافی حل مل سکا ہے اور نہ ان معاملات میںجو ابتدائً چند سال تک مدینہ طیبہ اور مکہ کے مسلمانوں کے درمیان رہے تھے۔اس لیے میں نے قرآن مجید سے اس کا حل معلوم کرنے کی کوشش کی اور میں نے یہ سمجھا کہ آیت الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا۝۰ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍؚبَيْنَكُمْ وَبَيْنَہُمْ مِّيْثَاقٌ۝۰ۭ الانفال 72:8 میں اس کا مکمل جواب موجود ہے۔ میں آ پ کو بتاتا ہوں کہ اس آیت سے کیا احکام مستنبط ہوتے ہیں اور کس طرح ہوتے ہیں۔

اس آیت میں سب سے اہم لفظ’’ولایت‘‘ ہے جس کے معنی کا تعین ضروری ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ اس کو مجرد وراثت یا کسی اور ایک معنی پر منحصر کرنے کی کون سی معقول وجہ ہے۔ عربی زبان میں اس لفظ کی پوری وسعت کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ نصرت، سرپرستی، حمایت،نگہبانی اور قرابت کے مفہومات پر حاوی ہے۔ ان مفہومات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ’’ولایت‘‘ سے مراد ایک طرف تو وہ تعلق ہے جو ایک ریاست اور اُس کے شہریوں کے درمیان ہوتا ہے، اور دوسری طرف وہ تعلق جو ایک ریاست کے شہریوں میں باہم ہوتا ہے،اور اس کے حدود ان تمام اقسام کے روابط پر وسیع ہیں جن پر لغت کے اعتبار سے لفظ ولایت کا اطلاق ہوتا ہے۔قرآن مجید کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ دارالاسلام کی حکومت صرف دارالاسلام ہی کے مسلمانوں کی ولی ہو اور اس کو دارالکفر کے مسلمانوں کی ’’ولایت‘‘ سے سبک دوش کردیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی پیچیدگیوں میں مبتلا نہ ہو اور ایسے فرائض سے گراںبار بھی نہ ہو جنھیں ادا کرنا عملاًمحال ہے۔

اس کے ساتھ قرآن مجید کامنشا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دارالاسلام کی مسلم رعایا اور دارالکفر کی مسلم رعایا کے درمیان بھی ولایت کے یہ تعلقات نہ ہوں،بلکہ ان روابط کو دارالاسلام ہی کے مسلمانوں تک ہی محدود رکھا جائے۔

ولایت کا یہ مفہوم اور منشا متعین ہوجانے کے بعد اس آیت سے جو ہدایات نکلتی ہیں،وہ یہ ہیں:

(۱) دارالکفر کی مسلم رعایا کی حمایت ونصرت،سرپرستی اور نگہبانی اورپشتیبانی دارالاسلام کی حکومت کے ذمے نہیں ہے۔ یہی مطلب اس حدیث کا بھی ہے جس میں حضورؐنے فرمایا ہے: انا بری من کل مسلم بین ظھرانی المشرکین [میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہو]۔ البتہ اگر وہ دین کے معاملے میں مدد مانگیں تو بشرط طاقت اس کافر قوم کے خلاف ان کی مدد کی جاسکتی ہے جس سے ہمارا معاہدہ نہ ہو۔

(۲) دارالکفر کا کوئی مسلمان جو بدستور دارالکفر ہی کی رعایا بنا رہے،دارالاسلام میں آکر مسلمانوں کے ساتھ ان کے حقوق شہریت میں حصہ دار نہیں ہوسکتا،نہ یہ جائزہے کہ دارالاسلام کی حکومت میں اُسے کوئی ذمہ داری کا عہدہ دیا جائے۔ یہ حقوق اور یہ مناصب اُسے صرف اسی صورت میں مل سکتے ہیں جب کہ وہ ہجرت کرکے آجائے۔

(۳) دارالکفراور دارالاسلام کے مسلمان ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے،الا یہ کہ دونوں حکومتوں اور قوموں کے درمیان قابل اعتماد دوستانہ تعلقات ہوں: لَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْہِمْ۝۰ۭ الممتحنہ60:8 [اللہ تمھیں اس سے نہیں روکتا کہ تم ان غیر مسلموں سے تعلقات رکھو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے یہ کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان سے انصاف کرو]۔ اور ان کے درمیان املا ک اور مواریث کے بارے میں مساویانہ معاہدات بھی ہوجائیں تاکہ دونوں کی رعایا ایک دوسرے کی مملکت میںجائیدادوں کی مالک ومتصرف ہوسکے۔ اس معاملے میں آپ نے واُولُوا الاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ سے جو معارضہ فرمایا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ محض مواخات کی بِنا پر انصار اور مہاجرین ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے بلکہ وراثت رشتہ نسب ومصاہرت کی بنا پر ہوگی۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ یہ آیت دارالاسلام کے مسلمانوں کی میراث ان اولوالارحام کو پہنچانا چاہتی ہے جو دارالکفر میں رعایا کی حیثیت سے رہتے ہوں۔ اوریہ مطلب آخر کیسے نکالا جاسکتا ہے جب کہ قرآن صاف فیصلہ کرچکا ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ الانفال 72:8 [جو لوگ ایمان لائے اور (دارالاسلام میں) ہجرت کرکے آ گئے… اور جنھوں نے مہاجرین کو (دارالاسلام میں) جگہ دی اور ان کی مدد کی، وہی ایک دوسرے کے ولی ہیں]۔

(۴) دارالاسلام اور دارالکفرکے مسلمانوں کے درمیان جب ولایت کا تعلق نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ کفاء ت کا تعلق بدرجہ اَولیٰ نہیں ہے۔اس لیے کم ازکم جو بات کہی جاسکتی ہے،وہ یہ ہے کہ ان کے درمیان مناکحت پسندیدہ نہیں ہے۔ وہ باہم شادی بیاہ کریں تو نکاح منعقد تو ہوجائے گا،لیکن اچھا یہ ہے کہ وہ ایسا نہ کریں۔ اور اسلامی حکومت کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اس طرح کے رشتوں میں انتظامی احکام کے ذریعے سے رکاوٹیں ڈالے، اور بعض خاص حالات میں ان کو روک دے۔ نیز یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ جن کے درمیان پہلے نکاح ہوچکے تھے اب محض اختلاف دار کی بنا پر ٹوٹ گئے، لیکن اگر ایک منکوحہ عورت، جو دارالاسلام کی رہنے والی ہو، یا ہجرت کرکے دارالاسلام آچکی ہو،عدالت میں اس بِنا پر فسخ نکاح کی درخواست کرے کہ اُس کا شوہر دارالکفر کی رعایا ہے اور ہجرت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو یہ اس کی درخواست کو منظور کرنے کے لیے ایک معقول وجہ ہوگی۔اس لیے کہ اسلامی حکومت اس عورت کے معاملات کی تو متولی ہے اور اُس کے حقوق کی نگہداشت اس کا فرض ہے،مگر اس کا شوہر اس حکومت کی ولایت سے خارج ہے جس کی بِنا پر اس عورت کا کوئی حق بھی اُس سے وصول کرکے نہیں دلایا جاسکتا۔لہٰذا اگر یہ حکومت اُسے اُس شوہر کی قید نکاح سے نہ چھڑائے گی تو فرائض ولایت ادا کرنے میں قاصر رہے گی۔آپ غور فرمائیں تو یہ بات آپ کو بھی عجیب معلوم ہوگی کہ جس کے ہم ولی نہیں ہیں، اس کے حقوق کے تو ہم نگہبان بن کر بیٹھ جائیں مگر جس کے ہم ولی ہیں، اُس کا حق بھی نہ دلوائیں اور نہ دلوا سکیں۔

میرے نزدیک اس معاملے میں زیادہ سے زیادہ احتیاط کا تقاضا بس یہ ہے کہ جس عورت کے پاس نفقہ موجود ہو اور جس کے مبتلائے فتنہ ہو جانے کا بھی کوئی معقول احتمال نہ ہو،اُس کے لیے تو ایک مناسب مدتِ انتظار تجویز کردی جائے کہ اِ س مدت کے اندر اگر اُس کا شوہر ہجرت کرکے آ جائے تو وہ عورت اُسی کی ہوگی،ورنہ اس کے بعد نکاح فسخ ہوجائے گا اور عورت آزاد ہوگی کہ جہاں چاہے نکاح کرلے۔ لیکن جس عورت کے پاس نفقہ نہ ہو یا جس کے مبتلائے فتنہ ہونے کا معقول احتمال ہو،اُس کا نکاح بلا تاخیر فسخ کیا جانا چاہیے۔ہم دارالکفر کے کسی شخص کی خاطر دارالاسلام کی کسی عورت کو نہ تو بھوکا مار سکتے ہیں اور نہ اُسے قذف اور زنا کے خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

آیت لا تمسکوا بعصم الکوافرسے اس موقع پر آپ نے جو استدلال فرمایا ہے وہ بالکل بے محل ہے۔ہجرت کے موقع پر مہاجرین کے نکاح میں مکہ کی جو غیر مسلم عورتیں تھیں،ان کو اس لیے طلاق نہ دی گئی تھی کہ اُس وقت [یعنی ہجرت کے وقت] تک مشرکین ومشرکات کے ساتھ مناکحت کی حرمت کا حکم نہ آیا تھا۔اسی بنا پر وہ مسلمان عورتیں بھی مشرکین کے نکاح میں رہیں جو ہجرت کرکے مدینہ چلی گئی تھیں۔ پھر دونوں مملکتوں کے درمیان حالت جنگ قائم ہوگئی جس کی بِنا پر ایک مدت تک یہ طے ہونا مشکل تھا کہ مہاجرین اپنا خرچ کیا ہوا مال مشرکین سے لے کر اپنی مشرک بیویوں کو چھوڑ دیں، اور مشرکین کو ان کا خرچ کیا ہوا مال واپس دے کر ان کی مسلمان بیویوں کو ان کی قید نکاح سے آزاد کرالیا جائے۔اس لیے یہ معاملہ صلح حدیبیہ تک ٹلتا رہااور صلح کے بعد حکم آیا کہ وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا۝۰ۭ الممتحنہ10:62 میں نہیں سمجھ سکا کہ اس معاملے سے آپ زیر بحث مسئلے میں کیا دلیل لاسکتے ہیں اور کیسے؟

آپ نے حیدر آباد اور حجاز اور ٹرکی کے تعامل سے جو استدلال فرمایا ہے وہ اس قابل نہ تھا کہ آپ جیسا ذی علم اُسے پیش کرتا۔حیدر آباد کی حکومت اپنے محکمۂ اُمورمذہبی کے باوجود دارالاسلام نہ تھی۔اس کی حیثیت تودارالکفر کے اندر ایک ذمی ریاست (protected state)کی تھی۔ہندوستان کے مسلمان بھی انگریز کے ذمی تھے اور نظام حیدر آباد بھی۔نظام کی حکومت نے اگر کچھ اسلامی طریقے جاری رکھے تھے تو وہ اُس کے بل بوتے پر نہ تھے بلکہ اس بنا پر تھے کہ انگریز نے اُسے ان کی اجازت دے رکھی تھی۔ باقی ماندہ پورے اسلام کو اگر نظام قائم کرنا چاہتا بھی تو نہ کرسکتا تھا،کیوں کہ انگریز اس کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ ایسی حکومت کو آخر کس بنا پر دارالاسلام کہا جاسکتا ہے؟بخلاف اس کے پاکستان میںپورے اسلام کے قیام کا دستوری اعلان ہوچکا ہے اور عملاًاس کے قیام میں اگر کوئی چیز مانع ہے تو وہ پاکستان کے اپنے ہی حکام کا تساہل ہے نہ کہ کسی غیر مسلم طاقت کا تسلّط۔ اس لیے پاکستان اور حیدر آباد کے درمیان سرے سے کوئی وجہ مماثلت موجود ہی نہیں ہے کہ ایک کے مسائل کو دوسرے کے مسائل پر قیاس کیا جاسکے۔ رہا ترکی اور حجاز کا معاملہ، توان ممالک کے علما کی جو رائے تھی،اُسی پر وہاں عمل ہوتا رہا۔کیا ضروری ہے کہ میں ان کی رائے سے اتفاق ہی کروں؟ آخر آپ کی اور اس ملک کے دوسرے متعدد علما کی رائے سے بھی تو میں اختلاف کرکے اپنی تحقیق پیش کرہی رہا ہوں۔آپ میری دلیل دیکھیے، نہ یہ کہ ترکی اور حجاز میں اس کے خلاف کیا عمل ہوتا رہا۔

میںجانتاہوں کہ میرے سارے استدلال کو یہ کہہ کر رد کیا جاسکتا ہے کہ بہرحال یہ قرآن وحدیث سے براہ راست استنباط ہے اور اس میں یہ پروا نہیں کی گئی ہے کہ یہ استنباط فقہائے اُمت کے موافق ہے یا مخالف۔لیکن اگر یہ کسی معقول اور صحیح استدلال کو رد کردینے کے لیے شرعاًکافی وجہ ہوسکتی ہے تو مجھے اس وجہ کے ماخذ سے مطلع فرمایا جائے ورنہ مجھے معاف فرمایا جائے اگر میں عرض کروں کہ تقلید جامد کی یہی وہ قسم ہے جو علمائے کرام کے طعنوں اور ملامتوں کے باوجود ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آسکی ہے۔والسلام

خاکسار ابوالا علیٰ

مولانا ظفر احمد صاحب کا دوسرا مکتوب:

مکرمی مولانا سیّد ابوالا علیٰ مودودی، دام فضلکم!

السلام علیکم و رحمۃ اﷲو برکاتہ!محبت نامہ میرے خط کے جواب میں موصو ل ہوا۔ بہت مسرت ہوئی اور دل سے دعائیں نکلیں۔میں خوش ہوں کہ میر ی خیر خواہانہ تحریر پر آپ نے خلوص ومحبت کی نظر ڈالی اور تفصیل کے ساتھ جواب لکھنے کی زحمت برداشت کی۔مجھے آپ سے ایسی ہی توقع تھی۔اب میں اختصار کے ساتھ چند باتیں اس خط کے متعلق اور عرض کرتا ہوں۔اُمید ہے ان کو بھی خیر خواہی پر محمول فرما کر نظر خلوص سے دیکھا جائے گا۔

آپ نے کتب [یہ معلوم کرکے تعجب ہوا کہ بیا ن القرآن آپ کے پاس نہیں۔ شاید اردو میں ہونے کی وجہ سے اسے قابل اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ مگر دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ بہت سی عربی تفاسیر سے اس کا درجہ بلند وبالا ہے۔ حضرت مولانا انور شاہ صاحبؒ کا تبحر علمی علماء عصر کو مسلم ہے۔ انھوں نے بیان القرآن کو دیکھ کر فرمایا کہ بیان القرآن کو دیکھ کر اردو کتابوں کے دیکھنے کا شوق پیدا ہو گیا ہے] تفسیر کے متعلق فرمایا ہے کہ’’ میں ان میں سے کسی کی تحقیق کو بھی حرف آخر نہیں سمجھتا۔‘‘ تو ٹھیک اسی طرح اپنی کسی تحقیق کو بھی حرف آخر نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ ایسے مواقع پر صاف لکھ دینا چاہیے کہ عام مفسرین کے بیانات سے میرا اطمینان نہیں ہوا اس لیے غور وفکر کے بعد جو کچھ میںسمجھا ہوں،وہ یہ ہے، دوسرے علما سے بھی تحقیق کرلی جائے اور میری تحقیق کو فتویٰ نہ سمجھا جائے، کیوں کہ مجھے منصب افتا حاصل نہیں ہے۔‘‘

آپ نے تحریر فرمایا ہے: ’’نیز میرا تجربہ ہے کہ مذاہب اربعہ کے اقوال کو الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں کافی احتیاط کے ساتھ ثبت کیا گیا ہے‘‘الخ۔لیکن میراتجربہ یہ ہے کہ محض کتابیں دیکھ لینے سے دوسرے مذاہب سے پوری واقفیت حاصل نہیں ہوسکتی جب تک ان مذاہب کے علما سے اسی طرح ان کا فقہ نہ پڑھا جائے جس طرح ہم نے فقہ حنفی کو اپنے علما سے پڑھا ہے۔ کیوں کہ فقہی کتابوں میں بالعموم اپنے مذہب کے سوا دوسرے مذاہب کے اقوال نقل کرنے والے بھی ان کی کتابوں کو دیکھ کر ہی نقل کرتے تھے مگر پھر بھی ان سے بہت کچھ خطا ئیں ہوئی ہیں، جس کا سبب بظاہر یہی ہے کہ انہو ں نے باقاعدہ ان کے مذاہب کو نہ پڑھا تھا۔پھر ہم اور آپ کس شمار میں ہیں کہ صرف مطالعہ کتب سے ان مذاہب کو حاصل کرسکیں۔

میرا تجربہ ہے کہ المغنی لابن قدامہ میں بہت سے مسائل مذہب احمد کی طرف منسوب کیے گئے ہیں حالاں کہ علمائے حنابلہ کافتویٰ اس کے خلاف ہے۔

مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کوچۂ تصوف سے نابلد نہیں ہیں اور آپ نے تصوف کو بھی دیکھا ہے اور اہل تصوف کو بھی۔مگر بہرحال الاحسان ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ جس درجے کی طرف اشارہ ہے اُس کی تحصیل ضروری ہے۔اس کی ضرورت سے آپ انکار نہیں کرسکتے اور یقینا جب تک قرآن وحدیث دنیامیں موجود ہیں،دنیا محسنین سے خالی نہیں ہوسکتی،ان کی تلاش ضروری ہے۔ نہ معلوم آپ کے نزدیک معیار کمال کیا ہے؟صوفیہ کا اصلی کمال یہی نسبت احسان ہے۔اس کے متعلق شاہ ولی اللہ نے فرمایا ہے: ’’ نسبت صوفیہ غنیمتیست کبریٰ۔‘‘ اور اس کی علامت حدیث میں یہ ہے کہ اذا رأوا ذکر اللّٰہ اور یقینا ایسے لوگ اب بھی ہیں…مگر ان کے پاس خالی الذہن ہوکر جانا چاہیے، ناقد بن کر نہ جانا چاہیے کہ ناقدانہ نظر سے تو رسولؐ کے کمالات بھی مخفی ہوجاتے ہیں،ولی کس شمار میں ہے؟

دارالاسلام کی مسلمان رعایا اور دارالکفر کی مسلم رعایا کے باہمی تعلقات کے معاملے میں شرح السیر الکبیر للامام محمد بن الحسن الشیبانی کا مطالعہ ضروری ہے،وہ ان شاء اﷲ اس باب میں شافی کافی ہے۔آپ نے جو سیاسی اور بین الاقوامی اُلجھنیں اہل دارین کے توارث وتناکح میں بیان فرمائی ہیں،وہ تو دارالکفر کے مسلمانوں کی ہجرت میں بھی موجود ہیں، تو کیا ہجرت کو بھی اس خیال سے بند کردیا جائے گا کہ مبادا یہ لوگ جاسوس بن کر آتے ہوں؟ بالخصوص ہند و رعایائے پاکستان کی واپسی ہندوستان سے تو بالکل بند کردینی چاہیے کہ ان پر تو سو فی صدی جاسوسی کا شبہ ہے۔ بلکہ پاکستان سے باقی ماندہ ہندوئوں کو بھی نکال دینا چاہیے کہ ان پر مارآستین ہونے کا شبہ ہے۔ نیز پاکستان کے تاجروں کا ہندوستان مال لے کر جانا بھی روک دیا جائے۔اسی طرح وہاں کے تاجروں کا پاکستان آنا بھی۔مگر ظاہر ہے کہ ایسا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہوسکتا ہے۔پھر توارث وتناکح ہی میں یہ احتمالات مانع کیوں بن گئے؟ ان پیچیدگیوں کا جو علاج قرآن نے بتلایا ہے يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ۝۰ۭ الممتحنہ10:60 وہی سب صورتوں میں بروئے کار لایا جائے گا۔حکومت کو ان لوگوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے جو پاکستان سے باہر جاتے آتے یا ہندوستان سے نکاح ووراثت کا تعلق رکھتے ہیں۔مگر نفس تناکح وتوارث کو ان احتمالات کی بِنا پر ممنوع نہیں کرسکتے جب کہ ہجرت اور تجارت کو بند نہیں کیا جاسکتا۔آپ کو معلوم ہوگا کہ تجارت کا دروازہ کھولنے سے پاکستان کا وہ مال بھی پاکستان سے باہر جارہا ہے جس کو حکومت پاکستان برآمد نہیں کرنا چاہتی۔ اور مسلم مہاجرین اور ہندو مراجعین میں بعضے پاکستان میں آکر جاسوسی بھی کرتے ہیں۔

آیت وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا۝۰ۚ الانفال 72:8 میں اُس وقت کا حکم ہے جب کہ ہجرت فرض اور شرط قبول اسلام تھی۔ حدیث انا بری من کل مسلم بین ظہرانی المشرکین بھی اُسی وقت کے متعلق ہے۔ اور اُس وقت کی حکومت مدینہ مہاجرین کی آباد کاری کی ذمہ داری تھی۔مگر آپ کی حکومت تو اس کی ذمہ داری نہیں لیتی بلکہ مہاجرین کی آمد کو روکنا چاہتی ہے، اور جو پاکستان آگئے ہیںان کو بھی ہندوستان واپس کرنا چاہتی ہے، اور جو ہندو یہاں سے چلے گئے ہیںان کو واپس بلانا چاہتی ہے۔ اس حالت میں جو مسلمان دارالکفر کی رعایا بنے ہوئے ہیں،مجبور ہیں۔ان پر اس آیت کے احکام چسپاں کرنا بڑی زیادتی ہے۔اسی لیے جب تک ہندوستان کے مسلمانوں پر ہجرت کوفرض نہ کیا جائے اور جب تک حکومت پاکستان ان چار کروڑ مسلمانوں کی آباد کاری کی ذمہ داری اپنے سر نہ لے لے،اُس وقت تک ان احکام کو ثابت نہیں کیا جاسکتا جو آپ اس آیت سے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

جن مفسرین نے اس سے مسلمین دارالاسلام ودارالکفرکے مابین قطع توارث سمجھا ہے اور ولایت کو وراثت کے معنی میں لیا ہے،وہی اس آیت کو سورۂ احزاب کی آیت اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ۝۰ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللہِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُہٰجِرِيْنَ الاحزاب 6:33 سے منسوخ مانتے ہیں۔چوں کہ آپ نے بھی اس سے قطع توارث پر استدلا ل کیا ہے، اس لیے میں نے کہا تھا کہ پھر ان مفسرین کی طرح اس حکم کو سورۂ احزاب کی آیت سے منسوخ بھی ماننا چاہیے۔یہ تعارض میںنے پیدا نہیں کیا بلکہ حضرت ابن عباسؓ کا قول نقل کیا ہے۔

آپ تو دارالکفر کے مسلمانوں کو دارالاسلام میں حقوق شہریت اور ذمہ داری کے عہدے دینے سے انکار کرتے ہیں مگر حکومت پاکستان دارالکفرکے کفار کو پاکستان میں حقوق شہریت اور ذمہ داری کے عہدے دے رہی ہے۔غالباًابھی تک بہت سے انگریز بڑے بڑے عہدوں پر ہیں اور بہت سے ماہرین کو امریکا،لندن وغیرہ سے بلایا جارہا ہے۔ اور غالباً آپ بھی اس کو شرعاً ممنوع نہ کہیں گے،ورنہ پاکستان ترقی نہ کر سکے گا۔ پھر مسلم غیر مہاجر ہی کیوں خطا وار ہے؟

دارالکفر اور دارالاسلام کے مسلمانوں میں کفاء ت کی نفی کرنا نرالی تحقیق ہے۔ کیا ایک سیّد ہندوستان میں رہنے کی وجہ سے سیّد نہ رہے گا جلاہا بن جائے گا؟ آخر قطع ولایت سے(اگر تسلیم بھی کرلی جائے) نفی کفاء ت کیوں کر لازم آگئی؟

جو عورت مہاجرہ ہوکر دارالاسلام میں آجائے اور شوہر دارالکفر میں رہنے پر مصر ہو،اُس کے لیے اوّل شوہر سے طلاق حاصل کرنے کا حکم ہے۔اگر وہ طلاق نہ دے تو حاکم مرافعہ کے بعد طلاق واقع کرسکتاہے۔اس مسئلے کو آیت مذکورہ سے کوئی تعلق نہیں۔اس کے لیے دوسرے دلائل ہیں جن سے فقہا نے تعرض کیا ہے۔ ملاحظہ ہو الحیلۃ الناجزہ لحکیم الامۃ التھانوی۔

آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر استدلال کے لیے نہیں بلکہ آپ کو الزام دینے کے لیے لکھی تھی کہ آپ تو آیت والذین اٰمنوا ولم یھاجروا ما لکم من ولایتھم من شیٔ سے باہم مسلمانوں کے درمیان قطع ولایت کے قائل ہورہے ہیں حالاں کہ آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم مہاجر اور زوجہ کافرہ غیر مہاجرہ کے درمیان بھی قطع ولایت اس سے پہلے نہ ہوئی تھی،کیوں کہ نکاح بھی ولایت کے مفہوم میں داخل ہے۔ رہا یہ دعویٰ کہ اس آیت کے نزول تک مشرکین ومشرکات کے ساتھ مناکحت کی حرمت کا حکم نہ آیا تھا…الخ یہ محتاج دلیل ہے۔آیت وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ۝۰ۭ…وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا۝۰ۭ البقرہ 221:2 اِ س سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت سے ابتدائً نکاح مابین مسلم وکافرہ وبرعکس حرام ہوگیا،نکاح سابق کا انقطاع نہ ہوا تھا۔وہ سورۂ ممتحنہ کی آیت سے ہوا۔ سو یہ میرے مدعا کے لیے موید ہے کہ مسلم مہاجر اور کافرہ غیر مہاجرہ کے درمیان اُس وقت تک ولایت باقی تھی تو آپ مسلم و مسلمہ کے درمیان قطع ولایت کے کیسے قائل ہیں؟

میں پھر عرض کرتا ہوں کہ قرآن وحدیث سے براہ راست استنباط کو میںمنع نہیں کرتا، مگر اس کے لیے جس قدر وسعت نظر فی الحدیث اور معرفت ناسخ ومنسوخ ومعرفت اقوال فقہائے سابقین کی ضرورت ہے،یہ شرط ہم میں اور آپ میںمفقود ہے۔اس لیے یقینا ہم سے بڑی بڑی خطائوں کا ارتکاب ہوگا۔ سلامتی اسی میں ہے کہ جب کسی مسئلے میں فقہائے سابقین کا فیصلہ نہ ملے تو علمائے وقت سے مراجعت کی جائے۔شاید کسی سے کچھ مل جائے۔ یا کم ازکم اپنی تحقیق کو حرف آخر نہ سمجھا جائے اور صاف لکھ دیا جائے کہ اس مسئلے میں فقہائے سلف کے کلام میں کوئی جزئیہ نہیں ملا، میں نے قرآن وحدیث سے یہ سمجھا ہے،دوسرے علما سے بھی تحقیق کرلی جائے اور میری تحقیق کو فتویٰ نہ سمجھا جائے۔ والسلام

ظفر احمد عثمانی

جواب:

محترمی ومکرمی جناب مولاناظفر احمدصاحب عثمانی دام مجد کم!

السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!عنایت نامہ باعث سرفرازی ہوا۔

میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ میں نے کبھی اپنی کسی تحقیق کو، دوسروں ہی کے لیے نہیںبلکہ خود اپنے لیے بھی، حرف آخر نہیں سمجھا۔ میری ہر رائے قابل نظر ثانی ہے۔جب کبھی مجھ پرخود مزید مطالعہ وتحقیق سے اپنی کوئی غلطی واضح ہوجاتی ہے،اُس کی اصلاح کرلیتا ہوں اور اُس کا اظہار بھی کردیتا ہوں۔ اور جب کبھی کسی کی تنقید سے،خواہ وہ کتنی ہی مخالفانہ و معاندانہ ہو،بدلائل میری کوئی غلطی مجھ پر ظاہر ہوجاتی ہے،اُس سے رجوع کرنے میں مجھے تامل نہیں ہوتا۔ اس بات کا بارہا اظہار کرچکا ہوں۔ کہ فقہی مسائل میں اپنی تحقیق سے جو کچھ بھی میں نے لکھا ہے،وہ کوئی فتویٰ نہیں ہے بلکہ ایک ا ظہاررائے ہے تاکہ اہل علم اس پر غور کریں۔ اگر میری تحقیق سے مطمئن ہوں تو قبول کریں،ورنہ دلیل سے اس کو رد کردیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہر علمی بحث یا ہر اظہار رائے کے ساتھ اس تصریح کا التزام مشکل ہے۔

مولانا تھانویؒ کی بیان القرآن سے میں نے کبھی کبھی استفادہ کیا ہے۔پٹھان کوٹ کے قیام کے زمانے میں وہ ہمارے کتب خانے میں موجود تھی۔مگر ہمارا جو ذخیرہ وہاں رہ گیا،اُس میں جہاں اور بہت سی کتابیں ضائع ہوئیں،وہاں ایک یہ کتاب بھی تھی۔اب رفتہ رفتہ اس نقصان کی تلافی کی جارہی ہے اور ازسر نو کتابیں جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔مجھے علم کے معاملے میںکوئی تعصب نہیں ہے۔متقدمین کی طرح معاصرین سے بھی استفادہ کرتا ہوں اور عربی کی طرح اُردو میں بھی کہیں علم موجود ہو تو اس سے فائدہ اُٹھا تا ہوں۔

مجھے آپ کی اس رائے سے جزوی اتفاق ہے کہ دوسرے مذاہب کی پوری واقفیت ان کے علما سے پڑھے بغیر نہیں ہوسکتی۔مگراس کے اس جز سے اتفاق نہیں ہے کہ اس طرح کی’’پوری واقفیت‘‘ کے بغیر سرے سے بحث وتحقیق ہی بند ہوجانی چاہیے۔ اگر یہ بات درست ہو تو آخر ہمارے مدارس دینیہ میں درس حدیث وفقہ کے موقع پر مذہب حنفی کو دوسرے مذاہب پر ترجیح دیتے ہوئے جو بحثیں کی جاتی ہیں،ان میں کیا وزن باقی رہ جاتا ہے؟نیزاسلام اور دوسرے ادیان، یا اسلامی قانون اور دوسرے قوانین کے تقابل پر ہم جو کچھ لکھتے اور بولتے رہتے ہیں،اُس کے لیے بھی کیا وجہ جواز باقی رہتی ہے جب کہ ہم نے ان کی کتابوں کو استادوں سے سبقاً سبقاً نہیںپڑھا ہے؟ میرے خیال میں صحیح یہ ہے کہ جتنی کچھ بھی تحقیق کتابوں کے ذریعے سے ممکن ہوکرنی چاہیے اور اصلاح کے لیے تنقید پر اعتماد کرنا چاہیے۔ آخر ہم مغربی علوم وفنون اور قوانین کے بارے میں بھی تو ان کی کتابوں ہی کو پڑھ کر کلام کرتے ہیں۔ ہر چیز کو سبقاً سبقاً تو نہیں پڑھتے۔ہماری تحریریں ہر طرح کے اہل علم تک پہنچتی ہیں اور جس معاملے میں بھی کوئی غلطی ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی باخبر آدمی اس پر ٹوک دیتا ہے۔اس طرح تمام علمی مسائل میں حقائق کی تنقیح اور غلطیوں کی اصلاح ہوتی رہتی ہے اور علمی ترقی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔صرف ایک فقہ ہی کیوں ایسی چھوئی موئی ہوکہ اس میں بحث وتحقیق کا کام صرف اِ س اندیشے سے بند رکھا جائے کہ کہیں کسی مذہب فقہی کے بیان میں ہم سے غلطی سرزد نہ ہوجائے؟اس طرح کی احتیاط اگر متقدمین نے برتی ہوتی تو ہم تک ان کی وہ بیش قیمت تحقیقات کیسے پہنچتیں جن میں بے شمار مفید چیزوں کے ساتھ ساتھ آپ کے اپنے بیان کے مطابق غلطیاں بھی ہیں؟بحث وتحقیق میں احتیاط تو ضروری ہے مگر نہ اتنی احتیاط کہ یا تو سرے سے بحث وتحقیق ہی بند کردی جائے یا اس کے لیے ایسی شرطیں لگا دی جائیں جو پوری نہ ہوسکتی ہوں۔

درجۂ احسان کی اہمیت اور اُس کے حاصل کرنے کی ضرورت سے انکار کا کیا موقع ہے۔ میرے نزدیک تو وہی اصل میں مطلوب ہے۔اور میں اس سے بھی انکار نہیں کرتا کہ محسنین سے نہ خدا کی زمین پہلے خالی تھی اور نہ اب خالی ہے۔یہ لوگ جہاں بھی ہیں،خدا کی رحمت کا ایک نشان ہیں اور ان کی صحبت،معیت اور رفاقت ہمارے لیے سرمایۂ سعادت ہے۔ مگر طولِ بحث سے بچتے ہوئے میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ جہاں بالعموم ان لوگوں کے زیادہ پائے جانے کا گمان کیا جاتا ہے،وہاں یہ سب سے کم پائے جاتے ہیں،اور جن گوشوں کو’’اہل فن‘‘اتنا حقیر سمجھتے ہیں کہ احسان کی کوئی جھلک تک ان میں دیکھنے کی توقع نہیں رکھتے،وہیں یہ اکثر مل جاتے ہیں۔اہل فن میں جن شخصیتوں کو مُزکّٰی ہونے کی شہرت حاصل ہے،ان میں بہتوں کے ساتھ مجھے کسی نہ کسی طور پر سابقہ پیش آیا ہے اور میں نے ان کے اندر وہ کمزوریاں پائی ہیں جو معمولی انسانوں کے لیے بھی موزوں نہیں ہیں کجا کہ ماہرین تزکیۂ نفس کے لیے۔ اس کے برعکس غیر معروف لوگ، جودنیا کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں اور جنھیں شاید کوئی مرتبہ بھی اہل فن کے ہاں نہیں مل سکتا،ان کے اندر ایسے ایسے بندۂ حق ملے ہیں جو خوف ِ خدا سے کانپنے والے اور اُس کی رضا جوئی کے لیے ہر فائدے کو قربان اور ہر نقصان کو گوارا کرنے والے ہیں اور جنھیں قبول حق اور ادائے حق سے نہ کوئی نفسانیت باز رکھ سکتی ہے اور نہ کوئی عصبیت۔

شرح السیر الکبیر بلاشبہ اسلام کے بین الاقوامی قانون پر ایک بہترین کتاب ہے۔میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ اور اس کے علاوہ مبسوط اور دوسری کتابوں کے بھی وہ ابواب پڑھے ہیں جو بین الاقوامی قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں دارالکفر اور دارالاسلام کے تعلقات پر تو بہت اچھی روشنی ڈالی گئی ہے مگر افسوس ہے کہ دارالکفر کی مسلم رعایا اور دارالاسلام کے تعلقات کا پہلو ان سب میں بہت تشنہ ہے۔ میں آپ سے پھر گزارش کروں گا کہ اس خاص پہلو پر متقدمین کی کتابوں میں جو بحثیں ہیں،آپ ایک مرتبہ پھر ان کا جائزہ لے کر دیکھیں اور اُس وقت کے حالات پر ان کو منطبق کرنے کی کوشش فرمائیں۔مجھے توقع ہے کہ اس کے بعد آپ کو خود بھی ان کی تشنگی کا احساس ہوجائے گا۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جو دور ہمارے ہاں فقہی اجتہاد کے لیے ممتاز رہا ہے،اُس میں سارے مسلمان دارالاسلام ہی کی رعایا تھے اور کم ہی ایسا اتفاق ہوا تھا کہ کوئی بڑی مسلم آبادی کفار کی رعیت بنی ہو۔بعد میں جب بڑی بڑی مسلم آبادیاںکفار کی رعیت بن گئیں تو اُس وقت اجتہاد کا دروازہ قریب قریب بند ہوچکا تھا۔ اس لیے ہمارے قانون کا یہ شعبہ بڑی حد تک تشنۂ تفصیل رہ گیا۔پھر موجودہ زمانے کی ہمہ گیر قومی جمہوری ریاست سے تو مسلمانوں کو پہلے کبھی سابقہ پیش ہی نہیں آیا تھا جس میں ریاست کی پوری آبادی کو ’’ایک قوم‘‘ فرض کرکے کافر اکثریت مسلمانوں پر اپنی تہذیب وتمدن اور قوانین حیات ہی کو نہیں بلکہ اپنے نظریات وتخیلات اور احساسات تک کو مسلط کردینے کی کوشش کرتی ہے۔اس طرح کی غیر مسلم قومی ریاست کا معاملہ تو اس دارالکفر کے معاملے سے بہت زیادہ پیچیدہ ہے جہاں مسلمانوں کو ایک’’ذمی قوم‘‘ کی سی پوزیشن دی گئی ہو، اور یہ معاملہ اس سے زیادہ گہری نظر چاہتا ہے جس سے آپ اسے دیکھ رہے ہیں۔

اس معاملے میں اصل تصفیہ طلب چیز یہ نہیں ہے کہ جاسوسی کے امکانات کہاں کہاں ہیں اور ان کو کس طرح بند کرنا چاہیے،بلکہ یہ ہے کہ وہ’’ولایت‘‘ جس کو دارالاسلام کی حکومت اور مسلم رعایا اور دارالکفر کی مسلم رعایا کے باہمی تعلقات سے ساقط کیا گیا ہے،کن معنوں میں ہے اور اس کے سقوط کے عملی اثرات ونتائج کیا ہیں۔ میں اس کے جو معنی اورحدو د بیان کررہا ہوں،اگر آپ کو اس سے اتفاق نہیں ہے تو آپ خود بیان فرمائیں کہ آپ اس کا کیا مطلب سمجھتے ہیں۔

آپ کا یہ معارضہ البتہ وزنی ہے کہ جب دارالاسلام نے اپنے دروازے مہاجرت کے لیے بند کررکھے ہوں تو وہ احکام موجودہ حالت پر کیسے منطبق ہوں گے جو ہجرت کی فرضیت کے زمانے میں دیے گئے تھے۔مگر میری طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ احکام تو بلاشبہ ہجرت کی فرضیت کے زمانے میں دیے گئے تھے لیکن ’’سقوط ولایت‘‘ ہجرت کی فرضیت پر موقوف نہیں ہے بلکہ مجرد اختلاف دارین اس کا مبنیٰ ہے۔اگر آپ میری بات کو نہیں مانتے،تو کیا آپ یہ فرماتے ہیں کہ جب دارالاسلام کی حکومت تمام کافر حکومتوں کی مسلم رعایا کو ہجرت کی دعوت نہ دے سکتی ہو تو اُس صورت میں وہ ان کی پوری مسلم رعایا کی ولی ہے؟اور کیا اس صورت میں دارالاسلام کے مسلمان بھی دارالکفر کے مسلمانوں کے ولی ہوں گے؟حالاں کہ معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہیے۔جو دارالاسلام اتنا کمزور ہو کہ اپنے قریب ترین دارالکفر کی مسلم آبادی کو بھی پناہ نہ دے سکتا ہو،وہ اُس کی ولایت کا حق ادا کرنے سے بدرجۂ اولیٰ قاصر ہوگا۔ واقعہ یہ ہے کہ جو حقائق اور مصالح اس ولایت کے سقوط کے مقتضی ہیں،ان کا کوئی تعلق بھی ہجرت کے وجوب وعدم وجوب سے نہیں، ان کی بنیاد تو دراصل یہ ہے کہ جو مسلمان ایک غیر مسلم حکومت کے تابع امر ہیں،ان کی ولایت کا بار سنبھالنا مسلم حکومت کے لیے عملاً غیر ممکن ہے،اورمزید برآں اگر مسلم حکومت ان کی ولی بننے کی مدعی ہو،اور اس ولایت کا حق ادا کرنے کے لیے ہمسایہ غیر مسلم حکومتوں کے دائرۂ اقتدار میں مداخلت کرے،یا کم ازکم نظری حیثیت ہی سے اپنے لیے اِ س مداخلت کا حق محفوظ رکھے،تو یہ چیز اُس کو ان تمام غیر مسلم حکومتوں سے ایک دائمی آویزش میں مبتلا کردے گی جن کے تحت مسلمان آباد ہوں۔

آپ شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ ولایت کے اسقاط کا یہ حکم دارالکفر کے مسلمانوں کو محض ہجرت نہ کرنے کی سزا دینے کے لیے تھا۔اس لیے آپ کو یہ اعتراض ہے کہ جب ہم ان پر ہجرت کا راستہ نہیں کھول رہے ہیں تو ان کو یہ سزا کیوں دی جائے۔مگر جو بات میں نے اوپر عرض کی ہے،اُس پر اگر آپ غور فرمائیں گے تو مجھے اُمید ہے کہ آپ کا یہ اعتراض دور ہوجائے گا۔وجوب ہجرت کی صورت میں ہجرت نہ کرنے کی سزائیں دوسری ہیں جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر بیان کی گئی ہیں۔ان سزائوںکو ( جو صرف وجوب ہجرت کی صورت کے لیے مخصوص ہیں) بین الاقوامی قانون کی مستقل دفعات کے ساتھ(جن کا مبنیٰ مجرد اختلاف دار ہے، خواہ ہجرت ممکن اور واجب ہو یا نہ ہو)خلط ملط کردینے سے بڑی غلط فہمیاں لاحق ہوسکتی ہیں۔

بیرونی ممالک سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنا اور چیز ہے اور کسی کو حقوق شہریت دے کر ان تمام رازوں اور ذمہ داریوں میں شریک کرلینا جن میں صرف شہری ہی شریک ہوسکتے ہیں،بالکل ہی ایک دوسری چیز۔ضرورت کے وقت شریعت ہمیں باہر سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے سے نہیں روکتی۔مگر یہ بات، کم ازکم میرے علم میں تو،قرآن مجید کی دی ہوئی ہدایات کے بالکل خلاف ہے کہ جو شخص ایک غیر مسلم حکومت کی رعایا ہو،اور جس کے سارے مفادات دارالکفر سے وابستہ ہوں،اُس کو ہم اپنے ہاں سفیر اور وزیر اور سیکرٹری بنائیں۔

قطع ولایت سے مطلق کفاء ت کی نفی کا دعویٰ میں نے کب کیا تھا کہ اس سے دارالکفر کے کسی سیّد کا غیر سیّد ہوجانا لازم آئے۔میرا مدعا تو یہ تھا کہ مناکحت میں جس کفاء ت کا اعتبار کیا جاتا ہے،وہ صرف انھی لوگوں کے درمیان معتبر ہے جن کے درمیان موالات ہو۔جہاں سرے سے موالات ہی نہ ہو،وہاں کفاء ت اگر نسب یا دوسرے وجو ہ سے موجود بھی ہو تو وہ شادی بیاہ کے لیے کوئی موزوں بنیاد نہیں ہے۔اس لیے کہ مناکحت سے زوجین کے جو قانونی حقوق ایک دوسرے پر عائد ہوتے ہیں،ان کی بنیاد کفاء ت پر نہیں بلکہ ولایت پر قائم ہوتی ہے۔اگر ولایت نہ ہو تو ان کے حقوق کے استقرار میں کفاء ت کچھ بھی مددگار نہیں ہوتی۔دارالکفر کے ایک سیّد صاحب دارالاسلام کی ایک سیّدانی کے باعتبارِ نسب کفو ہی سہی،مگر یہ کفاء ت اس غریب کو مہر،نفقہ اور دوسرے حقوق زوجیت دلوانے میں آخر کیا مدد کرسکتی ہے؟

تاہم، جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں،میری اس تقریر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمانوں کے درمیان مناکحت حرام ہے، یا ان کے سابق نکاح اختلافِ دارین سے آپ ہی آپ ٹوٹ گئے ہیں،یا آئندہ ان کے درمیان نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جن زوجین کے درمیان اختلاف دار واقع ہوچکا ہے،ان کی طرف سے اگر فسخ نکاح کی درخواست ہماری عدالت میں آئے تو وہ قابل لحاظ ہونی چاہیے، اور یہ کہ آئندہ اس طرح کے رشتے کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

(خاکسار:ابو الاعلیٰ)

(ترجمان القرآن، ذی قعدہ وذی الحجہ۳۷۰اھ، ستمبرا۹۵اء)