رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلام اور سینما ٹو گرافی:
سوال: میں ایک طالب علم ہوں۔میں نے جماعتِ اسلامی کے لٹریچر کا وسیع مطالعہ کیا ہے۔خدا کے فضل سے مجھ میں نمایاں ذہنی وعملی انقلاب رونما ہوا ہے۔ مجھے ایک زمانے سے سینما ٹوگرافی سے گہری فنی دل چسپی ہے اور اس سلسلے میں کافی معلومات فراہم کی ہیں۔نظریات کی تبدیلی کے بعد میری دلی خواہش ہے کہ اگر شرعاً ممکن ہو تو اس فن سے دینی واخلاقی خدمت لی جائے۔آپ براہ نوازش مطلع فرمائیں کہ اس فن سے استفادے کی گنجایش اسلام میں ہے یا نہیں۔اگر جواب اثبات میں ہو توپھر یہ بھی واضح فرمائیں کہ عورت کا کردار پردۂ فلم پر دکھانے کی بھی کوئی جائز صورت ممکن ہے یا نہیں؟
جواب: میں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ یہ خیال ظاہر کرچکا ہوں کہ سینما بجائے خود جائز ہے، البتہ اس کا ناجائز استعمال اس کو ناجائز کردیتا ہے۔سینما کے پردے پر جو تصویر نظر آتی ہے،وہ دراصل ’’تصویر‘‘نہیں بلکہ پرچھائیں ہے،جس طرح آئینے میں نظر آیا کرتی ہے،اس لیے وہ حرام نہیں، رہا وہ عکس جو فلم کے اندر ہوتا ہے،تو وہ جب تک کاغذ یا کسی دوسری چیز پر چھاپ نہ لیا جائے،نہ اس پر تصویر کا اطلاق ہوتا ہے اور نہ وہ ان کاموں میں سے کسی کام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جن سے باز نہ رہنے ہی کی خاطر شریعت میں تصویر کو حرام کیا گیا ہے۔ان وجوہ سے میرے نزدیک سینما بجائے خود مباح ہے۔
جہاں تک اس فن کو سیکھنے کا تعلق ہے،کوئی وجہ نہیں کہ آپ کو اس سے منع کیا جائے۔ آپ کا اس طرف میلان ہے تو آپ اسے سیکھ سکتے ہیں،بلکہ اگر مفید کاموں میں اسے استعمال کرنے کا اراد ہ ہوتو آپ اسے ضرور سیکھیں۔کیوں کہ یہ قدرت کی طاقتوں میں سے ایک بڑی طاقت ہے، اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسے بھی دوسری فطری طاقتوں کے ساتھ خدمت خلق اور مقاصد خیر کے لیے استعمال کیا جائے۔خدا نے جو چیز بھی دنیا میں پیدا کی ہے،انسان کی بھلائی کے لیے اور حق کی خدمت کے لیے پیدا کی ہے۔یہ ایک بدقسمتی ہوگی کہ شیطان کے بندے تو اسے شیطانی کاموں کے لیے خوب خوب استعمال کریں اور خدا کے بندے اسے خیر کے کاموں میں استعمال کرنے سے پرہیز کرتے رہیں۔
اب رہا فلم کو اسلامی اغراض اور مفید مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا سوال، تو اس میں شک نہیں کہ بظاہر ایسے معاشرتی،اخلاقی، اصلاحی اور تاریخی فلم بنانے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی جو فواحش اور جنسی مہیجات،اور تعلیم جرائم سے پاک ہوں،اور جن کا اصل مقصد بھلائی کی تعلیم دینا ہو۔ لیکن غورسے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں دو بڑی قباحتیں ہیں جن کا کوئی علاج ممکن نہیں ہے:
اوّل یہ کہ کوئی ایسا معاشرتی فلم بنانا سخت مشکل ہے جس میں عورت کا سرے سے کوئی پارٹ نہ ہو۔اب اگر عورت کا پارٹ رکھا جائے تو اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں: ایک یہ کہ اس میں عورت ہی ایکٹر ہو۔ دوسرے یہ کہ اس میں مرد کو عورت کا پارٹ دیا جائے۔شرعاً ان میں سے کوئی بھی جائز نہیں ہے۔
دوم یہ کہ کوئی معاشرتی ڈراما بہرحال ایکٹنگ کے بغیر نہیں بن سکتا۔ایکٹنگ میں ایک عظیم الشان اخلاقی خرابی یہ ہے کہ ایکٹر آئے دن مختلف سیرتوں اور کردارو ں کا سوانگ بھرتے بھرتے بالآخر اپنا انفرادی کیرکٹر بالکل نہیں تو بڑی حد تک کھو بیٹھتا ہے۔اس طرح چاہے ہم فلمی ڈراموں کو معاشرے کی اصلاح اور اسلامی حقائق کی تعلیم وتبلیغ ہی کے لیے کیوں نہ استعمال کریں، ہمیں بہرحال چند انسانوں کو اس بات کے لیے تیار کرنا پڑے گا کہ وہ ایکٹر بن کر اپنا انفرادی کیرکٹر کھو دیں۔یعنی دوسرے الفاظ میں اپنی شخصیت کی قربانی دیں۔میں نہیں سمجھتا کہ معاشرے کی بھلائی کے لیے،یا کسی دوسرے مقصد کے لیے، خواہ وہ کتنا ہی پاکیزہ اور بلند مقصد ہو،کسی انسان سے شخصیت کی قربانی کا مطالبہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔جان، مال،عیش، آرام،ہر چیز تو قربان کی جاسکتی ہے اورمقاصد عالیہ کے لیے کی جانی چاہیے،مگر یہ وہ قربانی ہے جس کا مطالبہ خود اﷲ تعالیٰ نے اپنے لیے بھی نہیں کیا ہے، کجا کہ کسی اور کے لیے اس کامطالبہ کیا جاسکے۔
ان وجوہ سے میرے نزدیک سینما کی طاقت کو فلمی ڈراموں کے لیے استعمال نہیںکیا جاسکتا۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ طاقت اور کس کام میں لائی جاسکتی ہے؟میرا جواب یہ ہے کہ ڈرامے کے سوا دوسری بہت سی چیزیں بھی ہیں جو فلم میں دکھائی جاسکتی ہیں، اور وہ ڈرامے کی بہ نسبت بہت زیادہ مفید ہیں۔ مثلاً:
ہم جغرافی فلموں کے ذریعے سے اپنے عوام کو زمین اور اس کے مختلف حصوں کے حالات سے اتنی وسیع واقفیت بہم پہنچا سکتے ہیں کہ گویا وہ دنیا بھر کی سیاحت کرآئے ہیں۔ اسی طرح ہم مختلف قوموں اور ملکوں کی زندگی کے بے شمار پہلو ان کو دکھا سکتے ہیں جن سے ان کو بہت سے سبق بھی حاصل ہوں گے اور ان کا نقطۂ نظر بھی وسیع ہوگا۔
ہم علم ہیئت کے حیرت انگیز حقائق اور مشاہدات ایسے دل چسپ طریقوں سے پیش کرسکتے ہیںکہ لوگ شہوانی فلموں کی دل چسپیاں بھول جائیں،اور پھر یہ فلم اتنے سبق آموز بھی ہوسکتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں پر توحید اور اﷲ کی ہیبت کا سکہ بیٹھ جائے۔
ہم سائنس کے مختلف شعبوں کو سینما کے پردے پر اس طرح پیش کرسکتے ہیں کہ عوام کو ان سے دل چسپی بھی ہو،اور ان کی سائنٹفک معلومات بھی ہمارے انڈر گریجویٹوں کے معیار تک بلند ہوجائیں۔
ہم صفائی۱ور حفظان صحت اور شہریت(civics) کی تعلیم بڑے دل چسپ انداز سے لوگوں کو دے سکتے ہیں جس سے ہمارے دیہاتی اور شہری عوام کی محض معلومات ہی وسیع نہ ہوں گی، بلکہ وہ دنیا میں انسانوں کی طرح جینے کا سبق بھی حاصل کریں گے۔اس سلسلے میں ہم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کے مفید نمونے بھی لوگوں کو دکھا سکتے ہیں تاکہ وہ ان کے مطابق اپنے گھروں اور اپنی بستیوں اور اپنی اجتماعی زندگی کو درست کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔
ہم مختلف صنعتوں کے ڈھنگ، مختلف کارخانوں کے کام،مختلف اشیا کے بننے کی کیفیت، اور زراعت کے ترقی یافتہ طریقے سینما کے پردے پر دکھا سکتے ہیں، جن سے ہماری صنعت پیشہ اور زراعت پیشہ آبادی کے معیارِ علم اور معیارِ کارکردگی میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔
ہم سینما سے تعلیم بالغاں کا کام بھی لے سکتے ہیں اور اس کام کو اتنا دل چسپ بنایا جاسکتا ہے کہ ان پڑھ عوام اس سے ذرا نہ اُکتائیں۔
ہم اپنے عوام کو فن جنگ کی، سول ڈیفنس کی،گوریلا وار فیئر کی،گلیوں اور کوچوں میں دفاعی جنگ لڑنے کی،اور ہوائی حملوں سے تحفظ کی ایسی تعلیم دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کے لیے بہترین طریقے پر تیار ہوسکیں۔نیز ہوائی اور بری اور بحری لڑائیوں کے حقیقی نقشے بھی ان کو دکھا سکتے ہیں تاکہ وہ جنگ کے عملی حالات سے پیشگی باخبر ہوجائیں۔
یہ،اور ایسے ہی بہت سے دوسرے مفید استعمالات سینما کے ہوسکتے ہیں۔مگر ان میں سے کوئی تجویز بھی اس وقت تک کام یاب نہیں ہوسکتی، جب تک کہ ابتداء ً حکومت کی طاقت اور اس کے ذرائع اس کی پشت پر نہ ہوں۔اس کے لیے اوّلین ضرورت یہ ہے کہ عشق بازی اور جرائم کی تعلیم دینے والے فلم یک لخت بند کردیے جائیں۔کیوں کہ جب تک اس شراب کی لت زبردستی لوگوں سے چھڑائی نہ جائے گی،کوئی مفید چیز ان کے منہ کو لگنی محال ہے۔دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ ابتدا میں مفید تعلیمی فلم حکومت کو خود اپنے سرمایے سے تیار کرانے ہوں گے اور ان کو عوام میں رواج دینے کی کوشش کرنی ہوگی،یہاں تک کہ جب کاروباری حیثیت سے یہ فلم کام یاب ہونے لگیں گے تب نجی سرمایہ اس صنعت کی طرف متوجہ ہوگا۔
(ترجمان القرآن۔ذی القعدہ ا۳۷اھ۔ مطابق اگست۹۵۲اء)