مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کیا برقع 'پردے'کی غایت پوری کرتا ہے؟

سوال: احقر ایک مدت سے ذہنی اور قلبی طور پر آپ کی تحریک اقامت دین سے وابستہ ہے۔پردے کے مسئلے پر آپ کے افکار عالیہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔لیکن آخر میں آپ نے مروجہ برقع کو بھی(Demond) کیا ہے۔ اس کے متعلق دو ایک باتیں دل میں کھٹکتی ہیں۔براہ مہربانی ان پر روشنی ڈال کر مشکور فرمائیں۔

پردے کی غایت صنفی میلان کی انتشار پسندی کو روکنا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ میلان ہر دو اصناف میں پایاجاتا ہے(گو دونوں میں فرق کی نوعیت سے انکار نہیں)۔ اسی وجہ سے پردے کی اصل روح…غض بصر… کا حکم مرد اور عورت دونوںکے لیے ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ برقع کی ’’دیوار‘‘ کے پیچھے عورتوں کی بہت بڑی اکثریت’’ نگاہ کے زنا‘‘ کی مرتکب ہوتی رہتی ہے۔اس کی وجہ ان کا یہ اطمینان(satisfaction) ہوتا ہے کہ ہم تو مردوں کو دیکھ رہی ہیں لیکن مرد ہمیں نہیں دیکھ رہے،اور نہ ہماری اس’’نظارہ بازی‘‘کا علم ہی کسی کو ہے۔سو اس طرح کی خواتین میں جوہر حیا…صنف نازک کا اصل جوہر…بہت کم ہوجاتا ہے۔

علاوہ ازیں برقع اوڑھ کر ایک اوسط معاشی وسائل کے کنبے کی عورتیں اپنے کام کاج بھی کماحقہ انجام نہیں دے سکتیں۔سفر ہی کو لیجیے، گاڑیوں اور بسوں وغیرہ میں چڑھنا اور اُترنا برقع پوش عورت کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔

پردہ…’’مکمل پردہ‘‘… کی اہمیت ومعقولیت سے قطعاًانکار نہیں کیا جاسکتا،لیکن کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ مروجہ برقع کے بجائے اور کوئی موزوں تر طریقہ استعمال ہو۔ مثال کے طور پر آج سے چند سال پیشتر تک دیہات کی شریف عورتیں خود کو ایک چادر میں مستور کرتی تھیں۔ چادرمیں وہ یہ جرأت نہ کرسکتی تھیں کہ کسی مرد کو مسلسل دیکھیں اور ان کی آنکھوں میں شرم وحیا کا بہت اعلیٰ مظاہرہ ہوتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ برقع کی نسبت اُس چادر میں بہت اچھی طرح’’پردہ‘‘ ہوتا تھا۔

آپ کی مصروفیات کے علم کے باوجود آپ کو تکلیف دے رہا ہوں۔

جواب: آپ نے اپنے سوال میں کئی چیزوں کو خلط ملط کردیا ہے۔بہتر ہو کہ ایک ایک چیز کو آپ الگ الگ لیں اور پھر اس پر غور کرکے رائے قائم کریں۔

پہلی بات غور طلب یہ ہے کہ کیا غض بصر کی تلقین اور اخلاقی تربیت کے بغیر یہ ممکن ہے کہ کوئی عورت کسی غیر مرد کو گھور نے سے روکی جاسکے؟آپ برقع کی نقاب پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ صرف مرد کو عورت پر نگاہ ڈالنے سے روکتی ہے،عورت کو اس ناجائز نظر بازی سے نہیں روکتی۔مگر یہ عیب تو صرف نقاب میں نہیںہے،چادر میں بھی ہے۔شریعت اس کی اجازت دیتی ہے کہ عورت چادر سے منہ ڈھانک کر جب باہر نکلے تو اُسے راستہ دیکھنے کے لیے کم ازکم اتنی جگہ کھلی رکھنی چاہیے کہ اُس کی آنکھ سامنے دیکھ سکے۔ پھر یہ عیب چلمن میں بھی ہے جو آپ دروازوں اور کھڑکیوں پر ڈالتے ہیں۔ بلکہ یہ عیب ہر اُس چیز میں ہے جس سے کوئی عورت باہر جھانک سکتی ہو۔آپ خود بتائیں کہ ان منافذ کو آپ کیسے روک سکتے ہیں؟اور کیا فی الواقع شریعت کا بھی یہ مطالبہ ہے کہ ان سب منافذ کو روکا جائے؟ علاوہ ازیں اسی کتاب پردہ میںمیں نے وہ روایت نقل کی ہے جس میں لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت عائشہؓ کو حبشیوں کے کھیل کا تماشا دکھایا تھا۔وہاں میں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مردوں کا عورتوں کو دیکھنا اور عورتوں کامردوں کو دیکھنا نہ شرعاًبالکل یکساں ہے اور نہ نفسیات کے اعتبار سے ان کی حیثیت برابر ہے۔

دوسری غورطلب بات یہ ہے کہ اگر برقع بجائے خود بھڑکیلا اورجاذب نظر نہ ہو،سادہ اور بے زینت ہو تو شرعاًاُس پر کس اعتراض کی گنجایش ہے؟کیا وہ شریعت کے کسی مطالبے کو پورا نہیں کرتا؟اگر کرتا ہے تو ہمارے پاس اس کے ناجائزہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ آپ کے نزدیک کوئی دوسری چیز اس سے بہتر طریقے پر شریعت کے منشا کو پورا کرتی ہو۔ایسی کوئی چیز آپ کی نگاہ میں ہے تو آپ اُسے تجویز کرسکتے ہیں۔مگر برقع کو ناجائز کہنا کسی طرح درست نہیں۔

برقع اوڑھ کر چلنے پھرنے اور بسوں وغیرہ پر چڑھنے کے سلسلے میں آپ جو مشکلات بیان کرتے ہیں،وہ جوازو عدم جواز کی بحث سے غیر متعلق ہیں۔آپ کے نزدیک چادر میں اس سے کم مشکلات ہیں یا کسی قسم کی مشکلات نہیں ہیں تو خواتین کو اس کی طرف توجہ دلائیں۔وہ تجربے سے اسے مناسب تر پائیں گی تو کیوں نہ اختیا رکریں گی۔ (ترجمان القرآن،شعبان ۳۷۰اھ، مطابق جون ا۹۵اء)

عورت اور سفر حج:

سوال: عورت کے محرم کے بغیر حج پر جانے کے بارے میں علمائے کرام کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔آپ براہِ کرم مختلف مذاہب کی تفصیل سے آگاہ فرمائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کے نزدیک قابل ترجیح مسلک کون سا ہے؟

جواب: عورت کے بلامحرم حج کرنے کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔اس معاملے میں چار مسلک پائے جاتے ہیں جنھیں مختصراً یہاں بیان کیے دیتا ہوں:

۱۔ عورت کو کسی حال میں شوہر یا محرم کے بغیر حج نہ کرنا چاہیے۔یہ مسلک ابراہیم نخعی، طائوس، شعبی اور حسن بصریؒ سے منقول ہے اور حنبلی مذہب کا یہی فتویٰ ہے۔

۲۔ اگر حج کا سفر تین شبانہ روز سے کم کا ہو تو عورت بلا محرم جاسکتی ہے، لیکن اگر تین دن یا اس سے زائد کا سفر ہو تو شوہر یامحرم کے بغیر نہیں جاسکتی۔امام ابو حنیفہؒ اور سفیان ثوریؒکا یہی مذہب ہے۔

۳۔ جو عورت شوہر یامحرم نہ رکھتی ہو وہ ایسے لوگوں کے ساتھ جاسکتی ہے جن کی اخلاقی حالت قابل اطمینان ہو۔یہ ابن سیرین، عطاء، زہری، قتادہ اور اوزاعی کا مسلک ہے اور امام مالکؒ اور امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔امام شافعی نے ’’ قابل اطمینان رفیقوں‘‘ کی مزید تشریح اس طرح کی ہے کہ اگر چند عورتیں بھروسے کے قابل ہوں اور وہ اپنے محرموں کے ساتھ جارہی ہوں تو ایک بے شوہر اور بے محرم عورت ان کے ساتھ جاسکتی ہے۔البتہ صرف ایک عورت کے ساتھ اُسے نہ جانا چاہیے۔

۴۔ ان سب کے خلاف ابن حزمؒ ظاہری کا مسلک یہ ہے کہ بے محرم عورت کو تنہا ہی حج کے لیے جانا چاہیے۔اگر وہ شوہر رکھتی ہو اور وہ اُسے نہ لے جائے تو شوہر گناہ گارہو گا، مگر عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اُس کے بغیر حج کو چلی جائے۔

میں ان چاروں مسالک میں سے تیسرے مسلک کو ترجیح دیتا ہوں، کیوں کہ اس میں ایک دینی فریضے کو ادا کرنے کی گنجایش بھی ہے اور اس فتنے کا احتمال بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے حدیث میں عورت کے بلا محرم سفر کرنے کو منع کیا گیا ہے۔ (ترجمان القرآن، ذی الحجہ ا۳۷اھ،ستمبر ۹۵۲اء)