مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کیا یہ تنابز بالا لقاب ہے؟

سوال: آپ کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ وہ اقامت دین کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ اور آپ کی جماعت ہمیشہ جماعت احمدیہ کو’’مرزائی جماعت‘‘یا’’قادیانی جماعت‘‘ کے نام سے موسوم کرتی ہے۔حالاں کہ یہ امر دیانت کے بالکل خلاف ہے کہ کسی کو ایسا نام دیا جائے جو اس نے اپنے لیے نہیں رکھا۔

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے اپنی جماعت کا نام’’جماعت احمدیہ‘‘ رکھا ہے اور ان کی جماعت کے افراد بھی اپنے آپ کو’’احمدی‘‘ کہتے ہیں۔مگر ان کے مخالفین تعصب کی وجہ سے انھیں ’’مرزائی‘‘یا’’قادیانی‘‘ پکارتے ہیں۔کیا دین اسلام میں یہ جائز ہے؟اگریہ جائز ہے تو کیا آپ یہ پسند فرمائیں گے کہ آپ کی جماعت کے افراد کو’’مودودیے‘‘ کہا جائے۔اگر آپ یہ پسند نہیں فرماتے تو پھر آپ اور آپ کی جماعت دوسرو ں کے لیے ایسا کیوں پسند کرتی ہے؟

واضح رہے کہ آپ نے ترجمان القرآن جلد۳۵، ۳۶،عدد ۵،۶،ا کے صفحہ نمبر۴۶اپر تحریر فرمایا ہے:

’’میں اپنی حد تک یقین دلاتا ہوں کہ مجھے کبھی اپنی غلطی تسلیم کرنے میں نہ تامل ہوا ہے نہ آئندہ ہوگا،بشرطیکہ میری غلطی دلائل سے ثابت کی جائے نہ کہ سب وشتم سے‘‘

جواب: کسی جماعت کو اس کے معروف نام سے یاد کرنا،جب کہ فی الواقع اس میں توہین کا بھی کوئی پہلو نہ ہو، ناجائز نہیں ہے۔احمدی حضرات نے اپنا نام’’احمدی‘‘پسند کیا ہے،یعنی وہ اپنے آپ کو بانی سلسلہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ عرف عام میں ان کا نام’’قادیانی‘‘ رائج ہوچکا ہے [جہاں تک ہمیں معلوم ہے اس نام کے رواج پانے کی وجہ یہ ہے کہ جب مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کی خلافت کے آغاز میں احمدی جماعت کے دو ٹکڑے ہو گئے تو قادیان والی جماعت ’’قادیانی‘‘ کے نام سے اور لاہور والی جماعت ’’لاہوری‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس وقت کسی کے ذہن میں بھی ان میں سے کسی جماعت کو برا نام دینے کا خیال نہ تھا]۔ یعنی عوام الناس ان کو بانی سلسلہ کے وطن کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس میں تذلیل وتحقیر کا کون سا پہلو ہے اور یہ خلاف دیانت کیوں ہے۔اگر یہ خلاف دیانت ہے تو وہ سارے ہی عرف ناجائز اور خلاف دیانت قرار پائیں گے جو لوگوںمیں رائج ہیں۔

جماعت اسلامی کے افراد کو ’’مودودیے‘‘کہنے پر ہمیں اس لیے اعتراض ہے کہ ہم اپنے مسلک اور نظام کو کسی شخص خاص کی طرف منسوب کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔’’مودودی‘‘ تو درکنار، ہم تو اس مسلک کو’’محمدؐی‘‘ کہنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔یہ تو’’اسلام‘‘ ہے جس کے موجد ہونے کا شرف کسی انسان کو حاصل نہیں۔ اس لیے اسے کسی انسان کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔اگر آپ ہمیں’’نوحیے‘‘یا’’ابراہیمیے‘‘ کہیں گے تب بھی ہمیں وہی اعتراض ہوگا جو’’مودودیے‘‘کہنے پر ہے۔بخلاف اس کے مرزا صاحب اور ان کے متبعین نے اپنے مسلک و جماعت کو خود ہی ایک شخص خاص کی طرف منسوب کیا ہے،اور عوام نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اس شخص کے بجائے اس کے وطن کی طرف انھیں منسوب کردیا۔یہ کوئی ایسی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔سلسلۂ چشتیہ بھی بانی سلسلہ کے بجائے ان کے وطن کی طرف منسوب ہوکر مشہور ہوا ہے۔یہی معاملہ سلسلۂ سہروردیہ،سنوسیہ، شطاریہ وغیرہ کے ساتھ بھی ہوچکا ہے۔ اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس میں ان سلسلوں کی توہین کا کوئی پہلو ہے۔ رہا لفظ ’’مرزائی‘‘تو البتہ اسے میں پسند نہیں کرتا اور میں نے خود کبھی اسے استعمال نہیں کیا۔الا یہ کہ کسی نے اپنے سوا ل میں یہ لفظ استعمال کرلیا ہو اور میں نے اس کا جواب دیتے ہوئے حکایتاً اسے استعمال کرلیا ہو۔

(ترجما ن القرآن۔ذی القعدہ،ذی الحجہ ۳۷۰اھ۔ ستمبر۹۵۱اء)