رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ریاست اور حکومت کا فرق:
سوال: پاکستان کے نظام حکومت کی شرعی پوزیشن( قرارداد مقاصد کے زیر اثر)جو کچھ قرارپائی ہے،اس کے بارے میں اور ریاست وحکومت میں آپ جو فرق کرتے ہیںاُس کے بارے میں میرے دل میں کھٹک ہے۔خود آپ ہی کے الفاظ نے اس مسئلے کو میرے لیے پیچیدہ بنا دیا ہے۔سٹیٹ کی تعریف آپ نے یوں کی ہے:
’’لفظ اسٹیٹ،جس کا مترادف ہماری زبان میں ریاست کا لفظ ہے،علم السیاست کی اصطلاح میں اس نظام کو کہتے ہیں جو ایک متعین رقبۂ زمین میں رہنے والی آبادی کو قاہرانہ طاقت سے ضبط میں رکھتا ہو۔‘‘ (سیاسی کش مکش حصہ دوم،صفحہ۰۰ا)
اگر اسٹیٹ سے مراد وہ نظام ہو جو قاہرانہ طاقت کے ذریعے نافذ ہو تو پھر سٹیٹ کی وفا داری کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم اس مروجہ نظام کے وفا دار ہیں جو اس وقت ۴۵ء کے ایکٹ کے نام سے ہم پر مسلط ہے۔کیا اس قسم کی تفریق قرونِ اولیٰ میں بھی پائی گئی ہے؟
جواب: ریاست اور حکومت کے فرق کو آپ مسجد اور متولی کی مثال سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ایک محلے کے مسلمان مل کر اگراپنی کسی عمارت کے متعلق فیصلہ کرلیں کہ اسے مسجد بنانا ہے اور اس غرض کے لیے اسے وقف کردیں تو وہ مسجد بن جائے گی۔اب اگر اس عمارت کی ساخت مسجد کے لیے مناسب نہیں ہے اور واقفین اسے مسجد کے طور پر تعمیر کرنے کا ارادہ کرچکے ہیں تو جب تک اس کے طرز تعمیر میں عملاًتغیر نہ ہو،وہ عمارت اپنی پہلی ہی ساخت پر رہے گی۔لیکن یہ صورت حال اس کو مسجد ہونے کے حکم سے خارج نہ کردے گی۔اس مسجد کا انتظام اہل محلہ جس متولی کے سپرد کردیں گے،وہ اس کے نظم ونسق کو عملاًچلائے گا۔اب اگر وہ اپنی خود رائی سے اہل محلہ کے منشا کے خلاف اس مسجد میں ایسے کام کرنے لگے جو مسجد میں نہ ہونا چاہییں، تویہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ یہاں چوں کہ مسجد کا سا کوئی کام نہیں ہورہا ہے،اس لیے یہ عمارت مسجد نہیں ہے۔ بلکہ زیادہ صحیح یہ کہنا ہوگا کہ چوں کہ یہ متولی اس عمارت میں آداب مسجد کے خلاف کام کررہا ہے اس لیے یا تو اسے درست کرنا چاہیے یا ہٹا دینا چاہیے۔
علیٰ ہذا القیاس جب اس ملک کے باشندوں نے اپنی آئینی زبان سے اس امر کا اعلان کردیا ہے کہ ان کی قومی ریاست الٰہی احکام وہدایات کے تابع ہوگی، تو یہ ایک اسلامی ریاست بن گئی اور اس کی وفا داری ہم پر فرض ہوگئی۔اگر اس کی ساخت ابھی تک۹۴۵اء کے نقشے پر ہے تو یہ چیز اس کو اسلامی ریاست ہونے سے خارج نہیں کردیتی۔ کیوں کہ ہم اس کی ساخت بدلنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور جب تک یہ فیصلہ عملی جامہ نہ پہنے، سابق ساخت کا برقرا ررہنا ایک عملی مجبوری ہے۔ مسجد کے متولی کی طرح اس ریاست کا انتظام کرنے والی حکومت اگر غلط طریقے سے انتظام کررہی ہے تو اس کی وجہ سے ریاست کو غیر اسلامی قرار دینے کے بجائے ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ یہ حکومت ایک اسلامی ریاست کے انتظام کے لیے موزوں نہیں ہے،لہٰذا اس کو درست کرنا چاہیے یا بدل دینا چاہیے۔ (ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ۳۶۹اھ، اکتوبر۹۵۰اء)