رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلام کے ماخذ قانون اور تعبیر واجتہاد:
سوال: ڈاکٹر محمصانی، بیروت کے پروفیسر برائے قانون،جو حکومت پاکستان کی دعوت پر اس ملک میں تشریف لائے،انھوں نے اسلامی قانون پر کراچی میں ایک تقریر کی۔عرب ممالک میں قانونی ارتقا کے تین ادوار،خلافت دور عثمانی اور جدید زمانے کا تذکرہ کرکے انھوں نے اس پر بحث کی کہ زمانے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق اسلامی قانون میں تبدیلی ممکن ہے یا نہیں۔ان کی بحث کا ماحصل یہ تھا کہ اسلامی قانون کے دو حصے ہیں:ایک خالص مذہبی،دوسرا معاشرتی۔ جہاں تک مذہبی قانون کا تعلق ہے،اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، کیوں کہ وہ کبھی نہ بدلنے والے حقائق پر مشتمل ہے،مثلاً توحید،عبادات وغیرہ۔ معاشرتی قانون دو مآخذ پر مبنی ہے:ایک اجتہاد، اور دوسرے قرآن وحدیث۔اجتہاد ہر زمانے کی ضروریات کے مطابق بدلتا رہتا ہے اور بدلنا چاہیے۔ احادیث میں سب سے پہلے سوال صحیح وغیر صحیح کا ہے،پھر صحیح احادیث بھی دو قسم کی ہیں:لازمی(obligatory) اور اختیاری یا مشاورتی(permissive)۔ پس آخر کار بحث ان احکام کی رہ جاتی ہے جو یا تو قرآن پر یا صحیح لازمی احادیث پر مبنی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا ان دونوں چیزوں کے… الفاظ کو نہیں( کیوں کہ وہ علیٰ حالہٖ موجود ہیں اور تبدیل نہیں کیے جاسکتے)…سوسائٹی کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق نئی تعبیر(interpretation) دی جاسکتی ہے؟ڈاکٹر محمصانی نے کہا کہ اس بارے میں فقہا کے دو گروہ ہیں:(ا)اکثریت کی رائے یہ ہے کہ آیات قرآنی اور احادیث صحیح کو نئے معنی نہیں پہنائے جاسکتے۔(۲) اقلیت کا استدلال یہ ہے کہ قانون ایک معاشرتی عمرانی سائنس ہے، لہٰذا جیسے جیسے معاشرت وعمران میں تبدیلی ہوتی جائے، قانون کو بھی بدلنا چاہیے،ورنہ وہ زمانے سے اپنا رشتہ توڑ بیٹھے گا۔اسلام ترقی،تہذیب اور بہبود عامہ کا دین ہے اور اس کی یہ خصوصیات باقی نہیں رہتیںاگر ہم اس کے بارے میں قدامت کا رویہ اختیار کریں۔ اپنے اس دعوے کے ثبوت میں انھوں نے دو مثالیں بطور نمونہ پیش کیں اور بتایا کہ نہایت کثرت سے انھوں نے ایسی نظیریں اپنی کتاب …(Philosophy of Islamic Jurisprudance) میں دی ہیں۔
پہلی مثال یہ تھی کہ ایک حدیث صحیح میں گیہوں اور جو کو رقیق اشیا کے پیمانے سے ناپنے کا تذکرہ ہے۔ کیوں کہ اس زمانے میں یہی رواج تھا۔ بعد کو جب وزن کے حساب سے یہ چیزیں فروخت ہونے لگیں تو ایک شخص نے امام ابو یوسفؒ سے استفسار کیا۔انھوں نے کہا کہ وہ معاہدہ جو وزن کے پیمانے سے ہوا ہو،جائز ہے۔ اس سے پتا چلا کہ روا ج کے بدل جانے سے احادیث کی تعبیر یا اطلاق میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
دوسری مثال جس کے ذریعے ڈاکٹر صاحب نے استدلال کیا کہ نہ صرف حدیث بلکہ قرآن کے الفاظ کو سوسائٹی کی ضروریات بد ل جانے پر نئی تعبیر دی جاسکتی ہے،یہ تھی کہ قرآن میں صدقات کے مصارف میں مؤلفۃ القلوب کا بھی ایک حصہ رکھا گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب نو مسلموں کو صدقات میں سے کچھ دینے سے انکار کیا تو انھوں نے قرآن کی آیت سندمیں پیش کی کہ یہ تو ہمارا حق ہے جو قرآن نے مقرر کیا ہے،آپ اسے کیسے ختم کرسکتے ہیں؟حضرت عمرؓ نے جواباًکہا کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی،اس وقت اسلام کمزور تھا،اس لیے اس کی ضرورت تھی،اب اسلام خدا کے فضل سے قوی ہے،لہٰذااب ضرورت باقی نہیں رہی،پس میں تم کو یہ حصہ نہیں دوں گا۔
اس قسم کی مثالوں میں ایک معاملہ قطع ید کا بھی ہے۔حضرت عمرؓ نے ایک شخص کو جس نے بیت المال میں چوری کی تھی، اور دوسرے کو جس نے اپنے آقا کا مال چرایا تھا،قطع ید کی سزا نہیں دی، اس دلیل سے کہ ان کا اس مال میں حصہ تھا۔اسی طرح قحط کے زمانے میں آپ نے اس سزا کو موقوف کردیا۔
ڈاکٹر محمصانی نے دوران تقریر میں قانون کے چارمآخذ بتائے:قرآن،حدیث،اجماع اور قیاس۔میرے ذہن میں ان کی تقریر کے بعد مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوئے ہیں:
(۱) متذکرۂ بالا چار مآخذ کے علاوہ اور کون سی چیزیں ماخذ قانون ہیں؟ کیا علّت، دوسرے ممالک کے رواج، عرف، عادت، تعامل، سنن القبل، عموم بلویٰ، صاحب امر کی ہدایات، معاہدات وغیرہ کو مآخذ قانون بنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ فقہا نے ان تمام کو مآخذ قانون کی فہرست میںتو نہیں لکھا لیکن دوران بحث میں ان تمام کاتذکرہ مآخذ قانون کی حیثیت سے کیا ہے، اور خلفائے راشدین کے عمل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ مثلاًحضرت عمرؓ نے زراعت ومالیاتی قانون میں شامی،مصری اور ایرانی قانون کی پیروی کی،رجسٹر اور حسابات رکھنے کے طریقے ان سے اخذ کیے، غیر اسلامی حکومتوں کے تاجروں پر اتنا محصول عائد کیا جتنا کہ ان کی حکومتیں مسلمان تاجروں پر عائد کیا کرتی تھیں… تو کیا اس سے یہ اُصول مستنبط نہیں ہوتا کہ قرآن وحدیث کی مقرر کردہ حدود کے اندر دوسرے ممالک کے قانون سے استفادہ،اور نہ صرف استفادہ بلکہ اس کو بعینہٖ اخذ کیا جاسکتا ہے؟حضرت عمرؓ کا عمل تو کم ازکم یہی ثابت کرتا ہے۔ آج اگر اسلامی حکومت وجود میں آئے تو کیا وہ مغربی ممالک کی سیاسی،معاشرتی،ادبی، اقتصادی اور سائنٹفک ترقیات کو نظر انداز کرکے نئے سرے سے اپنی عمارت کی بنیاد نہ رکھے گی،محض اس غلط تصور اور تعصب کی بنا پر کہ جو کچھ مغرب سے آیا ہے،وہ غلط ہے؟کیایہ تصور بالکل اسی طرح غلط نہیں کہ جو کچھ مغرب سے آیا ہے، وہی صحیح ہے؟اگر یہ ایک انتہا ہے تو وہ دوسری انتہا ہے۔پھر کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ مغرب کی جو باتیں شریعت کے مزاج سے مطابقت رکھتی ہیں،ان کو بعینہٖ یا ان میں ادل بدل کرکے لے لیا جائے۔
(۲) بزرگان سلف اور ائمہ نے جو اجتہادات کیے،اگر ان مسائل میں کوئی تبدیلی واضافہ ممکن نہیں تو ان کو اختیار کرلیا جائے،ورنہ زمانہ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ان کا اجتہاد کچھ مسائل میں اگر سازگار نہ رہا ہو تو آج کے فقہا از سر نو اجتہاد کریں جو دورحاضر کی ضروریات کے مطابق ہو۔
(۳) کیاقرآن وحدیث کے الفاظ کو تبدیل کیے بغیر سوسائٹی اور معاشرت کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ان دو ماخذ کے الفاظ کی تعبیر میں تبدیلی، اضافہ یا کمی کی جاسکتی ہے؟مثلاً جیسا کہ مولفۃ القلوب کی مثال سے ثابت ہوتا ہے۔ اس قسم کے مسائل آج بھی پیدا ہوسکتے ہیں،اگرچہ ان کی تعداد کم ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں ان احکام ومسائل میں جو نصوص قرآنی یا احادیث لازمی پر مبنی ہیں،زمانے کی ضروریات اور ان احکام کی علت بدل جانے پر ایسے نئے احکام مستنبط کیے جاسکتے ہیں جو اسلام کی روح کے مطابق ہوں۔آخر فقہا ہی کا یہ متفق علیہ مسلک ہے کہ ہر حکم کی ایک علت ہے اور فلاح عامہ بہرحال مقدم ہے۔
مثلاً زکوٰۃ کا حکم قرآن شریف میں مذکور ہے لیکن زکوٰۃ کی کوئی شرح مذکور نہیں۔ احادیث میں جو شرح مذکور ہے وہ زمانے کی ضروریات کے مطابق تھی۔ اب ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا زکوٰۃ کو ملک کے عام ریونیو یا ٹیکس کی حیثیت حاصل ہے(جب کہ حکومت اسلامی ہو؟)اگر ہے تو دوسرا سوال شرح کا ہے کہ آج کے مالیاتی تقاضے قدیم شرح سے پورے نہیں ہوسکتے۔
ان سوالات سے ہٹ کر ایک دریافت طلب امر یہ ہے کہ قرآن آیا ایک کوڈ ہے یا نہیں؟ بظاہر قانونی اعتبار سے قرآن ایک ترمیمی ضابطہ (amending code)کی حیثیت رکھتا ہے جس نے بہت سے ان رواجوں اور دستوروں کو قائم رکھا جو عرب میں جاری تھے،سب میں انقلاب پیدا نہیں کیا۔لہٰذا یہ کہنا کہ قرآن ایک مکمل کوڈ ہے،کس حد تک درست یا غلط ہے؟
جواب: آپ نے جن مسائل کے متعلق اظہار رائے کی فرمایش کی ہے، میں ان پر ’’حقوق الزوجین‘‘،’’سود حصہ اوّل‘‘، ’’تفہیمات‘‘اور’’اسلامی قانون‘‘ میں ایک حد تک مفصل بحث کرچکا ہوں۔آپ ان کتابوں کو ملاحظہ فرمائیں کہ کون سے پہلو تشنہ رہ گئے ہیں جن پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔باقی رہے آپ کے سوالات، تو ان کے متعلق مختصر طور پر اپنے خیالات عرض کیے دیتا ہوں:
(۱) علت، عرف،عادت،تعامل،سنن القبل، عموم بلویٰ،صاحب امر کی ہدایات، معاہدات اور ممالک غیر کے رواجات بجائے خود ماخذ قانون نہیں بن سکتے،بلکہ یہ سب اجماع اور قیاس کے ضمن ہی میں داخل ہوں گے۔ اور خود اجماع و قیاس بھی اصل ماخذ قانون نہیں ہیں بلکہ قرآن وسنت کے تابع ہیں۔ اجماع ہو یا قیاس،دونوں صرف اسی صورت میں صحیح ہوسکتے ہیں جب کہ استدلال کی بنا قرآن وسنت کے امرونہی یا اباحت پر رکھی گئی ہو۔ امرو نہی کے معاملے میں قیاس واجتہاد کو لامحالہ نصوص کا پابند ہونا پڑے گا،اور جس قیاس واجتہاد پر اجماع ہوجائے،یا جمہور متفق ہوجائیں،وہی ملک کا قانون بن جائے گا۔رہے مباحات، تو ان کے دائرے میں ہم بیرونی ممالک کے طریقوں سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں،اپنے ملک کے عرف ورواج کو بھی برقرار رکھ سکتے ہیں،عموم بلویٰ کا لحاظ بھی کرسکتے ہیں اور دوسرے مآخذ کی طرف بھی رجوع کرسکتے ہیں،بشرطیکہ جو قوانین بھی ہم بنائیں،وہ بحیثیت مجموعی اسلامی زندگی سے مطابقت رکھتے ہوں۔
(۲) بزرگان سلف کے اجتہادات نہ تو اٹل قانون قرار دیے جاسکتے ہیں اور نہ سب کے سب در یا برد کردینے کے لائق ہیں۔صحیح اور معتدل مسلک یہی ہے کہ ان میں رد و بدل کیا جاسکتا ہے، مگرصرف بقدر ضرورت اور اس شرط کے ساتھ کہ جو رد وبدل بھی کیا جائے تو دلائل شرعیہ کی بنا پر کیا جائے۔نیزنئی ضروریات کے لیے نیا اجتہاد بھی کیا جاسکتا ہے مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ اس اجتہاد کا ماخذ کتاب اﷲ اور سنت رسول ؐاﷲ ہو اور یہ اجتہاد وہ لوگ کریں جو علم وبصیرت کے ساتھ جذبہ اتباع واطاعت بھی رکھتے ہوں۔رہے وہ لوگ جو زمانہ جدید کے رجحانات سے مغلوب ہوکر دین میں تحریف کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے حق اجتہاد کو تسلیم کرنے سے ہمیں قطعی انکار ہے۔
(۳) اُصولی طور پر تو یہ بات صحیح ہے کہ احکام شرعیہ کے اجرا ونفاذ میں حالات کا لحاظ کرنا ضروری ہے،اور یہ بھی صحیح ہے کہ نصوص کے الفاظ کی تعبیر میں اختلاف کی کافی گنجایش ہے،لیکن بحث اس وقت پید اہوتی ہے جب اجمال کو چھوڑ کر ہم تفصیلات کی طرف آتے ہیں۔یہاں متعدد تفصیلات ہمارے سامنے ایسی آتی ہیں جن میں تغیر پسند اصحاب کی تجاویز ہم کو حد جواز سے متجاوز نظر آتی ہیں۔ مثلاًیہی زکوٰۃ کا معاملہ ہے جسے آپ نے مثال میں پیش کیا ہے۔ہمارے نزدیک زکوٰۃ کو ملک کے عام ریونیو یا ٹیکس کی حیثیت حاصل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مالی عبادت ہے،اور اس کے لیے شارع نے جو نصاب، شرح اور مصارف مقرر کیے ہیں،ان میں رد وبدل نہیں کیا جاسکتا۔ اور جن چیزوں پر زکوٰۃعائد کی گئی ہے،ان میں بھی کمی بیشی ممکن نہیں ہے،الا یہ کہ کسی چیز کو شارع کی مقرر کردہ اشیا پر قیاس کرلیاجائے۔ رہیں حکومت کی ضروریات، تو ہم اس بات کے قائل ہیںکہ ایک اسلامی حکومت جمہور کی خدمت کے جن جن کاموں کو اپنے ہاتھ میں لے،ان کی انجام دہی کے لیے و ہ جمہور پر ٹیکس لگا کر اپنے مصارف پورے کرسکتی ہے،بشرطیکہ ٹیکس انصاف کے ساتھ لگائے جائیں اور ایمان داری کے ساتھ ان کو خرچ کیا جائے۔
(۴) آپ کا آخری سوال کہ قرآن ایک ’’کوڈ‘‘ ہے یا نہیں،اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن ’’کوڈ‘‘نہیں بلکہ ’’کتاب ِہدایت‘‘ ہے جس میں سوسائٹی کی اصلاح وتنظیم کے لیے قانونی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔محض اس لیے کہ اس میں قانونی ہدایات بھی ہیں،اس کو ’’کوڈ‘‘کہہ دینا درست نہیں ہے۔اور’’مکمل کوڈ‘‘ کے لفظ سے اس کو تعبیر کرنا اور بھی زیادہ غلط ہے۔ جو بات صحیح طور پر کہی جاسکتی ہے،وہ صرف یہ ہے کہ قرآن ایک مکمل کتاب ہدایت ہے۔
(ترجمان القرآن۔صفر ۳۷۰ا ھ۔ دسمبر۹۵۰اء)
……٭٭٭……