رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جماعتِ اسلامی اور علمائے کرام:
سوال: جماعتِ اسلامی اور علمائے حق کا نزاع اندریں صورت قابل افسوس ہے۔اس سے اصل کام کی رفتار پر بہت برا اثر پڑے گا اور یہ معمولی بات نہ سمجھی جائے۔ مذہبی جماعتوں میں سے جماعتِ اسلامی کو اچھی نگاہ سے دیکھنے والی اور جائز حد تک اتفاق ظاہر کرنے والی ایک اہل حدیث کی جماعت ہے( جو قلیل ہے )اور دوسری جماعت علمائے حق کی ہے جو اہل دیو بند سے متعلق ہے (یعنی بریلویوں کے مقابلے میں)اور یہ کثیر تعداد میں ہے۔اگر اس گروہِ عظیم کے اکابر واصاغر جماعتِ اسلامی سے اس رنگ میں متنفر ہوتے ہیں تو بنظرِ غائر دیکھ لیا جائے کہ عوام میں کتنی بے لطفی پیدا ہوجائے گی اور اصل مقصد سے ہٹ کر جماعتِ اسلامی کے افراد کس فرقہ بندی کی مصیبت میں مبتلا ہوجائیں گے۔
تاحال ابھی اختلافات کی ابتدا ہے۔بریلویوں کی طرف سے’’خطرے کی گھنٹی‘‘ شائع ہوئی ہے۔معلّمین اہل دیو بند کی طرف سے دو چار اشتہار شائع کیے گئے ہیں۔ان کا تدارک ہوسکتا ہے، غلط فہمی کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر تھوڑی دیر جماعت کے اتمام مقاصد کی سیاست کو سامنے نہ بھی رکھا جائے تب بھی سوء ظنی عامۃ المسلمین کی دور کرنی تو ان حالات میں ازروئے اسلام ضروری ہے۔
جماعتِ اسلامی کی طرف سے میری دانست کے موافق شاید’’کوثر‘‘ میں ان شکایات کا جائزہ کچھ سرسری طور پر لیا گیا ہے۔باقی مستقل طور پر ان کے جوابات کی طرف توجہ نہیں کی گئی ہے۔اس میں تاخیر وتاجیل بتقاضائے وقت میرے خیال میں ہرگز درست نہیں۔
موٹے موٹے اعتراضات یا شکایات قریباً سامنے آچکے ہیں جو عبارتوں کی قطع وبرید کرکے تیار کیے گئے ہیں،یا باستنباط تجویز ہوئے ہیں۔بہرکیف ان کا نمبروار تسلی بخش جواب جماعت کی طرف سے آجا نا چاہیے اگر وہ معاملہ جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔
اور اگر آپ کی ذات سے متعلق ہے تو اس کو آپ ذاتی طور پر بطریق احسن واضح کریں تاکہ ایک سلیم الطبع آدمی کو پھر سوال وجواب کی زحمت گوارا نہ کرنی پڑے۔
ان ساری تفصیلات تسلی بخش کے بعد پھر بھی ضدی طبائع اگر جوں کے توں سوال جڑتے رہیں تو اس وقت آ پ بے شک جواب سے سروکار نہ رکھیں اور اپنے کام میں مصروف رہیں۔ اور جماعت کے تمام افراد کو بھی یہی تلقین ہونی چاہیے کہ اپنے مسلک کی وضاحت کے سوا اعتراض وجواب سے خاموشی اختیار کی جائے اور معاملہ اﷲ جل جلالہ کے سپرد کردیا جائے۔
قریباً سوالات حسب ذیل ہی پیش آرہے تھے۔ان کے جوابات آں جناب خود ہی سپردِ قلم فرما ویں:
اوّل: جماعتِ اسلامی میں جو مسلما ن داخل نہیں،ان کے اسلام و ایمان کے متعلق کیا رائے ہے؟اسلام میں داخل اور مسلمان ہیں یا نہیں؟
ثانی: کبائر کے مرتکب مسلمانوں کا کیاحکم ہے؟
ثالث: سلف صالحین(صحابہؓ، تابعین، اولیاء اللہ، صوفیہ، علمائے اہل السنۃ) کے ساتھ جمہور اہل السنۃ والجماعۃ کے جو کچھ معتقدات ہیں،ان سب کو آپ تسلیم کرتے ہیں یا کہیں کچھ جمہور کے ساتھ اختلاف ہے؟اگر اختلاف ہے تو ان خلافیات کو بیان فرمایا جائے۔
رابع: اپنے مجد د اور مہدی ہونے کے متعلق کیا رائے ہے؟آئندہ چل کر اگر آپ مجدد یا مہدی ہونے کا دعویٰ کریں وہ صحیح ہوگا یا غلط؟
خامس: کیا آپ جمہور علمائے سلف کی تحقیقات واجتہادات پر اپنی تحقیقات کو ترجیح دیتے ہیں یا اس کے برعکس اپنے استنباطات کو ان کے اجتہادات کے مقابلے میں مرجوح قرار دیتے ہیں؟‘‘
جواب: آپ کا خیال درست ہے کہ موجودہ حالات میں جماعتِ اسلامی اور علمائے کرام کی آویزش اسلامی مقاصد کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔اس وجہ سے مجھے بھی اس کا بڑا رنج ہے۔ مگر میں ابھی تک نہیں سمجھ سکا ہوں کہ اس میں میری یا جماعت کے کارکنوں یا پوری جماعت کی کیا ذمہ داری ہے۔ ہماری مطبوعات دیکھ لیجیے۔ ہماری تقریروں سے متعلق عام سامعین سے پوچھ لیجیے۔ہماری سرگرمیوں کا جائزہ لے کر تلاش کیجیے۔ کیا کہیںکوئی ایسی چیز ملتی ہے جو علما کے کسی گروہ کے لیے بھی بجا طور پر موجب اشتعال کہی جاسکتی ہو؟ کیا ہم نے بھی کبھی کسی گروہ کو طعن وملامت کا ہدف بنایا؟کسی کے خلاف’’خطرے کی گھنٹی‘‘ بجائی؟ کسی پر فتوے جڑے؟کسی کے خلاف اشتہار بازی کی؟اگر کبھی ہم نے کسی سے اختلاف کا اظہار کیا بھی ہے تو علمی حیثیت سے کیا ہے، دلائل کے ساتھ کیا ہے،دین کی خاطر کیا ہے، احترام اور ادب کوملحوظ رکھ کر کیا ہے، اور بات کو اسی حد تک محدود رکھاہے جس حد تک کسی مسئلے میں ہمیں کسی سے اختلاف تھا۔کوئی شخص ہماری کسی ایسی تحریر یا تقریر کی نشان دہی نہیں کرسکتا جو اس سے مختلف نوعیت کی ہو۔ اہل حدیث ہوں یا دیو بندی یا بریلوی،ہم نے ان میں سے کسی گروہ پر یا اس کے عقائد اورمسلک پر، یا اس کے بزرگوں پر کبھی کوئی حملہ نہیں کیا، اورنہ فی الواقع ہمارے د ل میں کبھی کسی حملے کا خیال ہی آیا۔پھر دین کی جو تعبیر وتفسیر ہم آج تک پیش کرتے رہے ہیں،اور جس چیز کی ہم نے دنیا کو دعوت دی ہے،اس میں بھی یہ حضرات درحقیقت کوئی خامی نہیں دکھاسکے اور نہ کسی ایسی چیز کی نشان دہی کرسکے جو حقیقت میں ضلالت ہو۔اب آپ خود دیکھ لیجیے کہ یہ آویزش یک طرفہ ہے یا دوطرفہ، اور اس کی کوئی ذمہ داری ہم پر بھی عائد ہوتی ہے؟
افسوس کہ ان حضرات کو حالات کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔انھیں کچھ احساس نہیں کہ اس وقت اہل دین کی باہمی مخالفت دین کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے اور اس سے عہد حاضر کی ضلالتوں کو کتنا بڑا فائد ہ پہنچتا ہے۔انھوں نے اپنے گروہی تعصبات سے خالی ہوکر ایک لمحے کے لیے بھی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ جماعتِ اسلامی اس وقت دین کی کیا خدمت کررہی ہے اور اس مرحلے پر اس کے گر جانے سے دینی محاذمیں کتنا بڑا شگاف پڑ جائے گا،جسے پُر کرنے والا کوئی دوسرا منظم اور مستعد گروہ موجود نہیں ہے۔ انھیں یا تو اس بات کی خبر نہیں ہے،یا اس کی پروا نہیں ہے کہ اگر جماعتِ اسلامی خدا نخواستہ ناکام ہوگئی تو پاکستان اور ہندوستان دونوں ملکوں میں مسلمانوں کی ’’نئی روشنی‘‘ سے متاثر نسلوں کو الحاد واباحیت کی تحریکوں سے بچانے والی کوئی منظم طاقت موجود نہ رہے گی اور علمائے کرام اپنے بل بوتے پر یہ خدمت انجام نہ دے سکیں گے۔انھیں اس امر کا بھی یا تو شعور نہیں ہے یا ہے تو اس کی کوئی قدر ان کی نگاہ میں نہیں ہے،کہ پاکستان کو ایک اسلامی مملکت میں تبدیل کرنے اور یہاں اقتدار کی مسند پر بے دینی کی جگہ دین کو لانے کے لیے جماعتِ اسلامی کی کوششیں کیا اہمیت رکھتی ہیں اور ان کے ناکام ہونے کی صورت میں یہاں اشتراکیت یا ’’کمالیت‘‘کو مسلط ہوجانے سے روک دینا تنہا علمائے کرام کے بس کا کام نہیں ہے۔ ان حضرات نے اس حقیقت کی طرف سے بھی آنکھیں بند کرلی ہیں کہ ایک زمانۂ دراز کے بعد اس برعظیم میں بڑی سردردی وجاں فشانی کے بعد ایک ایسی تحریک اُٹھی ہے جو دین کے بعض اجزا کو نہیں بلکہ پورے دین کو پورے نظام زندگی پر غالب کرنا چاہتی ہے، اور ایک ایسی جماعت منظم ہوئی ہے جس نے جدید وقدیم دونوں طرز کے تعلیم یافتہ لوگوں کواس مقصد عظیم کے لیے متحد، منظم اور متحرک کیا ہے۔ افسوس اور صد افسوس کہ ایسی ایک تحریک اور ایسی ایک جماعت کی قدر وقیمت کا صحیح اندازہ کرنے سے انھیں ان کے گروہی تعصبات روک رہے ہیں۔ انھوں نے کبھی ٹھنڈے دل سے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے کہ کفر وفسق وضلالت کے اس طوفان میں اس تحریک کاساتھ دینے کے بجائے اس کو مٹانے کی کوشش کرنا دنیا اور آخرت میں ایک سخت وبال اپنے سر لینا ہے۔
یہ حضرات بار بار اپنی تحریروں اور تقریروں اور اپنے فتووں میں اس بات پر زور دے رہے ہیں، اور عملاً بھی اس امر کی کوشش کررہے ہیں کہ لوگوں کو جماعتِ اسلامی کا لٹریچر پڑھنے سے روکا جائے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے اس لٹریچر کو پڑھا بھی ہے یا نہیں۔ بہرحال ان کی یہ کوشش دانستہ ہو یا نادانستہ، فی الواقع ایک سخت دشمنی ہے جو یہ حضرات اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں اور خود اپنے زیر اثر مذہبی گروہوں کے ساتھ کررہے ہیں۔اگر ان کی کوششوں سے جدید تعلیم یافتہ نسل جماعتِ اسلامی کا لٹریچر پڑھنے سے رک جائے تو میںپوچھتا ہوں کہ آپ نے وہ کون سا لٹریچر پیدا یا فراہم کیا ہے جو ان لوگوں کو خود ان کی زبان اور اصطلاحوں میں دین سمجھا سکتا ہو اور انھیں دور جدید کی ضلالتوں سے بچا سکتا ہو؟اور اگر ان کی کوششوں سے مذہبی طبقے اور خصوصاً عربی مدارس کے طلبہ اور فارغ التحصیل حضرات اس لٹریچر کے مطالعہ سے رک جائیں تو مجھے بتایا جائے کہ یہاں کون سا اور لٹریچر ایسا موجود ہے جو ان لوگوں کو ٹھیٹ اسلامی نقطۂ نظر سے دَورِ حاضر کے مسائل کو سمجھاتا ہو اور انھیں اس قابل بناتا ہو کہ وہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں سے آنکھ ملا کر بات کرسکیں؟اس پہلو سے اگر آپ معاملے پر نگاہ ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو کہ ہمارے لٹریچر کی جو مخالفت ان حضرات کی طرف سے کی جارہی ہے یہ کیسی سخت ناعاقبت اندیشی ہے اور اس کے نتائج کس قدر بُرے ہیں۔
پھر ذرا اس کا بھی انداز ہ کیجیے کہ ان حضرات کی مخالفت کے باوجود جو لوگ اس لٹریچر کوپڑھیں گے،ان کی نگاہ میں نہ صرف ان حضرات کی،بلکہ پورے گروہ علما کی وقعت کو کیسا سخت صدمہ پہنچے گا اور وہ علم بردارانِ دین کی دیانت کو کس قدر مشتبہ سمجھنے لگیں گے۔ ہماری آج تک یہ کوشش رہی ہے اور اب بھی ہم اس کے لیے کوشاں ہیں کہ مسلمانوں کو علم دین کی ضرورت اور اہمیت کا احساس دلائیں، اور یہ بات ان کے ذہن نشین کریں کہ ان کی زندگی کا نظام کبھی درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی باگیں دین کی واقفیت رکھنے والے لوگوں کے ہاتھ میں نہ ہوں۔ لیکن آپ مجھے بتایئے کہ جب عوام اور جدید تعلیم یافتہ لوگ ایک طرف ہمارے لٹریچر کو دیکھیں گے اور دوسری طرف یہ دیکھیں گے کہ بڑے بڑے نام ور علما نے اس چیز کی کس کس طرح مخالفت کی ہے، تو ہماری کوششیں ان کے اندر علما کے لیے حسن ظن پیدا کرنے میں کہاں تک کام یاب ہوسکیں گی۔
آپ چوں کہ خود علما کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں،اس لیے میں یہ باتیں آپ سے اس لیے عرض کررہا ہوں کہ آپ انھیں ان حضرات تک پہنچائیں جو خواہ مخواہ ہماری مخالفت کررہے ہیں۔ اور جس حد تک بھی آپ کے بس میں ہو،انھیں سمجھانے کی کوشش کریں۔
اب میں ان سوالات کی طرف توجہ کرتا ہوںجو آپ نے اپنے عنایت نامے میں تحریر فرمائے ہیں:
(۱) پہلے سوال کے متعلق اوّلین بات جو دریافت طلب ہے،وہ یہ ہے کہ آخر یہ سوال پیدا کیسے ہوا؟کیا ہم نے کبھی یہ کہا تھا یا لکھا تھا کہ جو شخص جماعتِ اسلامی میںداخل نہیں ہے،وہ مسلمان نہیں ہے؟اگر میری یا جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کی طرف سے کبھی ایسی کوئی بات کہی یا لکھی گئی ہے تو اس کا حوالہ کیوں نہیں پیش کیا جاتا؟حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کے پیدا ہونے میں ہماری کسی غلطی کا کوئی دخل نہیں ہے بلکہ یہ صرف ہمارے مخالفین کے’’حسن نیت‘‘ کی آفریدہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عام مسلمانوں کو کسی طرح ہمارے خلاف بھڑکایا جائے، اور بھڑکانے کے لیے اس سے زیادہ کار گر نسخہ اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ مسلمانوں سے کہا جائے کہ یہ لوگ تمھیں مسلمان نہیں سمجھتے۔ یہ نسخہ اس سے پہلے بھی اصلاح کی کوشش کرنے والوں کے خلاف بارہا استعمال کیا جاچکا ہے،اور آج یہ ہمارے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔
لیکن میں صرف اس منفی جواب ہی پر اکتفا نہ کروں گا۔ میں آج اس سوال کا کوئی نیا جواب بھی نہ دوں گا تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اب اس الزام سے بچنے کے لیے اس کا انکار کیا جارہا ہے۔میں اس وقت کی تصریحات پیش کرتا ہوں جب کہ جماعتِ اسلامی کی تشکیل کی گئی تھی۔اگر آپ کے پاس ’’ترجمان القرآن‘‘ کے پرانے فائل موجود ہوں تو براہِ کرم ربیع الاول ۶۰ھ (مئی۴۱ء) کا پرچہ نکال کر دیکھیے۔ اس کے اشارات میں یہ عبارت آ پ کو ملے گی:
’’جماعتِ اسلامی کے نام سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس جماعت سے باہر جولوگ ہیں ان کو ہم غیر مسلم سمجھتے ہیں۔ہم نے یہ نام جس وجہ سے اختیارکیا ہے، وہ اوپر بیان کی جاچکی ہے۔ظاہر ہے کہ جس جماعت کے مسلک میں نہ اسلام سے کم کوئی چیز ہو نہ اس سے زائد، جس کا عقیدہ وہی ہو جو اسلام کا ہے، نصب العین وہی ہو جو اسلام نے پیش کیا ہے، نظام جماعت وہی ہو جس کا نقشہ کتاب وسنت میں ملتا ہے،اور کام کا ڈھنگ وہی ہو جو انبیا ؑنے سکھایا ہے، اس کے لیے آخر ’’جماعتِ اسلامی‘‘ کے سوا اور کیا نام ہوسکتا ہے۔مگر ہم ہرگز یہ فرض نہیں کرتے،اور ایسا فرض کرلینے کا ہم کو حق نہیں ہے کہ ایمان بس اسی جماعت کے اندر منحصر ہے اور اس کے باہر جو لوگ ہیں وہ مومن نہیں ہیں۔بلکہ اگر کوئی اس جماعت کی مخالفت کرے تب بھی مجرد اس کی مخالفت کی بنا پر ہم اسے غیر مومن نہیں کہہ سکتے…بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص ہم سے زیادہ صاحب ایمان ہو اور وہ نیک نیتی کے ساتھ کسی غلط فہمی کی بنا پر ہماری مخالفت کرے۔اپنی حد تک ہم انتہائی کوشش کریں گے کہ اپنے مسلک اور طریق کار کو عین اسلام کے مطابق رکھیں تاکہ کسی شخص صالح ومومن کے لیے ہم سے علیحدہ رہنے کی کوئی وجہ نہ ہو اور اس طرح تمام اہل ایمان آخر کار ایک ہی نظام میں منسلک ہوسکیں۔ لیکن اپنی اس آرزو کو ایک حاصل شدہ واقعہ فرض کرکے ہم ہرگز فتنے میں نہ پڑیں گے۔ہم کو بہرحال مسلمانوں میں ایک فرقہ بننے سے بچنا ہے اور اس غلو سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں جو ہمیں خیر کے بجائے شر کا خادم دے۔‘‘
اس کے بعد جب ہندوستان میں پہلی مرتبہ مجھ پر یہ الزام لگایا گیا کہ میں عام مسلمانوں کی تکفیر کررہا ہوں اور بعض حضرات نے ازراہِ عنایت مجھے’’مکفر ملت‘‘کا خطاب بھی عنایت فرمادیا تو میں نے اپنے ایک مضمون میں پھراپنی پوزیشن واضح کی۔ یہ مضمون’’رفع شبہات‘‘ کے عنوان سے ستمبر،اکتوبر،نومبر۴۱ء کے ’’ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہوا تھا۔اس کی یہ عبارت قابل ملاحظہ ہے:
’’میرا اصل مدعا اقامت دین کی جدوجہدکے لیے صالح آدمی چھانٹنا ہے نہ کہ مسلمانوں کے کفر وایمان کی بحث چھیڑنا۔ مسلمانوں کی موجودہ ایمانی و اخلاقی حالت پر جو تنقیدیں میں نے کی ہیں، ان سے بھی میرا مقصد یہ بتانا تھا کہ دعوت الی اﷲ کے مقصد عظیم کا اعتبار کرتے ہوئے مسلمانوں میں اس وقت کیا کیا کوتاہیاں پائی جاتی ہیں اور یہ کہ اس کارخیر کے لیے مسلمانوں کے اس مجموعے میں سے کس قسم کے لوگ مناسب اور مطلوب ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے دستور میں شہادتین کو شرط رکنیت قرار دینے کی غرض بھی صرف یہ ہے کہ جو لوگ اس کام کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں،ان کے متعلق یہ اطمینان کرلیا جائے کہ وہ صالح العقیدہ ہیں او رجاہلیت کی ان آمیزشوں کو لیے ہوئے نہیں آرہے ہیں جو بدقسمتی سے مسلمانوں کے اندر گھس آئی ہیں، نیز یہ کہ دعوت الی اﷲ کی خدمت شروع کرنے سے پہلے وہ ایک مرتبہ پھر اﷲ کے ساتھ اپنے عہد ومیثاق کو استوار کرلیں اور نو مسلمانہ جوش کے ساتھ کام کے لیے آگے بڑھیں۔میرے اس مقصد کو لوگوں نے نہیں سمجھا اور بعض ہوشیار لوگوں نے قصداً بھی اس کے متعلق غلط فہمیاں پھیلائیں۔ اس وجہ سے جن بزرگوں کو میری تحریرات کے تفصیلی مطالعے کاموقع نہیں ملا ہے اور جن تک میری بات دوسروں کی تحریفات کے واسطے سے پہنچی ہے، انھیں یہ غلط فہمی ہوگئی کہ میں’’مسلمانوں کوایمان اور یقین سے خالی‘‘ قرار دے رہا ہوںاور ان کو ’’دین کے دائرے سے باہر دھکیل کر پھر اندر آنے کی دعوت‘‘ دیتا ہوںاور یہ کہ’’جس توپ خانے کا دہانہ کفر کی طرف کھولاگیا تھا،اب اسے اہل ایمان کی طرف‘‘ کھول رہا ہوں۔ اﷲ شاہد ہے کہ میں اِ ن باتوں سے بری ہوں۔‘‘
یہ تصریحات اب سے دس برس پہلے کی گئی تھیں اور اس کے بعد سے آج تک بارہا ان کو دہرایا جاچکا ہے،مگر داد دیجیے ان لوگوں کی ذہانت اور جسارت کی جو ان کے باوجود آج تک برابر اپنا یہ الزام دہرائے چلے جارہے ہیں کہ یہ شخص مسلمانوں کو نا مسلمان قرار دیتا ہے،اور جماعتِ اسلامی اپنے دائرے سے باہر کسی کے ایمان واسلام کی قائل ہی نہیں ہے۔اﷲ کے بندے یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہم جو ہر مسجد میں ہر امام کے پیچھے عام مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھتے ہیں، کیا ان سب کو کافر سمجھ کر ہی ایسا کرتے ہیں؟
(۲) آپ کو دوسرے سوال کا جواب بھی آج نئے سرے سے دینے کے بجائے اپنا ایک پرانا جواب ہی نقل کرتا ہوں جو اب سے کئی برس پہلے دیا گیا تھا۔نومبر ودسمبر۱۹۴۵ء کے’’ترجمان القرآن‘‘ میں ایک صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے پہلے یہ بتایا تھا کہ کفر کی دو قسمیں ہیں،ایک کفر باعتبار حقیقت، جس کی بنا پر آدمی عند اﷲ مومن نہیں رہتا،دوسرا کفر باعتبار ظاہر جس کی بنا پر ایک آدمی کو خارج ازملت قرار دے کر اسلامی سوسائٹی سے کاٹ پھینکنا جائز ہو۔ اس کے بعد پہلی قسم کے متعلق میں نے لکھاتھا:
’’اس میں شک نہیں کہ معصیت ایمان کی ضد ہے،لیکن مجرد معصیت،خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو،لازماًایمان کے مستقل طور پر سلب ہوجانے کی موجب نہیں ہوتی۔کافر کی طرح مومن سے بھی بڑے سے بڑا گناہ سرزد ہوسکتا ہے۔البتہ جو چیز مومن کے گنا ہ اور کافر کے گناہ میں فرق کرتی ہے،وہ یہ ہے کہ مومن جب گناہ کرتا ہے تو عین حالت گناہ میں توایمان اس سے نکلا ہوا ہوتا ہے، لیکن جب وہ شہوات نفس کے اس غلبے اور نادانی کے اس پردے سے،جو عارضی طور پر اس کے قلب پر پڑ گیا تھا،باہر نکل آتا ہے تو اس کو شرمساری لاحق ہوتی ہے۔خدا سے نادم ہوتا ہے،آخرت کی سزا کا خوف کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ پھر اس سے ایسی حرکت کا ارتکاب نہ ہو۔ اس قسم کی معصیت خواہ کتنی ہی بڑی ہو،آدمی کو کافر نہیں بناتی،صرف گناہ گار بناتی ہے اور توبہ اس کو ایمان کی طرف واپس لے آتی ہے۔برعکس اس کے کافر کے گناہ کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ اسی گناہ گارانہ طرز عمل اور طرز زندگی کو اپنے لیے مناسب اورلذیذ اور درست سمجھتا ہے،اس کو خدا کی اور اس کے حکم کی کچھ پروا نہیں ہوتی کہ اس نے اس فعل کو گناہ اور حرام قرار دیا ہے،وہ پورے اصرار واستکبار کے ساتھ اسی فعل کا ارتکاب کیے جاتا ہے اور ندامت اس کے پاس نہیں پھٹکتی۔یہ دوسری قسم کی گناہ گاری سلب ایمان کی موجب ہے اور یہ بجائے خود کبیرہ ہے،خواہ اس کے جذبے کے ساتھ کوئی ایسا کام ہی کیا جائے جس کو عرف عام میں’’صغیرہ‘‘ سمجھا جاتا ہو۔ ان دونوں قسم کے گناہوں کو ایک ہی حیثیت دینا اور ان پر یکساں کفر کا حکم لگا دینا بالکل غلط ہے اور اس قسم کی افراط وتفریط خود کبیرہ کی تعریف میں آتی ہے۔پہلی صدی سے آج تک بجز خارجیوں کے،یا معتزلہ کے گروہ کے، اور کسی نے یہ رائے قائم نہیں کی۔‘‘
پھر دوسری قسم کے کفر کے متعلق میں نے لکھا تھا:
’’اس چیز کے متعلق یہ جان لینا چاہیے کہ شریعت نے ایسی تکفیر کو ہر کس وناکس کی رائے کا کھلونا نہیں بنایا ہے۔جس طرح کسی انسان کے جسمانی قتل کے لیے یہ شرط ہے کہ نظامِ اسلامی موجود ہو اور باختیار قاضی تمام شہادتوں اور پوری صورت حال پر غور کرکے پوری تحقیق کے بعد یہ رائے قائم کرے کہ یہ شخص واجب القتل ہے،تب اسے قتل کیا جاسکتا ہے، اسی طرح ایک شخص کے روحانی قتل، یعنی تکفیر کے لیے بھی یہ شرط ہے کہ اس کے اوپر جو الزام کفر لگایا گیا ہے،اس کی ایک قاضی شرع پوری تحقیق کرے،اس کا اپنا بیان لے،اس کے اقوال وافعال کو جانچ کر دیکھے،شہادتوں پر غور کرے اور اس کے بعد فیصلہ کرے کہ یہ شخص جماعت مسلمین سے کاٹ کر پھینک دینے کے لائق ہے۔‘‘
غور کیجیے کہ جو لوگ اس قدرصاف اور صریح بیان کے باوجود مجھ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ میں خوارج کی طرح گناہِ کبیرہ کے مرتکب کو کافر قرار دیتا ہوں،وہ کتنا بڑا جھو ٹ بولتے ہیںاور اسے پھیلاکر کتنا بڑا وبال اپنے سر لیتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ مجھ پر یہ الزام آج وہ لوگ لگا رہے ہیں جن کا اپنا دامن بہت سے اگلے اور پچھلے مسلمانوں کی تکفیر سے آلودہ ہے اور جن کے اپنے قلم سے لکھے ہوئے بہت سے فتاوائے تکفیر موجود ہیں۔ کیا یہ لوگ میری بھی کوئی ایسی تحریر پیش کرسکتے ہیں جس میںمیں نے کبھی کسی مسلمان کی تکفیر کی ہو ؟ [ لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جس نے کفر کیا، تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے]۔
(۳) آپ کے تیسرے سوال کے متعلق میں پھریہ پوچھتا ہوں کہ آخریہ سوال پیدا کہاں سے ہوا ہے؟ کیا واقعی میری کوئی ایسی تحریر پیش کی جاسکتی ہے جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہو کہ ان بزرگوں کے متعلق میرے خیالات جمہور اہل سنت سے مختلف ہیں؟ اس الزام کے ثبوت میں میری بعض تحریروں کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مگر ان کوسیاق وسباق سے الگ کرکے اور ان کے اندر طرح طرح کی تحریفات کرکے ان کو ایسے معنی پہنائے گئے ہیں جو میرے خیالات کے بالکل برعکس ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب میں ایک طرف ان دانستہ تحریفات کو دیکھتا ہوںجو مجھے زبردستی مجرم بنانے کے لیے کی گئی ہیں،اور دوسری طرف ان محرفین کے جبوں اور عماموں،اور ان کے تقویٰ کی شہرتوں کو دیکھتا ہوں تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ان کے متعلق کیا رائے قائم کی جائے۔ افسوس، ان لوگوں کو خود اپنی عزت کا بھی پاس نہیں۔ یہ ذرا نہیں سوچتے کہ پاکستان وہندوستان میں ہزاروں انسان موجود ہیں جنھوں نے میری کتابیں پڑھی ہیں۔ وہ جب ان کے فتووں میں میرے خلاف اس قسم کے بے بنیاد الزامات دیکھیں گے تو ان کی نگاہ میں ان کی کیا وقعت رہ جائے گی۔
میں نہ صرف آپ کو بلکہ ان تمام لوگوں کو جن تک یہ الزام پہنچے،یہ مشورہ دیتا ہوں کہ صرف مخالفین کے پیش کردہ اقتباسات پر اعتماد نہ کرلیں، بلکہ میری جن عبارات کے حوالے دیے جاتے ہیں انھیں میری اصل کتابوں میں سے نکال کر دیکھیں اور ان کے سیاق وسباق کوبھی ساتھ ہی دیکھ لیں۔اس کے بعد انھیں خود معلوم ہوجائے گا کہ اس الزام کی حقیقت کیا ہے۔
(۴) آپ نے چوتھے نمبر پر جو سوال کیا ہے اس کا جواب ’’ترجمان القرآن‘‘میں اس سے پہلے بارہا دیا جاچکا ہے۔اگر آپ کی نگا ہ سے وہ جوابات گزر چکے ہوتے تو اس سوال کی حاجت نہ پیش آتی۔بہرحال جب آپ نے یہ سوال کیا ہے تو میں اس کا آج کوئی تازہ جواب دینے کے بجائے اپنے وہ جوابات نقل کیے دیتاہوں جو اب سے کئی برس قبل میں نے اس وقت دیے تھے جب اس الزام تراشی کی ابتداہوئی تھی۔۴۱ء میں سب سے پہلے مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی نے ازراہ عنایت دبی زبان سے میرے متعلق اس شبہے کا اظہار کیا تھا۔ اس پر میں نے اپنے مضمون’’رفع شبہات‘‘میں عرض کیا تھا:
’’آپ کو میرے جرأت آمیز الفاظ سے شاید یہ گمان گزرا ہوگاکہ میں اپنے آپ کو بڑی چیزسمجھتا ہوں اور کسی بڑے مرتبے کی توقع رکھتا ہوں۔ حالاں کہ میں جو کچھ کررہا ہوں،صرف اپنے گناہوں کی تلافی کے لیے کررہا ہوں اور اپنی حقیقت خوب جانتا ہوں۔بڑے مراتب تو درکنار، اگر صرف سزا سے بچ جائوں تو یہ بھی میری اُمیدوں سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ (ترجمان القرآن،ستمبر،اکتوبر ونومبرا۹۴اء)
اس کے بعد اسی زمانے میں جناب مولانا سیّد سلیما ن ندوی [پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں] نے میری ایک عبارت سے یہ معنی نکالے کہ میں مجدد ہونے کا مدعی ہوں۔ حالاں کہ میں نے اس عبارت میں اپنی حقیر کوششوں کو تجدید دین کی مساعی میں سے ایک سعی قرا ردیا تھا۔ان کے اس صریح الزام کے جواب میںمیں نے عرض کیا تھا:
’’(کسی کام کو تجدیدی کام کہنے سے) یہ لازم نہیں آتا کہ جو تجدیدی کام کرے وہ مجدد کے لقب سے بھی ملقب ہو۔صدی کا مجدد ہونا تو اس سے بلند تر بات ہے۔اینٹیں چن کر دیوار بنانا بہرحال ایک تعمیری کام ہے،مگر کیا یہ لازم ہے کہ جو چند اینٹیں چن دے وہ انجینئر بھی کہلائے، اور پھر انجینئر بھی معمولی نہیں،بلکہ اپنی صدی کا انجینئر؟اسی طرح کسی کا اپنے کام کو تجدیدی کام یا تجدیدی کوشش کہنا، جب کہ فی الواقع وہ تجدید دین حق ہی کی غرض سے یہ کام کررہا ہو،محض ایک امر واقع کا اظہار ہے اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ مجدد ہونے کا دعویٰ کررہا ہے اور اس صدی کا مجدد بننا چاہتا ہے۔ کم ظرف لوگ بے شک تھوڑاسا کام کرکے اونچے اونچے دعوے کرنے لگتے ہیں،بلکہ کام کا ارادہ ہی دعوے کی شکل میں کرتے ہیں۔لیکن کسی ذی فہم آدمی سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کام کرنے کے بجائے دعوے کرے گا۔ تجدید دین کا کام ہندوستان میں اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بہت سے لوگ کررہے ہیں۔خود مولانا( حضرت معترض) کو بھی ہم انھی میں شمار کرتے ہیں۔میں نے اپنی حد استطاعت تک اس خدمت میں حصہ لینے کی سعی کی ہے اور اب ہم چند خدام دین ایک جماعت کی صورت میں اسی کے لیے کوشش کرناچاہتے ہیں۔اﷲ جس کے کام میں بھی اتنی برکت دے کہ واقعی اس کے ہاتھوں دین کی تجدید ہوجائے،وہی درحقیقت مجدد ہو گا۔ اصل چیز نہ آدمی کا اپنا دعویٰ ہے نہ دنیا کا کسی کو مجدد کے لقب سے یاد کرنا،بلکہ اصل چیز آدمی کا ایسی خدمت کرکے اپنے مالک کے حضور پہنچنا ہے کہ وہاں اسے مجدد کا مرتبہ حاصل ہو۔ میں مولانا کے حق میں اسی چیز کی دعا کرتا ہوں۔ اور بہتر ہے کہ وہ بھی’’عنقارا بلند است آشیانہ‘‘کہنے کے بجائے دوسروں کے حق میں دعا فرمائیں کہ اﷲ ان سے اپنے دین کی ایسی کوئی خدمت لے لے۔مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ بعض اسلامی الفاظ کو خواہ مخواہ ہوا بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔دنیا میں کوئی رومی عظمت کی تجدید کا داعیہ لے کر اُٹھتا ہے اوررومیت کے پرستار اس کو مرحبا کرتے ہیں۔ کوئی ویدک تہذیب کی تجدید کا عزم لے کر اُٹھتا ہے اور ہندویت کے پرستار اس کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں۔کوئی یونانی آرٹ کی تجدید کے ارادے سے اُٹھتا ہے اور آرٹ کے پرستار اس کی ہمت افزائی کرتے ہیں۔ کیا ان سب تجدیدوں کے درمیان صرف اﷲ کے دین کی تجدید ہی ایسا جرم ہے کہ اس کا نام لیتے ہوئے آدمی شرمائے اور اگر کوئی اس کاخیال ظاہر کردے تو اﷲ کے پرستار اس کے پیچھے تالی پیٹ دیں۔‘‘
(ترجمان القرآن۔ دسمبرا۴ء وجنوری وفروری۴۲ء)
ان تصریحات کے بعد بھی ہمارے بزرگان دین اپنے پروپیگنڈے سے باز نہ آئے۔کیوں کہ میرے خلاف مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے من جملہ اور ہتھکنڈوں کے ایک یہ ہتھکنڈا بھی ضروری تھاکہ مجھ پر کسی دعوے کا الزام چسپاں کیا جائے۔چنانچہ۴۵ء اور ۴۶ء میں مسلسل یہ شبہ پھیلایا جاتا رہا کہ یہ شخص مہدویت کا دعویٰ کرنے والا ہے۔ اس پر میں نے جون ۴۶ء کے ’’ترجمان القرآن‘‘ میں لکھا:
’’جو حضرات اس قسم کے شبہات کا اظہار کرکے بندگان خدا کو جماعتِ اسلامی کی دعوت حق سے روکنے کی کوشش فرما رہے ہیں، میں نے ان کو ایک ایسی خطرناک سزا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس سے وہ کسی طرح رہائی حاصل نہ کرسکیں گے، اور وہ سزا یہ ہے کہ ان شاء اﷲ میں ہر قسم کے دعووں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے اپنے خدا کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور پھر دیکھوں گا کہ یہ حضرات خدا کے سامنے اپنے ان شبہات کی اور ان کوبیان کر کرکے لوگوں کو حق سے روکنے کی کیا صفائی پیش کرتے ہیں۔‘‘
اگر ان لوگوں کے دلوں میں خدا کا کچھ خوف اور آخرت کا کوئی یقین موجود ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ میرے اس جواب کے بعد پھر کبھی ان کی زبان پر یہ الزام آتا۔لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج کس جرأت کے ساتھ اسے ازسر نو پھیلایا جارہا ہے اور ’’ترجمان القرآن‘‘ کی قریبی اشاعتوں میں اس کے متعلق جو کچھ لکھ چکا ہوں،اسے دیکھ لینے کے باوجود ان میں سے کسی کی زبان میں لکنت نہیں آتی۔آخرت کا فیصلہ تو اﷲ کے ہاتھ ہے۔ مگر مجھے بتایئے کہ کیا دنیا میں ایسی ہی حرکتوں سے علما کا وقار قائم ہونے کی توقع ہے؟
لطف یہ ہے کہ میری کتاب’’تجدید واحیائے دین‘‘ جس کی بعض عبارتوں پر ان شبہات کی بنا رکھی گئی ہے اور جس کے اقتباسات طرح طرح کی رنگ آمیزیوں کے ساتھ پیش کرکرکے لوگوں کو بہکایا جارہا ہے، اسی میں میرے یہ الفاظ موجود ہیں:
’’نبی کے سوا کسی کا یہ منصب ہی نہیں ہے کہ دعوے سے کام کا آغاز کرے،اور نہ نبی کے سوا کسی کو یقینی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس خدمت پر مامور ہوا ہے۔ مہدویت دعویٰ کرنے کی چیز نہیں ہے بلکہ کرکے دکھاجانے کی چیز ہے۔اس قسم کے دعوے جولوگ کرتے ہیں اور جو ان پر ایمان لاتے ہیں،میرے نزدیک دونوں ہی اپنے علم کی کمی اور اپنے ذہن کی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔‘‘
آج جولوگ میری اس کتاب کے اقتباسات پیش کررہے ہیں، ان سے پوچھیے کہ ان کو یہ عبارت نظر نہیں آئی یا انھوں نے دانستہ اسے چھپایا ہے؟
(۵) آپ کا آخری سوال بھی آج کوئی نیا نہیں ہے،بلکہ اس سے پہلے متعدد مرتبہ مجھے اس سے سابقہ پیش آچکا ہے اور میں اس کا جواب دے چکا ہوں۔ چنانچہ اس کا بھی آج کوئی نیا جواب دینے کے بجائے ایک پرانا جواب نقل کیے دیتا ہوں:
’’میں تمام بزرگان دین کا احترام کرتا ہوں مگر پرستش ان میں سے کسی کی بھی نہیں کرتا۔ انبیا ؑ کے سوا کسی کو معصوم بھی نہیں سمجھتا۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ بزرگان سلف کے خیالات اور کاموں پر بے لاگ تحقیقی و تنقیدی نظر ڈالتا ہوں،جو کچھ ان میں حق پاتا ہوں،اسے حق کہتا ہوں، اور جس چیز کو کتاب وسنت کے لحاظ سے یا حکمت عملی کے اعتبار سے درست نہیں پاتا،اس کو صاف صاف نادرست کہہ دیتا ہوں۔ میرے نزدیک کسی غیر نبی کی رائے یا تدبیر میں خطا پائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کی عظمت وبزرگی میں کوئی کمی آجائے۔اس لیے میں سلف کی بعض رایوں سے اختلاف کرنے کے باوجود ان کی بزرگی کا بھی قائل رہتا ہوں،او رمیرے دل میں ان کا احترام بھی بدستور رہتا ہے۔ لیکن جو لوگ بزرگی اور معصومیت کو ہم معنی سمجھتے ہیںاور جن کے نزدیک اُصول یہ ہے کہ جو بزرگ ہے وہ خطا نہیں کرتا،اور جو خطا کرتا ہے وہ بزرگ نہیں ہے،وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بزرگ کی کسی رائے یا کسی طریقے کو نادرست قرار دینا لازمی طور پر یہ معنی رکھتا ہے کہ ایسا خیال ظاہر کرنے والا ان کی بزرگی کا احترام نہیں کرتا اور ان کی خدمات پر قلم پھیرنا چاہتا ہے۔پھر وہ اس مقام پر بھی نہیں رکتے، بلکہ آگے بڑھ کر اس پر الزام بھی لگاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ان سے بڑا سمجھتا ہے۔حالاں کہ علمی معاملات میں ایک شخص کا دوسرے کی رائے سے اختلاف کرنا اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ وہ جس سے اختلاف کررہا ہے ہواس کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا بھی سمجھے اور بہتر بھی۔اما م محمدؒ اور امام ابو یوسفؒ نے بکثرت معاملات میں امام ابوحنیفہؒ کی رائے سے اختلاف کیا ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ اختلاف یہی معنی رکھتا ہے کہ وہ مختلف فیہ معاملات میں اپنی رائے کو صحیح اور امام صاحب کی رائے کو غلط سمجھتے تھے۔ لیکن کیا اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ یہ دونوں حضرات امام ابوحنیفہؒکے مقابلے میں اپنے آپ کو افضل سمجھتے تھے؟‘‘
(ترجمان القرآن، جون۹۴۶اء)
مجھے اُمید ہے کہ اس عبارت سے آپ کو میرا مسلک پوری طرح معلوم ہوگیا ہوگا۔یہ ضروری نہیں کہ آپ اس مسلک سے اتفاق کریں، یا خود بھی اسے قبول کرلیں۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ اس میں ضلالت کا کون سا پہلو ہے؟ اور اس کے ضلالت ہونے کے لیے کتاب وسنت میں دلیل کیا ہے؟آپ بڑی خوشی سے میری کسی رائے کو، جو میں نے بزرگان سلف میں سے کسی سے اختلاف کرکے پیش کی ہو، ردّ کردیں اور اُسی رائے کو ترجیح دیںجس سے میں نے اختلاف کیا ہے۔ بلکہ اگر آپ مضبوط دلائل سے میری رائے کو مرجوح اور سلف کی رائے کو راجح ثابت کردیں گے تو میں خود اس سے رجوع کرلوں گا۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ جب میں کتاب وسنت کے دلائل سے ایک رائے پیش کرتا ہوں اور کتاب وسنت ہی کی دلیل سے دوسری رائے قبول کرنے کے لیے تیار ہوں تو آخر محض اپنی رائے پیش کردینے سے میں کس گناہ کامرتکب ہوجاتا ہوں؟اور میری رائے صرف اس لیے کیوں لازماً مرجوح ہے کہ میں خلف ہوں،اور سلف کے ہر بزرگ کی رائے ُصرف اس وجہ سے کیوں راجح ہے کہ وہ سلف ہیں؟ دو چار صدی بعد پیدا ہوناکوئی قصور نہیں ہے جس کی وجہ سے آدمی کی رائے لازماًبے وزن اور اس کی حیثیت لازماً کم تر ہوجاتی ہو، اور دو چار صدی پہلے پیدا ہوجانا کوئی کمال نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے آدمی مقدس اور منزہ عن الخطا قرار پاجائے اور اس کی ہر رائے کو راجح ہونے کا ذاتی استحقاق حاصل ہوجائے۔
بعض نادان لوگ ہر اُس اختلاف پر،جو بزرگان سلف میں سے کسی کی رائے یا کسی کے طریقے سے کیا جائے، حدیث لعن اٰخر ھذہ الامۃ اوّلھا چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خوا ہ وہ اختلاف کتنے ہی ادب کے ساتھ کیا گیا ہو، ان بزرگوں کی خدمات اور ان کے کمالات کا کتنا ہی اعتراف کرنے کے بعد کیا گیا ہو۔ معلوم نہیں یہ لوگ اس حدیث کے معنی سے ناواقف ہیں،یا لفظ ’’لعنت‘‘کا مفہوم نہیں جانتے، یا جان بوجھ کر محض دوسروں کو مطعون کرنے اور عوا م الناس کو بھڑکانے کے لیے فرمودۂ رسولؐ کے غلط استعمال کی جرأت کر بیٹھے ہیں۔بہرحال کوئی صاحب علم اور صاحب عقل آدمی تو کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ علمی تحقیقات میں ایک شخص کا دوسرے شخص سے مدلل اختلاف’’لعنت‘‘کا ہم معنی ہے۔اگر یہ لعنت ہے توپھر آج ہمارے درمیان رائے اور تحقیق کے جتنے بھی اختلافا ت پائے جاتے ہیں وہ سب ختم ہوجانے چاہییں اور ان کا اظہار حرام ہونا چاہیے،کیوں کہ لعنت تو معاصرین کے حق میں بھی جائز نہیں ہے۔
اس سلسلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ دو باتوں کی اور توضیح کردوں۔ اگرچہ آپ نے ان کے بارے میں سوا ل نہیں کیا ہے،مگروہ ہیں ایک طرح سے آپ ہی کے سوال سے متعلق۔
اوّل یہ کہ میں نے فقہی مسائل میں مذہب حنفی کے مفتیٰ بہ اقوال کے خلاف جب کبھی کسی رائے کا اظہار کیا ہے اپنے فتوے کی حیثیت سے نہیں کیا ہے بلکہ ایک تجویز کی حیثیت سے کیا ہے، اور اس غرض سے کیا ہے کہ وقت کے علما اس پر غور کریں اور اگر میرے دلائل سے مطمئن ہوں تو میری تجویز کے مطابق فتوے میں تغیر کردیں۔ میرے نزدیک ایسا کرنا حنفیت کے خلاف نہیں ہے اور مذہب حنفی میں اس کی گنجایش ہونے کے دلائل میں نے اپنی کتاب ’’حقوق الزوجین‘‘( صفحہ ۶۰-۶۱) میں بیان کردیے ہیں۔ اس کے ساتھ میں اُصولاً اس بات کا بھی قائل ہوں کہ ہر صاحب علم کی تجویز پر فتویٰ نہیں ہوسکتا۔ فتویٰ ایک قانونی بیان کا نام ہے، اور نظام شریعت میں قانون صرف وہی ہو سکتا ہے جس پر یا تو اجماع ہو یا جسے جمہورعلما نے تسلیم کیا ہو۔ اس لیے جب تک ایک تجویز کو اہل علم بالاتفاق یا اکثریت کے ساتھ قبول نہ کرلیں،وہ نہ قانون بن سکتی ہے اور نہ اس پر فتویٰ ہوسکتاہے۔اس بات کو بھی میں اپنی کتاب’’اسلامی قانون‘‘(صفحہ۲۸-۲۹) میں بیان کرچکا ہوں۔ میرے اس مسلک کو سمجھ لینے کے بعد اب کوئی مجھے بتائے کہ اگر ایک شخص مصالح دینی کی بنا پر کسی فقہی مسئلے میں تغیر فتویٰ کی ضرورت محسوس کرے اور اسے محض ایک تجویز کے طور پر اہل علم کے غور کے لیے بدلائل پیش کردے تو کیا فی الواقع یہ کوئی گناہ ہے؟اور کیا اس سے واقعی دین میں کوئی فتنہ پیدا ہوجاتا ہے؟
دوم یہ کہ میں فقہی مسائل میں انفراد کو پسند نہیں کرتا۔میں زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرتا ہوں،وہ یہ ہے کہ اگر کسی مسئلے میں مذہب حنفی پر میر ااطمینان نہیں ہوتا تو مذاہب اربعہ میں سے دوسرے مذاہب کے احکام اور دلائل پر نگاہ ڈالتا ہوں اور اپنی بساط بھر ان کو جانچنے کے بعد ان میں سے کسی ایک کے فتوے کو ترجیح دیتاہوں۔شاذونادر ہی میں نے کبھی اس طریقے سے ہٹ کر مذاہب اربعہ سے باہر کے کسی فتوے کو ترجیح دی ہے، اور اگر کبھی ایسا کیابھی ہے تو بالعموم مجتہدین اُمت ہی میں سے کسی اور کی رائے کو قبول کیا ہے،محض اپنی منفرد رائے کم ہی کبھی پیش کی ہے۔اگرچہ انفراد میرے نزدیک حرام نہیں ہے،مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس کے لیے بہت زیادہ مضبوط دلائل کی ضرورت ہے،اور کم ہی ایسااتفاق ہوا ہے کہ کبھی میں نے فقہی مسئلے میں کوئی ایسی رائے ظاہر کی ہو جس میں سلف میں سے کوئی بھی میرے ساتھ نہ ہو۔اس طرح کی’’غیر مقلدیت‘‘ کا مجھے خود اعتراف ہے اور میں اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں تاوقتیکہ سب وشتم کے بجائے کتاب وسنت کی دلیل سے اس کو گناہ ثابت نہ کردیا جائے۔ (ترجمان القرآن۔ذی القعدہ،ذی الحجہ ۳۷۰اھ۔ستمبر ا۹۵اء)