رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ایک نوجوان کے چند سوالات:
سوال (۱) ہمیں یہ کیوں کر معلوم ہو کہ ہماری عبادت خامیوں سے پاک ہے یا نہیں اور اسے قبولیت کا درجہ حاصل ہورہا ہے یا نہیں؟… قرآن وحدیث کے بعض ارشادات جن کا مفہوم یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو روزے میں بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا،بہت سے لوگ اپنی نمازوں سے رکوع وسجودکے علاوہ کچھ نہیں پاتے،یا یہ کہ جو کوئی اپنے عابد سمجھے جانے پر خوش ہو تو نہ صرف اس کی عبادت ضائع ہوگئی بلکہ وہ شرک ہوگی،اور اس طرح سے دیگر تنبیہات جن میں عبادت کے لیے بے صلہ ہوجانے اور سزا دہی کی خبر دی گئی ہے،دل کو نااُمید ومایوس کرتی ہیں۔
اگر کوئی شخص اپنی عبادت کو معلوم شدہ نقائص سے پاک کرنے کی کوشش کرے اور اپنی دانست میں کر بھی لے پھر بھی ممکن ہے کہ اس کی عبادت میں کوئی ایسا نقص رہ جائے جس کا اسے علم نہ ہوسکے اور یہی نقص اس کی عبادت کو لاحاصل بنادے…اسلام کا مزاج اس قدر نازک ہے کہ اپنی بشریت کے ہوتے ہوئے اس کے مقتضیات کو پورا کرنا ناممکن سا نظر آتا ہے۔
(۲) توجہ اور حضور قلب کی کمی کیا نماز کو بے کار بنادیتی ہے؟نماز کو اس خامی سے کیوں کر پاک کیا جائے؟
نماز میں عربی زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے نہایت بے حضوری قلب پیدا ہوتی ہے اور ہو نی بھی چاہیے۔ کیوں کہ ہم سوچتے ایک زبان میں ہیں اور نماز دوسری زبان میں پڑھتے ہیں۔اگر آیات کے مطالب سمجھ بھی لیے جائیں تب بھی ذہن اپنی زبان میں سوچنے سے باز نہیں رہتا۔
(۳) اﷲ تعالیٰ کی طرف سے صرف ان اُعمال کے صلے کا وعدہ کیا گیا ہے جن کا تمام مقصد اور تمام محرک صرف اُس کی خوش نودی ورضا کا حصول ہو۔ مثلاًاگر کسی کی غربت وبے کسی پر رحم کھا کر ہم اس کی مدد کریں اور مدد کرنے میں اس کو ممنون کرنے یا اس سے آئندہ کوئی کام نکالنے یا کچھ لینے کا خیال نہ ہو بلکہ صرف اﷲ کا واسطہ منظور ہو تو کیا یہ بھی شرک ہے؟کیوں کہ اس کے ساتھ سلوک کرنے کا ابتدائی محرک ہماری رقت قلب ہے۔جس طرح آپ کے نزدیک خدمت ملت میں اگر کہیں قومیت کا رنگ پیدا ہوجائے تو عبادت نہیں رہتی۔
(۴) ’’پردہ‘‘پڑھنے سے کافی تشفی ہوئی۔ لیکن اکثر مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں اُلجھائو رفع نہیں ہوتا۔
ایک ایسا شخص جسے اس کے موجودہ حالات اور معاشی وسائل نکاح کرنے کی اجازت نہ دیں وہ آج کل کے زمانے میں کیوں کر اپنی زندگی پاک بازی سے بسر کرے؟ میں نے اس کا جواب جس کسی سے بات کی،نفی میں پایا۔ ایک طرف موجودہ ماحول کی زہرناکیاں اور دوسری طرف چشم وگوش کی بھی حفاظت کا مطالبہ، ناممکن العمل معلوم ہوتا ہے۔ کہاں آنکھیں میچیے اور کہاں کانوں میں انگلیاں دیجیے؟ اور پھر یہ کہ برے خیالات کی آمد کو کیوں کر روکیے؟ اوّل تو ہم اپنے خیالات کی آمد ورفت پر کوئی اختیار نہیں رکھتے اور اگر اس کی کوشش بھی کی جائے تو ایک ذہنی خلفشار کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا جو اور خراب کُن ہے۔سیلف کنٹرول(self-control) جن سازگار حالات میں قابل عمل ہو صرف انھی حالات میں کارگر اور مفید ہوسکتا ہے۔ لیکن ایسے ماحول میں جہاں ہر طرف برانگیختگی کے فوج در فوج سامان ہوں،اپنے آپ سے لڑنا اپنی شخصیت کے لیے ہلاکت کو دعوت دینا ہے۔ایک صاحب جو میڈیکل سائنس میں اس سال ڈاکٹریٹ کی سند لے رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اس صورت میں نکاح جو حاصل نہیں ہے،اس کے علاوہ نیچرل طریق پر تسکین خاطر حاصل کرنا ہی صرف اس ذہنی انتشار اور تذلیل نفس سے نجات دے سکتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین بھی یہی نظریہ رکھتے ہیں۔
کیا آپ بتائیں گے کہ بحالت مجبوری مذکورہ بالا رائے پر عمل پیرا ہوجانا کس حد تک گناہ ہے، اور اگر یہ سراسرگناہ ہے تو پھر ان حالات میں صحیح راستہ کیا ہوگا جو معقول اور قابل عمل ہو؟ اُمید ہے کہ آپ ان مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے نفسیات انسانی کے حقائق کی پوری رعایت فرمائیں گے۔
جواب (۱) اسلام کا مزاج بلاشبہ بہت نازک ہے، مگر اﷲ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی استطاعت سے زیادہ مکلف نہیںفرماتا۔ قرآن وحدیث میں جن چیزوں کے متعلق ذکر کیا گیا ہے کہ وہ عبادات کو باطل یا بے وزن کر دینے والی ہیں،ان کے ذکر سے دراصل عبادات کو مشکل بنانا مطلوب نہیں ہے بلکہ انسان کو ان خرابیوں پر متنبہ کرنا مقصود ہے تاکہ انسان اپنی عبادات کو اُن سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے،اور عبادات میں وہ روح پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہو جو مقصود بالذات ہے۔ عبادات کی اصل روح تعلق باﷲ، اخلاص ﷲ اور تقویٰ واحسان ہے۔اس روح کو پیدا کرنے کی کوشش کیجیے،اور ریا سے،فسق سے،دانستہ نافرمانی سے بچیے۔ان ساری چیزوں کا محاسبہ کرنے کے لیے آپ کا اپنا نفس موجود ہے۔وہ خود ہی آپ کو بتا سکے گا کہ آپ کی نماز میں، آپ کے روزے میں،آپ کی زکوٰۃ اور حج میں کس قدر اﷲ کی رضا جوئی اور اس کی اطاعت کا جذبہ موجود ہے،اور ان عبادتوں کو آپ نے فسق ومعصیت اور ریا سے کس حدتک پاک رکھا ہے۔یہ محاسبہ اگر آپ خود کرتے رہیں تو ان شاء اﷲ آپ کی عبادتیں بتدریج خالص ہوتی جائیں گی اور جتنی جتنی وہ خالص ہوں گی،آپ کا نفس مطمئن ہوتا جائے گا۔ابتداء ً جو نقائص محسوس ہوں،ان کانتیجہ یہ نہ ہونا چاہیے کہ آپ مایوس ہوکر عبادت چھوڑ دیں،بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آپ اخلاص کی پیہم کوشش کرتے جائیں۔خبردار رہیے کہ عبادت میں نقص کا احساس پیدا ہونے سے جو مایوسی کا جذبہ اُبھرتا ہے،اُسے دراصل شیطان اُبھارتا ہے اور اس لیے اُبھارتا ہے کہ آپ عبادت سے باز آجائیں۔ یہ شیطان کا وہ پوشیدہ حربہ ہے جس سے وہ طالبین خیر کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن ان کوششوں کے باوجود یہ معلوم کرنا بہرحال کسی انسان کے امکان میں نہیں ہے کہ اس کی عبادات کو قبولیت کا درجہ حاصل ہو رہا ہے کہ نہیں۔ اس کو جاننا اور اس کا فیصلہ کرنا صرف اس ہستی کا کام ہے جس کی عبادت آپ کررہے ہیں، اور جو ہماری اور آپ کی عبادتوں کے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ہر وقت اس کے غضب سے ڈرتے رہیے اور اس کے فضل کے اُمید وار رہیے۔ مومن کا مقام بین الخوف والرجاء ہے۔ خوف اس کو مجبور کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بہتر بندگی بجا لانے کی کوشش کرے۔ اور اُمید اس کی ڈھارس بندھاتی ہے کہ اس کا ربّ کسی کا اجر ضائع کرنے والا نہیں ہے۔
(۲) توجہ اور حضورِ قلب کی کمی نماز میں نقص ضرور پیدا کرتی ہے۔لیکن فرق ہے اس بے توجہی میں جو نادانستہ ہو اور اس میں جو دانستہ ہو۔ نادانستہ پر مواخذہ نہیں ہے بشرطیکہ انسان کو دوران نماز میں جب کبھی اپنی بے توجہی کا احساس ہوجائے،اسی وقت وہ خدا کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کرے،اور اس معاملے میں غفلت سے کام نہ لے۔رہی دانستہ بے توجہی، بے دلی کے ساتھ نماز پڑھنا اور نماز میں قصداً دوسری باتیں سوچنا، تو بلاشبہ یہ نماز کو بے کار کردینے والی چیز ہے۔
عربی زبان سے ناواقفیت کی بنا پر جو بے حضوری کی کیفیت پیدا ہوتی ہے،اس کی تلافی جس حد تک ممکن ہو،نماز کے اذکار کا مفہوم ذہن نشین کرنے سے کرلیجیے۔اس کے بعد جو کمی رہ جائے، اس پر آپ عند اﷲ ماخوذ نہیں ہیں،کیوں کہ آپ حکم خدا و رسول کی تعمیل کررہے ہیں۔ اس بے حضوری پر آپ سے اگر مواخذہ ہوسکتا تھا تو اس صورت میں جب کہ خدا ورسولؐ نے آپ کو اپنی زبان میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہوتی ا ور پھر آپ عربی میں نماز پڑھتے۔
(۳) آپ کا تیسرا سوال واضح نہیں ہے۔اگر کسی کی غربت وبے کسی پر رحم کھا کر آپ صرف اﷲ واسطے اس کی مدد کریں تو یہ فعل ظاہر ہے کہ خالص رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہوگا۔اس کے شرک ہونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟اور اس سے میرے قول کی نفی کیسے لازم آتی ہے؟اس کی ابتدائی محرک آپ کی رقت قلب ہی سہی، مگر رقت قلب کی تحریک پر جو کام آپ نے کیا،وہ تو اﷲ کا پسندیدہ کام ہی کیا،اور اس غرض کے لیے کیا کہ اﷲ اسے پسند فرمائے۔اسی طرح اگر آپ اپنی قوم کی کوئی خدمت اُس طریقے سے کریں جو اﷲ کا پسندیدہ طریقہ ہو،اور اس غرض کے لیے کریں کہ اﷲ اس خدمت سے خوش ہو،تو یہ عین عبادت ہے۔میں جس چیز کا مخالف ہوں وہ تو یہ ہے کہ قوم کی خاطر وہ کام کیے جائیں جو اﷲ کو پسند نہیں ہیں،اور ایسے طریقے سے کیے جائیں جو اﷲ کی بتائی ہوئی راہ کے خلاف ہیں۔
(۴) آپ کا یہ سوال ان اہم مسائل میں سے ہے جن کی بنا پر ہم موجودہ ناپاک ماحول کے خلاف اجتماعی جدوجہدکی ضرورت پر برسوں سے زور دے رہے ہیں۔بلاشبہ آ ج کل کے ماحول نے افراد کے لیے پاک باز رہنے کو سخت مشکل بنادیا ہے۔لیکن اس کا حل یہ نہیں ہے کہ اس ماحول کی خرابی کو حیلہ بنا کر افراد اپنے لیے اخلاقی بے قیدی کے جواز کی راہ نکالنے لگیں۔بلکہ اس کا صحیح حل یہ ہے کہ اس ماحول کی ناپاکی کا جتنا زیادہ شدید احساس آپ کے اندر پیدا ہو،اسی قدر زیادہ شدت کے ساتھ آپ اسے بدلنے کی جدوجہد میں حصہ لیں۔رہیں وہ مشکلات جو اس جدوجہد کے دوران میں ایک نوجوان کو اس ناپاک ماحول کے اندرپیش آتی ہیں،تو ان کاعلاج یہ ہے کہ جن ہیجان خیز چیزوں سے آپ بچ سکتے ہیں،ان سے بچیے،مثلاً سینما،فحش تصویریں، مخلو ط سوسائٹی، بے پردہ عورتوں کو دانستہ گھورنا یا ان کی صحبت میں بیٹھنا۔اس کے بعد جو اضطراری محرکات باقی رہ جاتے ہیں، وہ اتنے زیادہ اشتعال انگیز نہیں رہتے کہ آپ ان کی وجہ سے بندش تقویٰ کو توڑنے پر مجبور ہوجائیں۔ آپ کے ڈاکٹر دوست اور جن ماہرین نفسیات کا آپ ذکر کررہے ہیں،دراصل اس بات سے ناواقف ہیں کہ زنا انسانی تمدن واخلاق کے لیے کس قدر شدید مفسدومخرب چیز ہے۔اگر وہ اس چیز کی برائیوں سے واقف ہوں تو کسی انسان کو یہ مشورہ نہ دیں کہ وہ محض اپنے نفس کی تسکین کے لیے سوسائٹی کے خلاف اتنے سخت جرم کا ارتکاب کر گزرے۔ کیا یہ لوگ کسی شخص کو یہ مشورہ دینے کی جرأت کریں گے کہ جب کسی کے خلاف اس کا جذبہ انتقام ناقابل برداشت ہوجائے تو وہ اسے قتل کردے؟ اور جب کسی چیز کے حاصل کرنے کی خواہش اسے بہت ستائے تو وہ چوری کرڈالے؟اگر ایسے مشورے دینا وہ ناجائز سمجھتے ہیں تو جذبۂ شہوت کی تسکین کے لیے وہ زنا کا مشورہ دینے کی جرأت کیسے کرتے ہیں۔ حالاں کہ زنا کسی طرح بھی قتل اور چوری سے کم جرم نہیں ہے۔ آپ اس جرم کی شدت کو سمجھنے کے لیے ایک مرتبہ پھر میری کتاب’’پردہ‘‘ کے وہ حصے پڑھیے جن میںمیں نے زنا کے اجتماعی نقصانات پر بحث کی ہے۔
(ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل،ربیع الآخر ۳۷۰اھ۔ جنوری،فروری ا۹۵اء)