مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نذر ونیاز اور ایصالِ ثواب:

سوال: براہِ کرم مندرجۂ ذیل دو سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں:

(الف) نذر،نیاز اور فاتحہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

(ب) کیا ایک دکان دار کسی ایسے شخص کے ہاتھ بھی اپنا مال فروخت کرسکتا ہے،جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ اس کا ذریعۂ معاش کلیتاً معصیت فاحشہ کی تعریف میں آتا ہے؟

جواب: (الف) نیاز جو خالصتاً اﷲ تعالیٰ کے لیے کی جائے،بالکل جائز اور موجب اجر وثواب ہے۔ اور اگر کوئی انفاق فی سبیل اﷲ کھانے یا کپڑے یا عطیے کی صورت میں اس غرض کے لیے کیا جائے کہ اﷲ تعالیٰ اسے قبول فرما کر ہمارے کسی متوفی عزیز کی مغفرت فرما د ے یا اس انفاق کا ثواب اس عزیز کو بخش دے، تو بجائے خود اس فعل کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا۔رہا اس کا اس عزیز کے لیے نافع ہونا، تو یہ اﷲ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے،وہ چاہے تو اس کے لیے نافع بنادے ورنہ وہ انفاق کرنے والے کے لیے تو بہرحال نافع ہوگا ہی۔ اگر تلاوت قرآن یا کوئی بدنی عبادت کرکے آدمی یہ دعا کرے کہ اس کا ثواب اس کے کسی متوفی عزیز کو پہنچ جائے تواس میں اختلاف ہے کہ آیا ایصال ثواب کی یہ شکل بھی درست ہے یا نہیں۔بعض ائمہ کے نزدیک یہ درست ہے اور بعض کے نزدیک درست نہیں ہے۔ میں متعدد شرعی دلائل کی بنا پر مؤخر الذکر مسلک ہی کو ترجیح دیتا ہوں۔

اگر کوئی مالی یا بدنی عبادت اﷲ تعالیٰ کے لیے کی جائے اور بزرگان دین میں سے کسی کو اس غرض کے لیے اس کا ثواب ایصال کیا جائے کہ وہ بزرگ اس ہدیے سے خوش ہوں اور اﷲ تعالیٰ کے ہاں ہدیہ بھیجنے والے کے سفارشی بن جائیں، تو یہ ایک ایسا مشتبہ فعل ہے جس میں جواز وعدم جواز بلکہ گناہ اور فتنے تک کی سرحدیںایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہوجاتی ہیں، اور میں کسی پرہیز گار آدمی کو یہ مشورہ نہ دوں گا کہ وہ اپنے آپ کو اس خطرے میں ڈالے۔

رہے وہ کھانے جو صریحاًکسی بزرگ کے نام پر پکائے جاتے ہیں،اور جن کے متعلق بالفاظ صریح یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فلاں بزرگ کی نیاز ہے،اور جن کے متعلق پکانے والے کی نیت بھی یہی ہوتی ہے کہ یہ ایک نذرانہ ہے جو کسی بزرگ کی روح کو بھیجا جارہا ہے، اور جن سے متعلق ہمارے ہاں طرح طرح کے آداب مقرر ہیں اور ’بے حرمتی‘ کی مختلف شکلیں ممنوع قرار پائی ہیں اور ان نیازوں کی برکات اور فوائد کے متعلق گہرے عقائد پائے جاتے ہیں،تو مجھے ان کے حرام اور گناہ ہونے بلکہ عقیدۂ توحید کے خلاف ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔

(ب) اگر حرام ذریعۂ معاش رکھنے والا شخص کسی دکان دار سے کوئی چیز خریدنا چاہے تو دکان دار کے لیے اس کے بیچنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ دکان دار کے پاس جس راستے سے قیمت پہنچے گی،وہ حلال ہے۔گندگی اور حرمت پیسے میں نہیں بلکہ کسب معاش کے طریقے میں ہے۔جس شخص کے پاس حرام ذریعہ سے پیسا آیا ہے،وہ اسی کے لیے حرام ہے۔دوسرے شخص کو وہی پیسا اگر حلال راستے سے پہنچے تو اس کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

(ترجمان القرآن۔ ذی القعدہ ا۳۷اھ۔ اگست۹۵۲اء)