رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
خاتم النّبیین کے بعد دعوائے نبوت:
سوال: ’’ترجمان القرآن‘‘(جنوری،فروری) کے صفحہ ۲۳۶ پر آپ نے لکھا ہے کہ’’میرا تجربہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کبھی جھوٹ کو فروغ نہیں دیتا۔میرا ہمیشہ سے یہ قاعدہ رہا ہے کہ…جن لوگوں کو میںصداقت ودیانت سے بے پروا اور خوف خدا سے خالی پاتا ہوں،ان کی باتوں کا کبھی جواب نہیں دیتا…خدا ہی ان سے بدلہ لے سکتا ہے …اور ان کا پردہ ان شاء اﷲ دنیا ہی میں فاش ہوگا۔‘‘
میں عرض کردوں کہ میں نے جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے اور ان کے کام سے دل چسپی ہے۔میر ے مندرجۂ ذیل استفسارات اسی ضمن میں ہیں:
۱۔ یہ صرف آپ ہی کا تجربہ نہیں،بلکہ قرآن حکیم میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’اﷲ تعالیٰ کاذبوں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘اور’’اﷲ کی لعنت ہے جھوٹوں پر۔‘‘اور پھر اس قسم کے جھوٹوں پر کہ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِo الحاقۃ69:44 ان کی سزا تو فوری گرفت اور وصال جہنم ہے لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْيَمِيْنِo ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِيْنَo الحاقۃ69:45-46 اس صورت میں اگر مرزا صاحب جھوٹے تھے تو کیا وجہ ہے کہ
(ا) ابھی تک اﷲ تعالیٰ نے ان پر کوئی گرفت نہیں کی؟
(ب) ان کی جماعت بڑھ رہی ہے اور مرزا صاحب کے مشن کو، جو مسلمانوں کے نزدیک گمراہ کن ہے،تقویت پہنچ رہی ہے، اور اب تو اس جماعت کی جڑیں بیرونی ممالک میں مضبوط ہوگئی ہیں۔
(ج) مرزا صاحب کے پیغام کو ساٹھ سال ہوگئے ہیں۔ہم کب تک خدائی فیصلے کا انتظار کریں؟فی الحال تو وہ ترقی کررہے ہیں۔
(د) جو جماعتیں یا افراد اس گروہ کی مخالفت کررہے ہیں،وہ کیوں اسے ترک نہیں کردیتے اور معاملہ خدا پر نہیں چھوڑ دیتے؟
۲۔ صفحہ۲۴۲ پر آپ کی جماعت کے ایک جرمنی نژاد ہم درد نے برلن میں جماعت احمدیہ کے ساتھ تبلیغ اسلام میں تعاون کا ذکر کیا ہے۔اگر آپ بھی ان کی تبلیغ اسلام کو صحیح سمجھتے ہیں تو پاکستان میں ان کے ساتھ تعاون کیوں نہیں کرتے؟
جواب: آپ جس سرسری نظر سے ایک مدعی نبوت کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں،یہ طریقہ ایسے اہم معاملے پر رائے قائم کرنے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا تھا،وہ تو سراسر ایک جھوٹے الزام کے بارے میں تھا جو بعض خود غرض لوگوں نے میرے اوپر لگایا تھا۔ اس بات کو آپ چسپاں کررہے ہیں ایک ایسے شخص کے معاملے پر جس نے فی الواقع نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔آپ کو سمجھنا چاہیے کہ ایک مدعی نبوت کے معاملے میں لامحالہ دو صورتوں میں سے ایک صورت پیش آتی ہے:اگر وہ سچا ہے تو اس کو نہ ماننے والا کافر،اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کو ماننے والا کافر۔ ایک ایسے نازک معاملے کا فیصلہ آپ صرف اتنی سی بات پر کرنا چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ابھی تک ان پر کوئی گرفت نہیں کی، اور ان کی جماعت بڑھ رہی ہے، اور یہ کہ’’ہم کب تک خدائی فیصلہ کا انتظار کریں۔‘‘ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کربیٹھے اور اس کی جماعت ترقی کرتی نظر آئے اور آپ کی تجویز کردہ مدت انتظار کے اندر اس پر خدا کی طرف سے گرفت نہ ہو تو بس یہ باتیں اس کو نبی مان لینے کے لیے کافی ہیں؟ کیاآپ کے ذہن میں نبوت کو جانچنے کے یہی معیار ہیں؟
آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِo الحاقۃ69:44 سے جو استدلال آپ نے کیا ہے،وہ بنیادی طور پر غلط ہے۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ محمدؐ ،جو حقیقت میں اﷲ کے نبی ہیں،اگر خدا کی وحی کے بغیر کوئی بات خود تصنیف کرکے خدا کے نام سے پیش کردیں تو ان کی رگ گلو کاٹ دی جائے گی۔اس سے یہ معنی نکالنا صحیح نہیں ہے کہ جو شخص حقیقت میں نبی نہ ہو اور غلط طور پر اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کرے، اس کی رگ گلو بھی کاٹی جائے گی۔
نیز اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے سچے اور جھوٹے نبی کی پہچان کے لیے یہ بات ایک معیار کے طور پر پیش نہیں کی ہے کہ جس مدعی نبوت کی رگ گلو نہ کاٹی جائے وہ سچا نبی ہے، اور جس کی رگ کاٹ دی جائے وہ جھوٹا مدعی۔ قرآن کی آیتوں میں تاویل کی یہ کھینچ تان،جو ظاہر ہے کہ آپ کی اپنی اپج کا نتیجہ نہیں ہے،بلکہ مرزا صاحب کی جماعت سے ہی آپ نے سیکھی ہے،بجائے خود اس بات کی علامت ہے کہ یہ جماعت خوف خدا سے کس قدر خالی ہے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے،اس کی بات کو ان معیاروں پر نہیں جانچا جائے گا جو آپ نے پیش کیے ہیں،بلکہ اسے پورے اطمینان کے ساتھ اس بنیاد پر رد کردیا جائے گا کہ قرآن واحادیث صحیحہ اس معاملے میں قطعی ناطق ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔میں ان دلائل سے بھی واقف ہوں جو مرزا صاحب ا ور ان کے متبعین نے باب نبوت کے کھلے ہونے پر قائم کیے ہیں۔ مگر آپ سے صاف عر ض کرتا ہوں کہ ان دلائل سے اگر کوئی متاثر ہوسکتا ہے تو وہ صرف ایک بے علم یا کم علم آدمی ہی ہوسکتا ہے،ایک صاحب علم آدمی کو تو ان کے دلائل دیکھ کر صرف ان کے جہل ہی کا یقین حاصل ہوتا ہے۔
ترجمان القرآن میںجرمنی کا جو مکتوب شائع ہوا ہے،اس کی اشاعت کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی ہر بات ہمار ے نزدیک سچی ہے۔ ہمارا مدعا تو یہ تھا کہ ہمارے ملک کے مسلمانوں کو اپنے جرمن نو مسلم بھائیوں کی حالت سے آگاہ کیا جائے اور ان کی مدد پر اُکسایا جائے۔ وہ لوگ بے چارے نئے نئے مسلمان ہیں،ان کو کیا خبر کہ دنیائے اسلام میں کس قسم کے فتنے اُٹھ رہے ہیں۔ان کو تو اسلام کے نام سے جو چیز جہاں سے بھی ملے گی،وہ اس سے اپنی تشنگی بجھانے کی کوشش کریں گے۔یہ ہمارا کام ہے کہ انھیں اسلام کے متعلق صحیح لٹریچر فراہم کرکے دیں۔ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ بے چارے ناواقفیت میں کسی فتنے کا شکار نہ ہوجائیں۔
سوال: آپ کا جواب ملا۔افسوس کہ وہ میری تشفی کے لیے کافی نہیں ہے۔
میں نے آپ ہی کی دی ہوئی حقیقت’’خدا تعالیٰ خود جھوٹے کو سزا دے گا‘‘ کی روشنی میں پوچھا تھا کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی جو سب مسلمانوں کے نزدیک کاذب ہیں،ان پر کیوں خدا تعالیٰ کی گرفت نہیں ہوتی،اور یہ کہ خدا تعالیٰ کس طرح اپنے بندوں کو اتنے عرصے سے گمراہ ہوتے دیکھ رہا ہے؟
میں مرزا صاحب کی تصنیف کردہ تقریباً ۲۵ کتب تحقیقی نظر سے دیکھ چکا ہوں،اور اس کے بعد علمائے اسلام کی بعض کتب بھی ان کے رد میں دیکھی ہیں۔مجھے اعتراف ہے کہ میں نے آپ کی کوئی کتاب اس موضوع پر نہیں پڑھی۔ ویسے علما کی کتب کے متعلق میرا مجموعی تاثر یہ ہے کہ:
انھوں نے مرزا صاحب کی تحریروں میں تحریف کرکے غلط مطالب ان کی طرف منسوب کیے ہیں۔
جس موضوع پر انھوںنے قلم اُٹھایا ہے،اس پر انھیں عبور نہیں تھا۔
بعد میں میری خط وکتابت پر یہ لوگ عموماًخاموش رہے ہیں۔
مرزا صاحب کی کتب سے میں جو کچھ سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی ذات اور اقوال یعنی ظاہر وباطن آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے پُر ہے،میں اس بنیاد کو لے کر مرزا صاحب کے دعوے کی طرف بڑھا تھا، اور اب مجھ پر یہ ثابت ہوچکا ہے کہ:
(۱) مرزا صاحب کے دعاوی قرآن اور اقوال نبیؐ کے خلاف نہیں۔
(۲) مرزا صاحب کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان گھٹانے کے لیے نہیں، بلکہ اگر موسوی فیضان سے قریہ قریہ نبی ہوسکتے ہیں تو مقام محمدؐی کے مطابق گائوں گائوں ایسے لوگ ہونے چاہییں جو بتائیں کہ ہم نے شریعت محمدؐیہ پر عمل کرکے مکالمہ الٰہیہ حاصل کیا ہے۔ خودمرزاصاحب نے فرمایا ہے کہ:
ایں چشمۂ رواں چوں بخلق خدا دہم
یک قطرۂ ز بحرِ کمال محمدؐ است
اب آپ نے پھر مجھے مرزاصاحب کے دعوے کو پرکھنے کی دعوت دی ہے، تو کیا آپ براہِ کرم قرآن کریم سے میری رہنمائی کے لیے مرزا صاحب کے کسی ایک دعوے کو جھوٹا ثابت کردیں گے؟
جواب: پچھلا خط آپ کی تشفی کے لیے کافی ہوجاتا،اگر آپ تشفی چاہتے۔ میں نے ’’ترجمان القرآن‘‘ میں جو کچھ لکھا تھا وہ تو ان لوگوں کے بارے میں تھا جو مجھ پر ایک جھوٹا بہتان لگا رہے ہیں،اور اس میں اﷲ تعالیٰ پر یہ اعتماد ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ضرور جھوٹوں کو سزا دے گا۔مگر آپ اسے ایک مدعی نبوت کے دعوے کو جانچنے کے لیے معیار ٹھیرا رہے ہیں، اور معیار بھی اس شان کے ساتھ کہ اگر مدعی کو سزا ملتی ہوئی نظر نہ آئے تو ضرور وہ اپنے دعوے میں سچا ہے۔آپ خود سوچیں کہ میرے قول کو مجھ پر حجت بنانے کی یہ کوشش جو آپ نے فرمائی ہے،یہ آخر کہاں تک معقول ہے؟کیا میں نے اپنے خلاف بہتان لگانے والوں کے متعلق یہ بھی کہا تھا کہ اگر انھیں دنیا میں سب کی آنکھوں کے سامنے سزا نہ ملے تو ضرور مجھ پر ان کا بہتان سچا ہے؟کیا واقعی لوگوں کے صادق وکاذب اور راہ یاب وگمراہ ہونے کے لیے یہ کوئی صحیح معیار ہے کہ جسے دنیا میں سزا مل جائے وہ جھوٹا اور گمراہ،اور جسے سزا نہ ملے وہ سچا اور ہدایت یافتہ؟
آپ عجیب بات فرما رہے ہیں کہ مرزا صاحب کے دعوے کو ۶۰ سال گزر چکے ہیں،آخر کب تک کوئی انتظار کرے۔دعوائے نبوت کی صداقت کو پرکھنے کی یہ عجیب کسوٹی جو آپ نے تجویز فرمائی ہے،ذرا اس کی توضیح تو فرمایئے کہ ایک جھوٹے مدعی کو آپ کے نزدیک کس قسم کی سزا ملنی چاہیے؟اگر آپ کا خیال یہ ہے کہ غیب سے ایک ہاتھ بڑھے اور اس کی رگ گلو کاٹ دے، تو میں عرض کروں گا کہ یہ سزا تو مسیلمہ تک کو نہیں ملی جس نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اور اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ جو مدعی نبوت انسانوں کے ہاتھ سے مارا جائے وہ جھوٹا ہے، تو ان انبیاکے متعلق آپ کیا فرمائیں گے جن کی نبوت کی تصدیق خود اﷲ تعالیٰ نے فرمائی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمادیا ہے کہ ان کی قوم نے انھیں قتل کردیا؟قرآن میں یہ آیات تو آپ کی نظر سے گزری ہی ہوں گی کہ
قُلْ قَدْ جَاۗءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِيْ بِالْبَيِّنٰتِ وَبِالَّذِيْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْھُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo آل عمران3:183
اور
فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّيْثَاقَہُمْ وَكُفْرِہِمْ بِاٰيٰتِ اللہِ وَقَتْلِہِمُ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ
النساء4: 155
ان آیات کی روشنی میں آپ کو ایک مرتبہ پھر اپنے اندازِ فکر پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔نبی کا دعویٰ اس طرح کے معیاروں پر نہیں جانچا جاتا۔ دیکھنے کی چیز تویہ ہے کہ اس سے پہلے آئے ہوئے کلام الٰہی کی روشنی میں اس کا مقام کیا ہے؟ وہ چیز کیا لایا ہے؟ اوراس کی زندگی کیسی ہے؟ ان معیاروں پر کوئی شخص پورا نہ اُترتا ہو تو آپ سخت غلطی کریں گے اگر اس کے دعوے کو صرف اس بنا پر مان لیں گے کہ آپ کی آنکھوں نے اسے اس دنیا میں سزا ملتے نہیں دیکھا۔
جو تین معیار میں نے اوپر بیان کیے ہیں،ان میں سے مؤخر الذکر دو معیار ایسی صورت میں سرے سے قابل لحاظ ہی نہیں رہتے جب کہ پہلے ہی معیار سے کسی مدعی نبوت کا دعویٰ بخیریت نہ گزر سکے۔ جب قرآن اور احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نیا نبی نہیں آسکتا تو یہ دیکھنے کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوائے نبوت کرنے والا کیا لایا ہے اور کیسا انسان ہے۔ اگرچہ مرزا صاحب میرے نزدیک دوسرے اور تیسرے معیار کے لحاظ سے بھی مقام نبوت سے اس قدر فروتر ہیں کہ باب نبوت کھلا بھی ہوتا تو کم ازکم کوئی معقول آدمی تو ان پر نبوت کا گمان نہیں کرسکتا تھا، لیکن میں اس بحث کو قرآن وحدیث کے ناطق فیصلے کے بعد غیر ضروری بھی سمجھتا ہوں اور خداو رسول ؐکے مقابلے میں گستاخی بھی۔
یہ سوال کہ قرآن وحدیث سے باب نبوت کے قطعی طور پر بند ہونے کے دلائل کیاہیں،اس کا متحمل نہیں ہے کہ ایک خط میں اس کا جواب دیا جائے۔اگراﷲ تعالیٰ نے مجھے فرصت دی توان شاء اﷲ اس موضوع پر ایک مفصل مضمون لکھوں گا،ورنہ سورۂ احزاب کی تفسیر میں تو یہ بحث آنی ہی ہے۔
(ترجمان القرآن۔ رمضان ۳۷۰اھ۔ جولائی ا۹۵اء)