رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
'خدا اندر قیاس مانہ گنجد'
سوال: کچھ عرصہ ہوا، ایک دوست کے ساتھ میری بحث ہوئی۔سوال یہ تھا کہ خدا ہے یا نہیں؟اور ہے تو وہ کہاں سے آیا؟ہم دونوں اس معاملے میں علم نہیں رکھتے تھے،لیکن پھر بھی میں سوال کے پہلے جز کی حد تک اپنے مخاطب کو مطمئن کرنے میں کام یاب ہوگیا،لیکن دوسرے جز کا کوئی جواب مجھ سے بن نہیں آیا۔ چنانچہ اب یہ سوال خود مجھے پریشان کررہا ہے؟
ایک موقع پر میری نظر سے یہ بات گزری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ سوال کیا گیا تھا،اور آپ ؐ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کچھ باتیں انسان کے سوچنے اور سمجھنے سے باہر ہوتی ہیں،اور یہ سوال بھی انھی میں شامل ہے۔میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ آنحضورؐ کے اس فرمودہ سے اطمینا ن حاصل کروں،لیکن کام یابی نہیں ہوتی۔ براہ کرم آپ میری مدد فرمائیں۔
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ انسان کو صحیح معنوں میں انسان بننے کے لیے کن کن اُصولوں پر چلنا چاہیے؟
جواب: آپ کے ذہن کو جس سوال نے پریشان کررکھا ہے،اس کا حل تو کسی طرح ممکن نہیں ہے، البتہ آپ کی پریشانی کا حل ضرور ممکن ہے۔اور اس کی صورت یہ ہے کہ آپ اس قسم کے مسائل پر سوچنے کی تکلیف اُٹھانے سے پہلے اپنے علم کے حدود (limitations)کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جب آپ یہ جان لیں گے کہ انسان کیا کچھ جان سکتا ہے اور کیا کچھ نہیں جان سکتا تو پھر آپ خواہ مخواہ ایسے اُمور کو جاننے کی کوشش میں نہ پڑیں گے جن کو جاننا آپ کے بس میں نہیں ہے۔خدا کی ہستی کے متعلق زیادہ سے زیادہ جو کچھ آدمی کے امکان میں ہے،وہ صرف اس قدر ہے کہ آثار کائنات پر غور کرکے ایک نتیجہ اخذ کرسکے کہ خدا ہے،اور اس کے کام شہادت دیتے ہیں کہ اس کے اندر یہ اور یہ صفات ہونی چاہییں۔یہ نتیجہ بھی ’’علم‘‘کی نوعیت نہیں رکھتا،بلکہ صرف ایک عقلی قیاس اور گمان غالب کی نوعیت رکھتا ہے۔اس قیاس اور گمان کو جو چیز پختہ کرتی ہے،وہ یقین اور ایمان ہے۔لیکن کوئی ذریعہ ہمارے پاس ایسا نہیں ہے جو اس کو’’علم‘‘ کی حد تک پہنچا سکے۔ اب آپ خود سوچ لیجیے کہ جب خدا کی ہستی کے بارے میں بھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ہم کو اس کے ہونے کا’’علم‘‘حاصل ہے، تو آخر اس کی حقیقت کا تفصیلی علم کیوں کرممکن ہے۔ خدا کی ذات تو خیر بہت بلند وبرتر ہے،ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ ’’زندگی‘‘کی حقیقت اور اس کی اصل(origin) کیا ہے۔یہ توانائی(energy) جس کے متعلق ہمارے سائنس دان کہتے ہیں کہ اسی نے مادے کی شکل اختیار کی ہے اور اس سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے،اس کی حقیقت ہمیں معلوم نہیں، اور نہ ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ کہاں سے آئی اور کس طرح اس نے مادے کی گوناگوں شکلیں اختیار کیں۔ اس قسم کے معاملات میں ’’کیوں‘‘اور’’کیسے‘‘ کے سوالات پر غور کرنا اپنے ذہن کو اس کام کی تکلیف دینا ہے جن کے انجام دینے کی طاقت اور ذرائع اس کو حاصل ہی نہیں ہیں۔اس لیے یہ غور وفکر نہ پہلے کبھی انسان کو کسی نتیجے پر پہنچا سکا ہے نہ اب آپ کو پہنچا سکتا ہے۔اس کا حاصل بجز حیرانی کے اور کچھ نہیں۔ اس کے بجائے اپنے ذہن کو ان سوالات پر مرکوز کیجیے جن کا آپ کی زندگی سے تعلق ہے اور جن کا حل ممکن ہے۔ یہ سوال تو بے شک ہماری زندگی سے تعلق رکھتا ہے کہ خدا ہے یا نہیں، اور ہے تو اس کی صفات کیاہیں، اور اس کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کیا ہے۔ اس معاملے میں کوئی نہ کوئی رائے اختیار کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ بغیر اس کے ہم خود اپنی زندگی کی راہ متعین نہیں کرسکتے۔ اور اس معاملے میں ایک رائے قائم کرنے کے لیے کافی ذرائع بھی ہمیں حاصل ہیں۔لیکن یہ سوال کہ ’’خدا کہاں سے آیا‘‘نہ ہماری زندگی کے مسائل سے کوئی تعلق رکھتا ہے اور نہ اس کے متعلق کسی نتیجے پر پہنچنے کے ذرائع ہم کو حاصل ہیں۔
آپ کادوسرا سوال کہ’’انسان کو انسان بننے کے لیے کن اُصولوں پر چلنا چاہیے‘‘، ایسا نہیں ہے کہ اس کا جواب ایک خط میں دیا جاسکے۔میں اپنی کتابوں میں اس کے مختلف پہلوئوں پر مفصل لکھ چکا ہوں۔آپ ان کو ملاحظہ فرمائیں۔ مثلاًاس کے لیے میرے مضامین’’سلامتی کا راستہ‘‘،’’اسلام اور جاہلیت‘‘’’اسلام کا اخلاقی نقطۂ نظر‘‘اور’’دین حق‘‘کا مطالعہ مفید رہے گا۔نیز رسالۂ ’’دینیات‘‘ سے بھی آپ کو اس معاملہ میں کافی رہنمائی حاصل ہوگی۔
(ترجمان القرآن۔ ذی الحجہ ۳۶۹اھ، اکتوبر۹۵۰اء)