رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ایک زمین داری میں رضا کارانہ طور پر اصلاحات کا آغاز:
سوال: میں ایک بڑ ی زمین داری کا مالک ہوں۔میں نے تہیہ کرلیا ہے کہ اپنے مزارعین سے شریعت محمدیؐ کے مطابق معاملہ کروں۔ اس مقصد کے لیے میں اپنے موجودہ طرز عمل کی تفصیلات تحریر کررہا ہوں۔ان کے بارے میں واضح فرمایئے کہ کیا کیا چیزیں غلط ہیں اور کیا کیا صحیح ہیں؟
(۱)میں نے ہر مزارع کو دس بارہ ایکٹر زمین فی ہل دے رکھی ہے۔بیگار مدت سے رائج تھی، لیکن میں نے بند کردی ہے۔صرف وسائل آب پاشی کی درستی مزارعین کے ذمے ہے۔
(۲)میں ہر پیداوارمیں سے ۳/۱حصہ لیتا ہوں۔ پانی کا محصول سرکاری (آبیانہ) کل مزارعین دیتے ہیں اور ملکیت کا محصول(ٹھیکہ یا مطالبۂ مال) میں ادا کرتا ہوں۔باقی محصول (زرعی ٹیکس کے سوا) بٹائی کے تناسب سے مشترکہ طور پر ادا کیے جاتے ہیں۔ خرابہ مزارعین کو نہیں دیا جاتا۔
(۳)تخم پختہ اجناس بذمہ مزارعان ہوتا ہے اور قیمتی اجناس کے تخم کا۳۔۱ حصہ میں دیتا ہوں۔
(۴) ۳سیر فی من( ۳۔۱ حصۂ پیدا وار کے علاوہ)کل پیدا وار میں سے جداگانہ طو رپر وصول کیا جاتا ہے اور کسی طرح کا لگان یا بیگار پہرہ وغیرہ کی خدمات نہیں لی جاتیں۔
(۵) میرے ملازمین کاشت بھی ہیں جن میں سے چند حصہ پر ہیں اور چند تنخواہ دار ہیں۔ حصہ داری پر کام کرنے والے میرے بیلوں کے ساتھ میری اراضی میں میرے منیجروں کی ہدایات کے تحت کام کرتے ہیں۔بیج میرا ہوتا ہے۔ بعد میں ملکیت کے طور پر ۳۔۱ حصہ بٹائی اور۳سیر فی من کل انبارمیں سے وصو ل کرتا ہوں۔بقیہ غلہ کا نصف بیلوں کے مصارف میں لیا جاتا ہے اور نصف کارکنوں کی کارکردگی کے حق میں دیا جاتا ہے۔
مثلاً الف،ب،ج میرے حصے دار ہیں اورد، میرے ملازم ہیں۔ان کے پاس میرے۵ جوڑی بیل کاشت کے لیے ہیں۔میں۵۰من غلے میں سے اپنی بٹائی لے کر۳حصے الف،ب،ج کو دوں گا،باقی ۵ حصے بیلوں کے اور دو حصے تنخوا ہ دار ملازموں کے میں لوں گا،کیوں کہ ان کی تنخواہ میرے ذمے ہے۔آبیانہ وغیرہ علاوہ ملکیتی لگان سرکاری کے مندرجہ بالا نسبت سے ادا ہوگا۔
(۶)میری ملکیت وراثتاً میرے پاس منتقل ہوئی ہے اور میرے آباو اجداد نے حکومت سے یادوسرے زمین داروں سے’’قیمتاً‘‘لی تھی۔میرے پاس کوئی سرکار ی جاگیر وغیرہ نہیں۔
براہِ کرم میرے معاملے پرتوجہ فرمائیں۔شاید اﷲ تعالیٰ دوسرے اہل زمین کو بھی دیکھا دیکھی توفیق اصلاح دے۔
جواب: اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ نے خود اپنی زمین داری کو رضا کارانہ طور پر شریعت کے مطابق درست کرنے کاارادہ فرمایا۔ کاش دوسرے زمین دار بھی اسی طرح اپنے معاملات کی اصلاح پر آمادہ ہوجائیں۔
آپ نے اپنے معاملات کی جو شکلیں بیان فرمائی ہیں،ان میں سے نمبرا،۲،۳ تو جائز ہیں، مگر نمبر ۴کا پہلا حصہ غلط ہے،اسے بدل دیجیے۔پیداوار میں سے ۳۔۱ حصہ کے علاوہ۳سیر فی من کل انبار میں سے وصو ل کرنا آپ کی پوری بٹائی کو ناجائزقرار دیتا ہے۔آپ صرف نسبت کے اعتبار سے اپنا حصہ لینے کے حق دار ہیں۔وزن کے اعتبار سے ایک متعین مقدار وصول کرنے کا آپ کو حق نہیں ہے۔
نمبر۵میں جو صورت معاملہ آپ نے بیان کی ہے،اس میں اجرت اور بٹائی کو خلط ملط کردیا گیاہے جس سے ظلم کی راہ نکل سکتی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنی اراضی کے جن قطعات کو اجرت دے کر کاشت کرانا ہوانھیں الگ رکھیں، اور جنھیں بٹائی پر دیناہو انھیں خالص بٹائی کے لیے مخصوص کردیں۔اجرت پر کام لینے کی صورت میں زمین کی ساری پید اوار خواہ کم ہو یا زیادہ، آپ کی ہوگی،اور آپ کے ملازم صرف اپنی اجرت کے مستحق ہوں گے۔ اور بٹائی پر زمین دینے کی صورت میں آپ کویا آپ کے منیجروں کو مزارعین کے کام میں دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں،آپ خواہ محض زمین مزارعوں کو دیں، یا ہل بیل اور بیج میں سے بھی کوئی چیز دیں،بہرحال آپ ایک طے شدہ نسبت کے مطابق پیداوار میں سے صرف اپنا حصہ لینے کے مجاز ہیں۔
نمبر۶ میں آپ نے اپنی زمین داری کی جو اصل بیان کی ہے،وہ اگر درست ہے تو آپ کی ملکیت شرعاً درست قرار پائے گی۔ اس صورت میں طریقۂ زمین داری کی اصلاح آپ کے ذمے ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت جو شرعی وارث موجود ہوں،ان کے حصے آپ انھیں تقسیم کردیں۔
سوال: دوبارہ متکلف ہوں کہ جو چند باتیں جناب کے نوازش نامے سے نہیں سمجھ سکا، ان کی مزید توضیح کی درخواست کروں:
(۱) اگر۳سیر فی من بٹائی کے علاوہ لینا درست نہیں ہے تو پھر دوسرا یہ راستہ ہے کہ بٹائی کی شرح تبدیل کروں۔ مثلاً ۳۔۱ کے بجائے ۵۔۲یا ۵۔۳ کی شرح قائم کی جاسکتی ہے،یا کوئی اور صورت جو شرعاً زیادہ مناسب ہو تحریر فرمائیں۔
حصہ داروں اور ملازمین کے رقبوں کو علیحدہ کرنے کے لیے میں نے آج ہی کہہ دیا ہے۔بہرحال بٹائی کے شرعی طریق یا تناسب سے مطلع فرمائیں۔
(۲) آپ نے فرمایا ہے کہ میرے ملازمین یا منیجروں کو مزارعین کے کام میں دخل دینے کا حق نہیں پہنچتا۔سوال یہ ہے کہ اگر ان کی نگرانی نہ کی جائے تو وہ مالک زمین کا حق مار کھائیں گے اور کماحقہ محنت نہ کریں گے۔ ملازمین کے مصارف کا بوجھ صرف مجھی پر ہوتا ہے، مزارعین کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔
(۳) آپ نے فرمایا ہے کہ میں اپنی ملکیت کو اس وقت شرعی وارثوں میں(جو موجود ہوں) تقسیم کردوں۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ میرے باپ پر جو حصے ازروئے شریعت واجب الادا تھے تو یہ ان کے ذمے تھے۔میرے نام مرحوم والد نے اپنی زندگی میں ہر قسم کی ملکیت بروئے ہبہ منتقل کردی تھی اوریہ واقعہ ان کی فوتیدگی سے چھ سال قبل کا ہے۔اندریں حالات مجھ پر صرف میرے اپنے ہونے والے ورثا کا حق واجب ہوگا یا والد مرحوم کے پس ماندگان کا بھی؟ اگر والد مرحوم کے پس ماندگان کو میں ان کا حق ادا کرنا بھی چاہوں تو میرے دوسرے بھائی اس معاملے میں ساتھ نہ دیں گے اور میں اکیلا ان کے حقوق پورے کر ہی نہیں سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ والد مرحوم کے ذمے داری سے متعلق تھا نہ کہ مجھ سے۔
جواب: (۱) بٹائی کایہ طریقہ اُصولاً صحیح ہے کہ پیداوار جو کچھ بھی ہو،اس میں سے مالک زمین اور کاشت کار متناسب طریق پر حصہ تقسیم کرلیں،مثلاً یہی کہ ۵۔۲ مالک کا اور ۵۔۳ کاشت کار کا۔ کاشت کا مگر اس معاملے میں انصاف کا تقاضا پورا کرنے کے لیے یہ لحاظ رکھنا چاہیے کہ ہر کاشت کار کو کم از کم آپ اتنی زمین کاشت کے لیے دیں جس کی پیداوار کا حصہ اس کی انسانی ضروریات کے لیے کافی ہو۔ نیز تناسب مقرر کرنے میں رواج سے قطع نظر کرکے انصاف کے ساتھ یہ دیکھیں کہ حاصل شدہ پیداوار کی تیاری میں آپ کا اور آپ کے کاشت کار کا واقعی کتنا حصہ ہے۔ اس معاملے میں کوئی عالم گیر ضابطہ تو بنایا نہیں جا سکتا، اس لیے کہ ہر علاقے کے زراعتی حالات مختلف ہوتے ہیں البتہ بادی النظر میں یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اگر آپ کی صرف زمین ہو اور بیج، ہل اور محنت سب کاشت کار کی ہو تو اس صورت میں ۵۔۲ اور ۵۔۳ کی نسبت مبنی بر انصاف نہیں ہے۔بہرحال یہ ضروری ہے کہ مالکان زمین اپنے معاملات کو صرف شرعی ضوابط کے مطابق درست کرنے ہی پر اکتفا نہ کریں بلکہ کھلے دل سے انصاف کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔
(۲) آپ کو اس بات کی نگرانی کرنے کا حق ضرور پہنچتا ہے کہ کاشت کار بٹائی سے پہلے مشترک غلے میں بے جا تصرف نہ کریں اور مزارع کی حیثیت سے اپنے فرائض بھی ٹھیک ٹھیک ادا کرتے رہیں۔لیکن اس نگرانی کو اس حد تک نہ بڑھنا چاہیے کہ مزارع کی حیثیت بالکل ملازم یا مزدور کی سی ہوکر رہ جائے،اور آپ کا نگران عملہ بالکل اپنے حکم کے تحت ان سے کام لینے لگے۔اُصولاً ایک مزارع آپ کا ملازم یا مزدور نہیں ہے بلکہ ایک شریک کاروبار کی حیثیت رکھتا ہے،اور یہی سمجھ کر اس سے معاملہ کرنا چاہیے۔مجھے مزارعین کی جو شکایات معلوم ہوئی ہیں،ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ زمین دار اور ان کے ملازمین ہر وقت ان کے سر پر سوار رہتے ہیں اور ان کے ہرکام میں مداخلت کرتے رہتے ہیں۔میرا مدعا اسی طریقے کی اصلاح ہے۔
(۳) وراثت کی تقسیم کا سوال ان موہوبہ اموال کے معاملے میں پیدا نہیں ہوتا جو کسی شخص نے اپنی زندگی میں (بشرطیکہ اندیشہ موت کی بنا پر نہ ہو) کسی کے دے دیے ہوں۔ لیکن جوترکہ متوفی نے چھوڑا ہو، وہ خواہ کم ہو یا زیادہ،اس کی تقسیم کا معاملہ وراثت کے قانون سے تعلق رکھتا ہے،اور اس معاملے میں کوئی ذمہ داری متوفی پر نہیں ہے۔ بلکہ یہ پس ماندگان کا کام ہے کہ وہ اس ترکہ کو شریعت کے مطابق تقسیم کریں۔بالفرض اگر دوسرے وارث ایسا کرنے پر راضی نہ ہوں تو آپ یہ کرسکتے ہیں کہ جو حصہ شرعاً آپ کو پہنچتا ہو،صرف اتنا ہی حصہ اپنے پاس رکھیں اور اس سے زائد جو کچھ ہو،اس کو متناسب طریقے سے ان وارثوں میں بانٹ دیں جو اپنے شرعی حصے سے محروم رہ گئے ہوں۔
ہبہ کے بارے میں بھی یہ اطمینا ن کرلینا چاہیے کہ آیا یہ ہبہ اس نیت سے تو نہ تھا کہ وراثت کو شریعت کے مطابق تقسیم ہونے سے روکا جائے۔
(ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ۳۶۹اھ، اکتوبر۹۵۰اء)