مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ختم نبوت کے خلاف قادیانیوں کی ایک اور دلیل:

سوال: تفہیم القرآن‘ سورۂ آل عمران صفحہ۲۶۸، ع،۹،آیت وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ…الخ آل عمران 81:3 کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے حاشیہ نمبر۶۹ یوں درج کیا ہے کہ’’یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ حضرت محمدؐ سے پہلے ہر نبی سے یہی عہد لیا جاتارہا ہے اور اسی بنا پر ہر نبی نے اپنی اُمت کو بعد کے آنے والے نبی کی خبر دی ہے اور اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ہے۔لیکن نہ قرآن میں،نہ حدیث میں،کہیں بھی اس امر کا پتا نہیں چلتا کہ حضرت محمدؐ سے ایسا عہد لیا گیا ہو،یا آپ ؐنے اپنی اُمت کو کسی بعد کے آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو۔‘‘

اس عبارت کا مطالعہ کرنے کے بعد دل میں یہ بات آئی کہ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نہیں فرمایا،لیکن خود قرآن مجید میں سورۂ احزاب میں ایک میثاق کا ذکر یوں آتا ہے:

وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَہُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ ……الخ الاحزاب 7:33

یہاں لفظ ’’مِنْکَ‘‘ کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے۔میثاق وہی ہے جس کا ذکر سورۂ آل عمران میں ہوچکا ہے۔ ہر دو سورتوں یعنی آل عمران اور الاحزاب کی مذکورۂ بالا آیات میں میثاق کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہی میثاق جو دوسرے انبیا سے لیا گیا تھا، محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی لیا گیا ہے۔

دراصل یہ سوال احمدیوں کی ایک کتاب پڑھنے سے پیدا ہوا ہے جس میں ان دونوں سورتوں کی محولہ بالا آیات کی تفسیر ایک دوسرے کی مدد سے کی گئی ہے اور لفظ ’’منک‘‘ پر بڑی بحث درج ہے۔

جواب: آیت وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَہُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ ……الخ الاحزاب 7:33 سے قادیانی حضرات جو استدلال کرتے ہیں،وہ اگر مبنی براخلاص ہے تو ان کی جہالت پر استدلال کرتا ہے، اور اگر قصداًدھوکا دینے کی نیت سے ہے تو یہ ان کی ضلالت پر دال ہے۔ وہ ایک مضمون تو سورہ آل عمران کی آیت {وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النبیّٖن}سے لیتے ہیں جس میں انبیا اور ان کی اُمتوں سے کسی آنے والے نبی کی پیروی کا عہد لیا گیا ہے،اور دوسرا مضمون سورۂ احزاب کی مذکورہ بالا آیت سے لیتے ہیں جس میں دوسرے انبیا کے ساتھ نبیؐ سے بھی ایک عہدلیے جانے کا ذکر ہے۔ پھر دونوں کو جوڑ کر اس سے یہ تیسرا مضمون خود بنا ڈالتے ہیں کہ نبیؐ سے بھی کسی آنے والے نبی پر ایمان لانے اور اس کی تائید ونصرت کرنے کا عہد لیا گیا تھا۔ حالاں کہ جس آیت میں آنے والے نبی پر ایمان لانے کے میثاق کا ذکر ہے،اس میں اﷲ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ عہد ہم نے محمدؐ سے بھی لیا ہے،اورجس آیت میں محمدؐ سے ایک عہد لیے جانے کا ذکر ہے،اس میں کوئی تصریح اس امر کی نہیں ہے کہ یہ عہد کسی آنے والے نبی کی پیروی کا تھا۔اب سوال یہ ہے کہ آخر ان دو مختلف مضمونوں کو جوڑ کر ایک تیسرا مضمون جو قرآن میں کہیں نہ تھا، کس دلیل سے پیدا کرلیاگیا؟

اس کے لیے اگر ہوسکتی تھیں تو تین ہی دلیلیں ہوسکتی تھیں:

یا تو نبیؐ نے اس آیت کے نزول کے بعد صحابہ کو جمع کرکے اعلان فرمایا ہوتا کہ’’لوگو!اﷲ نے مجھ سے یہ عہد لیا ہے کہ میرے بعد جو نبی آئے،اس پر میں ایمان لائوں اور اس کی تائید ونصرت کروں،لہٰذا میرے متبع ہونے کی حیثیت سے تم بھی اس کا عہد کرو‘‘… مگر ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث کے پورے ذخیرے میں اس مضمون کا کہیں نام ونشان تک نہیں،بلکہ اُلٹی بکثرت روایات ایسی موجود ہیں جن سے یہ مضمون نکلتا ہے کہ حضورؐپر سلسلۂ نبوت ختم ہوگیا اور آپؐ کے بعد اب کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں ہے۔ کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے نبیؐ سے ایک ایسا اہم میثاق لیا گیا ہوتا اور آپ ؐ نے اسے یوں نظر انداز کردیا ہوتا، اور اُلٹی ایسی باتیں فرمائی ہوتیں جن سے حجت پکڑ کر آپؐ کی اُمت کا سواداعظم خدا کے کسی فرستادہ نبی پر ایمان لانے سے محروم رہ جاتا۔

دوسری دلیل اس مضمون کو پید اکرنے کے لیے یہ ہوسکتی تھی کہ قرآن میں انبیا اور ان کی اُمتوں سے بس ایک ہی میثاق لیے جانے کا ذکر ہوتا،یعنی یہ کہ بعد کے آنے والے نبی پر ایمان لانا۔ اس کے سوا کسی اور میثاق کا پورے قرآن میںکہیں ذکر ہی نہ ہوتا۔ اس صورت میںیہ استدلال کیا جاسکتا تھا کہ سورۂ احزاب والی آیت میثاق میں بھی لامحالہ یہی میثاق مراد ہوگا…لیکن اس دلیل کے لیے بھی کوئی گنجایش موجود نہیں ہے۔قرآن میں ایک نہیں بلکہ متعد د میثاقوں کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً سورۂ بقرہ رکوع۰ا میں بنی اسرائیل سے اﷲ کی بندگی اور والدین سے حسن سلوک اور آپس کی خوں ریزی سے پرہیز وغیرہ کا میثاق لیا جاتا ہے۔سورۂ آل عمران رکوع ۹ا میں تمام اہل کتاب سے اس بات کا میثاق لیا جاتا ہے کہ خدا کی جو کتاب تمہارے حوالے کی گئی ہے،اس کی تعلیمات کو چھپائو گے نہیں بلکہ اس کی عام اشاعت کرو گے۔ سورۂ اعراف رکوع ا۲ میں بنی اسرائیل سے عہد لیا جاتا ہے کہ وہ اﷲ کے نام پر حق کے سوا کوئی بات نہ کہیں گے،اور اﷲ کی دی ہوئی کتاب کو مضبوط ہاتھوں سے تھامیں گے اور اس کی تعلیمات کو یاد رکھیں گے۔سورۂ مائدہ رکوع ۱ میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروئوں کو ایک میثاق یاد دلایا جاتا ہے جو انھوں نے اﷲ سے کیا تھا، اور وہ یہ ہے کہ’’تم اﷲ سے سمع وطاعت کا عہد کرچکے ہو۔‘‘اب سوال یہ ہے کہ اگر سورہ احزاب والی آیت میںمیثاق کے مضمون کی تصریح کے بغیر مجردمیثاق کا ذکر آیا تھا تو اس خلا کو ان بہت سے میثاقوں میں سے کسی ایک سے بھرنے کے بجائے بالخصوص سورۂ آل عمران رکوع۹ والے میثاق ہی سے کیوں بھرا جائے؟اس ترجیح کے لیے خود ایک دلیل درکار ہے جو کہیں موجود نہیں۔ اس کے جواب میں اگر کوئی یہ کہے کہ دونو ں جگہ چوں کہ نبیوں سے میثاق لینے کا ذکر ہے،اس لیے ایک آیت کی تشریح دوسری آیت سے کرلی گئی، تو میں عرض کروں گا کہ دوسرے جتنے میثاق بھی انبیا کی اُمتوں سے لیے گئے ہیں،وہ براہ راست کسی اُمت سے نہیں لیے گئے بلکہ انبیا کے واسطے ہی سے لیے گئے ہیں۔ اور آخر قرآن میں بصیرت رکھنے والا کون شخص اس بات سے ناواقف ہے کہ ہر نبی سے کتاب اﷲ کو مضبوط تھا منے اور اس کے احکام کی پیروی کرنے کاعہد لیا گیا ہے؟

تیسری دلیل یہ ہوسکتی تھی کہ سورۂ احزاب کا سیاق وسباق یہ بتا رہا ہوتا کہ یہاں میثاق سے مراد آنے والے نبی پر ایمان لانے کا میثاق ہی ہوسکتاہے۔لیکن یہاں معاملہ بالکل ہی برعکس ہے۔سیاق وسباق تو اُلٹا اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ یہاں یہ معنی ہو ہی نہیں سکتے۔سورۂ احزاب شروع ہی اس فقرے سے ہوتی ہے کہ:’’اے نبی! اﷲ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں سے نہ دبو،اور جو وحی تمہارا رب بھیجتا ہے،اسی کے مطابق عمل کر و اور اﷲ پر بھروسا رکھو۔‘‘ اس کے بعد یہ حکم سنایا جاتا ہے کہ جاہلیت کے زمانے سے متبنّٰی بنانے کا جو طریقہ چلا آرہا ہے،اس کو اور اس سے تعلق رکھنے والے تمام اوہام اور رسموں کو توڑ ڈالو۔اس کے بعد فرمایا جاتا ہے کہ غیر خونی رشتوں میں صرف ایک ہی رشتہ ایسا ہے جو خونی رشتوں سے بھی بڑھ کر حرمت والا ہے،اور وہ ہے نبی اور مومنین کا رشتہ،جس کی بنا پر نبیؐ کی بیویاں ان کی مائوں کی طرح ان پر حرام ہیں،ورنہ باقی تمام معاملات میں رحمی اور خونی رشتے ہی اﷲ کی کتاب کی رو سے حرمت اور استحقاق وراثت کے لیے اولیٰ وانسب ہیں۔یہ احکام بیان فرمانے کے بعد اﷲ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ میثاق یاد دلاتا ہے جو اس نے تمام انبیا سے ہمیشہ لیا ہے اور ان کی طرح آپؐ سے بھی لیا ہے۔ اب ہر معقول آدمی خود ہی دیکھ سکتا ہے کہ اس سلسلۂ کلام میں آخر کس مناسبت سے ایک آنے والے نبی پر ایمان لانے کا میثاق یاد دلایا جاسکتا تھا؟یہاں توا گر یاد دلایا جاسکتا تھا تو وہی میثاق یاد دلایا جاسکتا تھاجو خدا کی کتاب کو مضبوط تھامنے اور اس کے احکام کو یاد رکھنے اور ان پر عمل کرنے اور دنیا پر ان کا اظہار کرنے کے لیے تمام انبیا سے لیا گیا ہے۔ پھر آگے چل کر ہم دیکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نبی صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو صاف صاف حکم دیتا ہے کہ آپ خود اپنے متبنّٰی زیدؓبن حارثہ کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرکے جاہلیت کے اس وہم کو توڑ دیں جس کی بنا پر لوگ منہ بولے بیٹے کو بالکل صلبی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ اور جب کفار و منافقین اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ ان کو علی الترتیب تین جواب دیتاہے:

(۱) اوّل تو محمدتم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں کہ اس کی مطلقہ بیوی ان پرحرام ہوتی۔

(۲) اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ وہ ان کے لیے حلال تھی بھی تو اس سے نکاح کرناکیا ضرور تھا، تو یہ اس لیے ضروری تھا کہ وہ اﷲ کے رسول ہیں جس کاکام یہی ہے کہ جس چیز کو اﷲ مٹانا چاہتا ہے، اسے خود آگے بڑھ کر مٹائے۔

(۳) اور مزید برآں ان کو ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ محض رسول ہی نہیں ہیں بلکہ خاتم النبیین ہیں،اگر وہ جاہلیت کی ان رسموںکو مٹا کر نہ جائیں گے تو پھر کوئی ایسا نبی آنے والا بھی نہیں ہے جو انھیں مٹائے۔

اس مضمون لاحق کو اگر کوئی شخص مضمون سابق کے ساتھ ملاکر پڑھے تو وہ چین کے ساتھ یہ کہہ دے گا کہ اس سیاق وسباق میں جو میثاق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دلایا گیا ہے،اس سے مراد اور جو میثاق بھی ہو، بہرحال کسی آنے والے نبی پر ایمان لانے کا میثاق تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔

دیکھ لیجیے،آیت زیر بحث سے قادیانیوں کے بیان کردہ معنی لینے کے لیے یہی تین دلیلیں ہوسکتی تھیں،اور یہاں ان میں سے ہر دلیل ان کے مدعا کے لیے غیر مفید، بلکہ اُلٹی ان کے مدعا کے خلاف ہے۔ اب اگر ان کے پاس کوئی چوتھی دلیل ہو تو وہ ان سے دریافت کیجیے، اور ان تینوں دلیلوں کا جواب بھی ان سے لیجیے۔ ورنہ یہ ماننے کے سوا چارہ نہیں کہ اس آیت سے جو معنی انھوں نے لیے ہیں، وہ یا تو جہالت کی بِنا پر نکالے ہیں،یا پھر خدا سے بے خوف ہوکر خلق خدا کو گمراہ کرنے کے لیے نکالے ہیں۔بہرحال ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر مرزا صاحب نبی تھے تو آخر کیامعاملہ ہے کہ ابھی ان کے صحابہ کا دور بھی ختم نہیں ہوا ہے اور ان کی ساری اُمت اس وقت تابعین اور تبع تابعین پر مشتمل ہے۔پھر بھی حال یہ ہے کہ کتاب اﷲ سے ان کی اُمت میں علی الاعلان ایسے غلط استدلال کیے جاتے ہیں اور پوری اُمت میں ایک آواز بھی اس جہالت یا ناخدا ترسی کے خلاف بلند نہیں ہوتی۔ (ترجما ن القرآن۔رمضان،شوال ا۳۷اھ، جون،جولائی۹۵۲اء)